Two young officers and four soldiers embraced shahadat today, over a dozen police officers yesterday. Endless political crisis has taken our eyes off real issues-terrorism and economy. It’s high time we take pause and reflect on the path we’ve put this country on!
This is so sad. Akbar came to us one month back and in his call on to me he was grieving his younger brother an SI from NHMP who was martyred one month ago at Kamra interchange.
He was worried too that young kids of his brother were his responsibility now. Contd...
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں روزانہ گیارہ بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں بچوں کے خلاف سب سے زیادہ جرائم پنجاب میں ہوتے ہیں جن کا تناسب 80 فیصد ہے سندھ میں 15 فیصداور باقی پاکستان میں بچوں کے خلاف پانچ فیصد جرائم ہوتے ہیں اسمبلیوں میں اس معاملے پر بحث اور قانون سازی کی ضرورت ہے
ایشاء کے چہرے پر تیزاب پھینکنے والے نے سمجھا تھا کہ بس اب اُس کی زندگی ختم۔۔۔ لیکن اللہ نے ہمیں ایشاء کی زندگی بچانے کا وسیلہ بنا دیا۔ ویڈیو دیکھ کر آپ کا دل خوش ہو جائے گا ❤️
یہ ڈیڑھ سال کی معصوم بچی کراچی کی آئزل ہے ۔ جس کیساتھ 4 اگست کو درندگی ہوئی اور آج 26 روز گزر چکے ہیں لیکن ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی ۔ بچی کی والدہ جب تھانے گئی تھی تو وہ بتاتی ہیں کہ ملزم منان ہنس رہا تھا ۔
جبکہ والدہ کہتی ہیں کہ ان کو بتایا گیا ہے ڈی این اے رپورٹ آنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں ۔
آیت نور کی موت کی وجہ تو کم از کم بتادی گئی ہے لیکن آئزل کے پوسٹ مارٹم میں وجہ کو محفوظ کرلیا گیا ہے بتایا نہیں گیا ۔ کیوں ؟
قصور کی زینب انصاری کی لاش 9 جنوری 2018 کو ملی۔ 12 جنوری تک DNA analysis سامنے آ چکا تھا۔ جبکہ 1150 لوگوں کا ڈی این اے لیا گیا اور 814 ملزمان سے ڈی این اے کو میچ کیا گیا تھا جس میں سے عمران علی کا میچ ہوا تھا ۔ جبکہ یہاں تو ملزم بھی گرفتار ہے اور ایک ہی ہے تو پھر اتنی تاخیر کیوں ؟
آئزل کی والدہ کے مطابق ملزم کے خاندان کی طرف سے منان کو کم عمر اور ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں انصاف کی امید نظر نہیں آ رہی اور وہ انصاف کے لیے سڑکوں پر آواز اٹھائیں گی۔
#JusticeForAyatNoor #JusticeForAizal
پمز میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ تکلیف دہ اور قابل افسوس ہے۔ ابھی جون 2024 میں ساہیوال میں گیارہ نومولود بچوں کے جل کر جاں بحق ہونے کا زخم مندمل نہیں ہوا کہ ایک اور سانحہ۔۔۔
جو حکومتیں اپنے پھول جیسے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتیں انہیں برقرار رہنے کا کیا حق ہے؟
جب فوجی افسر اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر آرام سے جا رہا تھا تو سٹوڈنٹس نے انکا راستہ کیوں روکا؟ انکے گرد جتھا کیوں بنایا؟ تب تک تو اسکے ہاتھ میں گن نہیں تھی۔ وہ صرف سیلف ڈیفنس میں نکالی جب جتھے نے اسکو بیوی سمیت زدوکوب کرنا شروع کیا۔
اتنی واضح ویڈیو کے باوجود فوجی افسر بدمعاش ہوگیا۔
ایک گروپ کیپٹن کسی اور کی بیٹی کی عزت و آبرو بچاتا ہوا ایک اوباش کے ہاتھوں اپنی قیمتی جان گنوا دیتا ہے تو وہ ٹھیک ہے
لیکن
جب ایک آرمی آفیسر اپنے ہی گھر کی خاتون کی عزت بہت سے بدمعاشوں سے بچانے پہنچتا ہے تو وہ غلط
کیوں ؟؟؟
آیت نور کے والد محمد شفیق غم سے کرب سے بے حال ہیں ۔ اللہ کسی دشمن پر بھی یہ دن نہ لائے ۔ پاکستان کے طاقتور لوگوں سے درخواست ہے کہ پاکستان میں ہر رنگ کے قوانین بنتے ہیں ۔ ایک قانون بنادیں کہ جو کوئی بھی ایسی دردنگی کرے اس کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ متاثرہ خاندان کرے گا ۔ ایسے مجرمان کو محمد شفیق جیسے والدین کے حوالے کرنا چاہیے ۔ شاید کہ ان کے دل کو کچھ تو سکون مل جائے ۔
