Your Ram couldn’t get one Hindu footballer to the World Cup, meanwhile 13 Muslim nations are competing there, and many Muslim players are staring for other teams.
معیشت واقعی ٹھیک ہوگئی ہے؟ کس شہر میں ٹھیک ہوئی ہے؟
بجلی ایک سال میں 60 فیصد مہنگی ہوئی ہے، 2022 سے روپیہ 70 فیصد گرا ہے، قیمتوں میں کم از کم اوسط 80 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، ٹیکس ہر چیز پر بڑھے ہیں، ایکسپورٹس سکڑی ہیں جب کہ آمدنی وہیں کھڑی ہے تو یہ معیشت کس کی ٹھیک ہوئی ہے؟
سر پیٹرولیم لیوی کا بھی پوچھ لیتے۔۔۔اکانومی کو کور کرنیوالے نامور رپورٹرز کے مطابق حکومت نے اۤئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کا پورے سال کیلئے دیا گیا ہدف مالی سال کے صرف 11 ماہ یعنی مئی 2026 تک پورا کر لیا تھا۔۔اگر ایسا ہوا ہے تو عوام سے 12ویں مہینے یعنی جون میں پیٹرول/ڈیزل پر مجموعی طور پر 140 روپے سے زائد لیوی کیوں لی جا رہی ہے؟ کم از کم جون میں اس لیوی کو صفر یا سنگل ڈیجٹ میں لاکر عوام کو 140 روپے کے ریلیف سے کیوں محروم رکھا گیا؟
تحریک انصاف کی قیادت کو جو لامتناہی فری ہٹ ملی ہے اس پر سنچری سکور کریں۔ ہر سطح پر 2018 اور 2024 کے انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو تسلیم کریں۔ سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھیں۔ تمام صوبائی تنظیمیں ہائیکورٹس کو تحقیقات اور کمیشن کے لیے خط لکھیں۔ وزیر اعلی ، چئیر مین ، سیکرٹری جنرل پریس کانفرنسز کرکے تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ فارم 45 و 47 سامنے رکھیں۔ 2018 کے وہ اراکین جو آج بھی تحریک انصاف میں ہیں وہ میڈیا پر حلف دیں کہ وہ کیسے الیکشن جیت کر آئے۔ اس مدعے کو اتنا اٹھائیں کہ آئندہ یہ لوگ 2018 کا 2024 سے موازنہ کرنے کی ہمت نہ کریں۔
یہ جانتے ہوئے کہ یہ سیاسی نابالغ یہ سب بھی نہیں کرپائیں گے ان کا ایڈوانس میں فٹے منہ۔
الیکشن 2018 میں تحریک انصاف این اے 21 مردان عاطف خان کی نشست 33 ووٹس کے مارجن سے بھی ہاری۔ ایسے تھوڑے سے مارجن سے ہاری جانے والی نشستوں کی تعداد درجن بھر ہے۔ اگر تحریک انصاف دھاندلی سے آئی ہوتی تو یہاں تیس چالیس ووٹ مسترد کروا لیتی ، کسی ایک پولنگ سے جعلی فارم پینتالیس نکلوا لیتی۔
پنجاب میں بے گناہوں کا کھلا قتلِ عام جاری ہے۔ سی سی ڈی کو کھلی چھوٹ ملنے کے بعد مجرموں سے زیادہ معصوم لوگ نشانہ بن رہے ہیں۔ چکوال میں کار پر اندھا دھند فائرنگ سے معصوم بچی کی ہلاکت اس کی تازہ مثال ہے۔
عمران خان کے دور میں سانحہ ساہیوال ہوا، بہت شور مچا، میڈیا نے بڑھ چڑھ کر مہم چلائی جو کہ اچھی بات تھی۔
ن لیگ کے دور میں چکوال میں اسی طرح کی صورتحال میں ایک گاڑی پر گولیوں کی بارش کی گئی، ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی اور باقی زخمی ہونے کے باوجود خوش قسمتی سے بچ گئے مگر اس پر ہر طرف مکمل خاموشی ہے۔ میڈیا کو اب انصاف دلوانے میں دلچسپی کیوں نہیں ہے؟
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
سہیل آفریدی نے اچھی خاصی موبلائزیشن کا سلسلہ ختم کردیا۔ مہینوں تک سہیل آفریدی اڈیالہ نہیں گیا۔ اسمبلی سے کوئی قانون منظور نہیں کروایا۔ کوئی تحقیقاتی کمیشن نہیں بنایا۔ عمران خان کی بینائی کے مسئلے پر خودساختہ محصوری کا ڈرامہ کیا۔ اچھا خاصا وقت لیکر اسے ضائع کردیا۔ اب سہیل آفریدی کے اسٹنٹ اسے کچھ فائدہ نہیں دینے والے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
Prayers for Imran Khan’s health. The news that he has been moved to the hospital is worrying. His personal doctors should be allowed to see him or be kept informed about his condition. The people of Pakistan should also be updated about his current health status. May Allah grant him good health, a speedy recovery, and keep him safe. Ameen
صوبائی کابینہ پوری کرنا
فیصل کریم کنڈی سے ائے روز ملاقاتیں
مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقاتیں
وفاقی وزیر احسان اقبال سے ملاقات
آج شہباز شریف سے بجٹ پر ملاقات
بجٹ میں 305 ارب روپے وفاق کو دینا
صوبائی بجٹ تیار کرنا اور کابینہ سے پاس کرنا
یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہا ہے لیکن جب سوال ہوتا ہے کہ خان صاحب کی رہائی کیلئے تحریک کا اعلان کا کرو تو آگے سے کہتے ہے کہ جب خان صاحب کا حکم ائے گا تب ہم نے کرنا ہے باقی ہر ایک کام خان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ہو رہا ہے لیکن جو اصل کام ہے خان صاحب کی رہائی کی تحریک وہ کام یہ نہیں کر رہے ۔۔!
