اگر PTI کی قیادت قومی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو بات کریں- عمران خان ۳ سال سے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں اور جعلی قیادت اپنی موج مستی میں ہے- خان کی رہائی صرف مزاکرات سے ہی ممکن ہے مگر PTI قیادت نہیں چاہتی- ان کو خان کے بغیر مزا آ رہا ہے-
ہم ۳ مہینے میں مسئلہ حل کر سکتے ہیں جو ان سے ۳ سال سے نہیں ہو سکا- اس پوری قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اور ہم سے بات کریں-
گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری عمل پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جس جماعت کو اکثریت سے کامیاب کیا ہے، وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ امید ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے خطے کی ترقی، خوشحالی، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور کارکنان کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ عوام کے فیصلے کا احترام ہی جمہوریت کی اصل روح ہے، اور اب تمام سیاسی قوتوں کو مل کر گلگت بلتستان کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کام کرنا چاہیے۔
سول اسپتال کوئٹہ کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کا افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ کسی بھی عورت کو، خواہ وہ ڈاکٹر ہو، طالبہ ہو، پیشہ ور خاتون ہو یا گھریلو عورت، تشدد، انتقام اور نفرت کا نشانہ بنانا انتہائی سفاکیت، اخلاقی پستی اور قانون سے بے خوفی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی درندگی کی جرأت نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت، برداشت، احترامِ انسانیت اور خواتین کے حقوق سے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عورت کا احترام، تحفظ اور عزت ہی ایک مہذب، محفوظ اور باوقار معاشرے کی پہچان ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ہم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
میری وزیراعلیٰ سندھ @MuradAliShahPPP اور میئر کراچی @murtazawahab1 کو ایک مخلصانہ تجویز ہے کہ کراچی میں سڑکوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت اور مؤثر پالیسی بنائی جائے۔ جو بھی کنٹریکٹر شہر میں سڑک تعمیر کرے، اسے کم از کم 5 سال تک اس سڑک کی مکمل ذمہ داری دی جائے۔ اگر اس عرصے میں سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، گڑھے پڑ جائیں یا کسی بھی قسم کی خرابی پیدا ہو تو اس کی مرمت اسی ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہو۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہی نظام رائج ہے، جس سے تعمیراتی معیار بہتر رہتا ہے اور عوام کو بار بار خراب سڑکوں کی پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی۔ اگر کراچی میں بھی یہ اصول نافذ ہو تو شہر کا انفراسٹرکچر بہتر ہوگا، وسائل بچیں گے اور شہریوں کو بہتر سہولت میسر آئے گی۔
میں تمام اسماعیلی برادری کو ان کے حاضر امام ہز ہائنس پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان آمد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بلاشبہ آغا خان خاندان کی پاکستان کیلئے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ چاہے ایجوکیشن سیکٹر ہو، صحت کا شعبہ ہو، زراعت، خواتین کی ترقی، دیہی ترقی یا نوجوانوں کی فلاح، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک نے ہمیشہ عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دی ہے۔ گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام، جدید زرعی طریقوں کا فروغ، ہسپتالوں اور فلاحی منصوبوں کی تعمیر اس عظیم مشن کا حصہ ہیں جنہوں نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ اس پس منظر میں پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان آمد کو میں محبت، اتحاد، ترقی اور بھائی چارے کا خوبصورت پیغام سمجھتا ہوں اور ان کی تشریف آوری کو پاکستان کیلئے ایک خوش آئند موقع سمجھتا ہوں۔
NDC delegation met with Pir Sahib Pagara today. We had detailed discussions on forming a National Government to chart a clear way forward for Pakistan, restore stability, and ensure free, fair elections in the future.