#JusticeForAyatNoor
راولپنڈی کی دو ہنا، جنہیں عورت ہونے کی سزا دی گئ۔
پہلی نے شوہر کے ظلم سے بھاگ کر لاہور پناہ لی ، والد حلف نامہ لکھ کر بیٹی واپس لایا اور مار دیا۔۔۔
دوسری کو پڑھے لکھے شوہر نے تشدد کر کے مار دیا۔۔
ماں لیجئے اس معاشرے میں عورت جاہل ہو سکتی ہے ، اس سے لہسن ادرک کی بو بھی ا سکتی ہے۔۔۔۔
لیکن وہ اتنی گھٹیا نہیں ہوتی کہ تین تین سال کے بچوں کا ریپ کر دے یا غیرت کے نام پر بھائ، باپ یا بیٹے قتل کر دے۔
دعا کیجئے اس پرتشدد گمراہ معاشرے پر قدرت اپنا کچھ رحم و کرم کر دے ورنہ یہ گھٹن رشتوں اور چار دیواری کے تقدس کو تباہ کر دے گی۔
Faisal, a NUST professor, brutally murdered his wife, whom he had married only 10 months ago.
this is the state of those who are supposed to educate and shape the next generation… this country is literally rotten to the core.
جب اسپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں
"یہ تو کھیل ہے"
اور جب ڈنمارک میں ہزاروں افراد سینکڑوں ڈالفن کو قتل کر دیتے ہیں
(یہاں تک کہ سمندر سرخ ہو جاتا ہے)
یہ کہتے ہیں
"یہ تو ایک تہوار ہے"
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزار مرغیوں کو پتھر پر مار دیتے ہیں ان کے مطابق اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
وہ کہتے ہیں
"یہ ہمارا عقیدہ اور مذہب"
اور جب عیسائی نئے سال کے دن بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کو اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں
لیکن جب مسلمان اللہ کی خاطر کسی جانور کو قربان کر کے اتنا احتیاط برتے کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ اور پانی ڈال کے اور پھر یہ خیال رکھ کے کہ سامنے کوئی اور جانور بھی نہ ہو پھر انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو کفار کے پلے ہوئے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے
Can you imagine the terror and horror Israel inflicts on Palestinian children, women, and men in detention centers when the cameras are away?
This is Israeli terrorism.
ظلم کی انتہا دیکھئے
صبح سویرے قریباً 4 ماہ کا بچہ اسپتال کے مین گیٹ پر بنا کسی وارث کے ایک فروٹ کی ٹوکری میں پایا گیا۔
اسپتال میں موجود اسٹاف نے کسی بچی سے کپڑے ادھار لے کر اس بچے کو پہنائے۔
خیر بچہ اس وقت اسپتال انتظامیہ کی تحویل میں ہے ایک ہفتہ کسی وارث کا انتظار کیا جائے گا اور اسکے بعد بچے کو لاہور میں کسی ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں اس بچے کیلئے اچھے والدین کی تلاش کی جائے گی۔
بچے کی حرکات بتاتی ہیں کہ ماں کا دودھ بھی پیتا تھا اور ماں کی تلاش میں ہے۔
کافی حد تک امکانات ہیں کہ اغواء یا جائیداد کا معاملہ ہو گا کیونکہ اتنا خوبصورت بچہ کوئی کیسے یوں اسپتال کے دروازے پر چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ میری تو بڑی خواہش ہیں کہ بچے کے والدین مل جائیں۔
اگر اس بچے کی تصویر وائرل ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے بچے کے حقیقی والدین مل جائیں۔ (اِن شاء اللّٰه)
اس پوسٹ کا مقصد بچے کی لواحقین کی تلاش ہے۔
سو اس پوسٹ کو دل کھول کر شیئر کریں
شکریہ ۔
جب ایران جنگ شروع ہوئی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے لیٹر تھی آج 393روپے ہو چکی ہے دوران جنگ پیٹرول میں 135 روپے اضافہ ہو چکا ہے
جب کہ انڈیا میں جنگ کے شروع کے وقت دہلی میں پیٹرول 94 روپے لیٹر تھا آج بھی اتنے کا ہے انڈیا نے اس دوران پیٹرول ڈیزل سے ٹیکس ہٹا دیا اور قیمت مستحکم رکھی ہے
یورپ اور امریکہ کی قیمتیں بتانے والے یہ نہی بتائیں گے