آفریدی صاحب آپ نے آج شہباز شریف سے ملاقات کی ،بقول آپکے آپ نے صوبے کے حقوق کے لیے ملاقات کی۔
کچھ سوالات ہیں جن کا جواب آپکو دینا ہو گا۔
کیا آپ نے وہاں عمران خان سے ملاقات کرنے کا معاملہ اٹھایا؟
کیا بجٹ سے پہلے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی ہوئی؟
کیا خیبر پختون خواہ حکومت سر پلس بجٹ دینے جا رہی ہے؟
@SohailAfridiISF
سہیل آفریدی پر تنقید صوبے کے بجٹ کے لیے وفاق سے رابطوں پر تنقید نہیں ہورہی۔
سہیل آفریدی پر تنقید اس لیے ہورہی ہے کہ ؛
ڈرون حملوں پر ایف آئی آر دیے بغیر
فوجی آپریشن روکے بغیر
سٹریٹ موومنٹ کے بغیر
اسمبلی کو قانون سازی کے لیے استعمال کیے بغیر
رجیم چینج کے بعد کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنائے بغیر
عمران خان کے لیے اڈیالہ جائے بغیر
سہیل آفریدی وفاقی کٹھ پتلیوں سے مل رہا ہے اور اس سب کا مطلب مائنس عمران خان ہے۔
🔺Punjab is the epicentre of Dunki in Pakistan.
🔺Punjabis are estimated to make up 45–55% of the Pakistani diaspora abroad.
🔺Every second barber in cities like Karachi, Peshawar and Islamabad is from Punjab.
🔺The same cities are full of Punjabi labourers and daily wagers earning an honest living.
🟢 No hate for them, they’re earning halal income and have every right to work wherever they want in Pakistan.
🔻What’s hilarious is the attempt to sell Punjab under the Sharif mafia as some sort of Europe. If Punjab is a paradise, why are millions of children still out of school? Why are so many Punjabis risking their lives on Dunki routes and migrating abroad in record numbers? Why do crime, unemployment and poverty remain persistent problems? Propaganda is one thing, reality is another.
سہیل آفریدی تحفظات کے اظہار کے لیے ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بیٹھا؟
عمران خان کسی سیاسی گفتگو کے لیے آخری دفعہ ان کے ساتھ 2008 میں بیٹھا تھا پھر نہیں بیٹھا۔ ایک اے پی ایس کے بعد والی آل پارٹیز کانفرنس الگ ٹھہری۔ عمران خان جتنا عرصہ حکومت میں رہا ان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔ باجوہ اور پھر عاصم منیر بار بار کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح عمران خان ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بات چیت پر آمادہ ہو ان کیساتھ کوئی ڈیل کرے یا کسی قومی حکومت پر رضا مند ہوجائے، عمران خان نے انکے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اب جب وزیر خزانہ فوج کا بندہ ہے۔ معاشی پالیسیاں سب فوج کی ہیں ، ایسے میں ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بیٹھنا جن کی اپنی نشستیں فوج کی مرہون منت ہیں ؟ جو کوئی معاشی یا سیاسی فیصلہ خود نہیں کرسکتے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ فوج کی خواہش پر ان کٹھ پتلیوں کو اور اس جعلی نظام کو شرف قبولیت بخشا جارہا ہے۔ اس ملک پر مسلط کی جانے والی تباہی اور عمران خان پر ہونے والی سختیوں پر ردعمل دینے کی بجائے الٹا انہیں سپیس دی جارہی ہے۔ یہ کوئی سسٹم ، کوئی مجبوری یا کسی تحفظات کا اظہار نہیں حکم کی تعمیل ہے۔
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