Pakistan’s future must come first. 🇵🇰
آج میری رہائشگاہ پر کراچی سے تعلق رکھنے والے مختلف یوسی چیئرمینز نے ملاقات کی، جس میں فواد چوہدری، عمران اسماعیل، عامر محمود کیانی، بیرسٹر سیف، سینیٹر شہزاد وسیم، محمد علی درانی اور عباس جعفری بھی شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران کراچی کو درپیش مسائل، شہری صورتحال، بلدیاتی امور اور عوام کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ شہرِ قائد کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ اور سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
اس موقع پر کراچی کے بنیادی مسائل، شہری سہولیات کی بہتری، بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی رابطے اور مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
آج قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے، مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے اور ابھرتے ہوئے سیاسی رہنما ذوالفقار جونیئر بھٹو سے ملاقات کا موقع ملا۔
اس ملاقات کے دوران عوامی حقوق اور ملک و قوم کو درپیش سماجی و انتظامی چیلنجز پر نہایت سنجیدہ، مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی۔ سندھ کے غریب عوام اور پسے ہوئے طبقات کا درد اور ان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ذوالفقار جونیئر کے خیالات اور نظریات کو سن کر دلی خوشی ہوئی۔
ان کے لیے نیک تمنائیں اور دعائیں کہ وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوں اور عوام کی امیدوں پر پورا اتریں۔
آج میری رہائشگاہ پر سندھ کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے اپنی تشریف آوری سے عزت بخشی، جن میں پیر صاحب پگاڑا کے صاحبزادے سید محمد راشد علی شاہ، معظم عباسی، حسنین مرزا، میر مظفر بروہی، سید معشوق شاہ، عباس جعفری، سنجے گنگوانی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل شامل تھے، جہاں ملک و قوم کی مجموعی سیاسی صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی اور مفید تبادلہ خیال کیا گیا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ایف بی آر پنجاب کے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی سرکاری قیمتوں میں 10 سے 35 فیصد تک کمی کر رہا ہے تاکہ انہیں موجودہ مارکیٹ ریٹس کے قریب لایا جا سکے، مگر سندھ میں ایسا کیوں نہیں؟
سندھ کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ کے بڑے شہروں میں اسی نوعیت کاریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اگر سندھ میں بھی پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس کو کم کیا جائے تو نہ صرف خریداروں اور فروخت کنندگان کو فائدہ ہوگا بلکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی فروغ ملے گا، سرمایہ کاری بڑھے گی اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔
اسلام آباد میں میری رہائشگاہ پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اراکین اور ملک کے سیاسی و پارلیمانی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف صاحب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی کامیاب سفارتکاری، مشرق وسطیٰ بڑے سانحے سے بچ گیا۔
بطور پاکستانی مجھے اپنی قیادت پر فخر ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا۔
پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ مذاکرات جمعے سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کا باعث بنے گی بلکہ پاکستان کے کردار کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی اجاگر کرے گی۔ ایسے اقدامات دنیا میں امن، استحکام اور مثبت سفارتکاری کے فروغ کی علامت ہیں۔
اللہ کرے پاکستان اسی طرح عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کرتا رہے اور امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
حکومتِ سندھ سے پُرزور اپیل ہے کہ فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کو ایلومینیم فوائل انسولیشن حفاظتی لباس (RGF-FB) فوری طور پر فراہم کیا جائے، تاکہ شدید آگ اور انتہائی خطرناک حالات میں فرائض انجام دیتے ہوئے وہ اپنی جانوں کو محفوظ رکھ سکیں اور قیمتی انسانی جانیں بچا سکیں۔ہمارے فائر فائٹرز روزانہ اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کرتے ہیں، لہٰذا ان کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔سندھ حکومت کو چاہیے کہ15 سے 20 روز کے اندریہ حفاظتی لباس منگوانے کی سنجیدہ کوشش کرے، اور اگر کسی وجہ سے حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہو تو میں یہ لباس منگوانے کے لیے تیار ہوں۔
حکومت کی متضاد اور ناقص پالیسیوں نے پاکستانی چاول کی برآمدات کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ پہلے برآمدات پر سبسڈی دی گئی، اور اب Minimum Export Price مقرر کر دی گئی ہے، جس پر عالمی منڈی میں چاول برآمد کرنا عملاً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف ایکسپورٹرز بلکہ ملکی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس پورے عمل میں حکومت کے علاوہ کون دیگرعناصر بھی شامل ہیں جوپاکستانی چاول کو عالمی مارکیٹ سے باہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
حکومت پاکستان چاول کے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ کل شام کو منسٹری آف کامرس کے اجلاس میں سبسڈی دینے کی بات ہوئی۔ ہم سبسڈی دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ ملک کے اور چاول کے ایکسپورٹرز کے مفاد میں نہیں۔ چاول کی ایکسپورٹس پر سبسڈی دینا چاول کی ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کی تیاری ہے