कल जो तन्हां मक़तल में खड़ा था आज उस के साथ दुनियाँ दिखाई देती है।
इस साल करबला में 19999870 से अधिक ज़ियारत करने वाले रोज़े अरबईन मौजूद थे।
मौला सब मोमिनीन कि ज़ियारत क़बूल फरमाएं
#ArbaeenWalk#ImamHussain#Karbala
जिस उम्र में बच्चे मोबाइल गेम खेलने की ज़िद करते हैं, हमारी औलादें उस उम्र में मजलिस-ए-इमाम हुसैन (अ.स.) में जाने की ज़िद करती हैं, ताकि कर्बला में इंसानियत पर हुए सबसे बड़े ज़ुल्म को याद करके इमाम हुसैन (अ.स.) के ग़म में आँसू बहा सकें।
#TheMessageOfKarbala के साथ पोस्ट करें!
ہائے جب اہل حرم قید سے یثرب پہنچے
لڑکھڑاتے ہوئے زینب س نے قدم گھر میں رکھے ۔
ماں نے جب عون و محمد کے مصلے دیکھے
صبر پھر ٹوٹ گیا ماں یہ رو کہ بولی
آج جی بھر کے تمہیں روئے گی ماں عون و محمد
اے میرے دل کے سکون میری جان عون و محمد
#Shehzady_AunOMuhammad
تاریکی سے نور تک: حق کی پہلی دستک
میرا "رحلہ" (سفر) دراصل تبھی شروع ہو گیا تھا جب میں محض دس گیارہ سال کا ایک بچہ تھا۔ میرے والدِ محترم نے مجھے ایک مولانا صاحب کے پاس عربی سیکھنے کے لیے بھیجا، تاکہ میں لغتِ قرآن سے آشنا ہو سکوں۔ مگر وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا۔ وہ صاحب مجھے عربی کے اسباق دینے کے بجائے یزید کی فضیلتیں سناتے اور میرے معصوم ذہن میں نواسۂ رسول، امام حسین علیہ السلام کے خلاف زہر گھولنے کی کوشش کرتے۔ وہ کہتے کہ (نعوذ باللہ) "حسینؑ نے خرو-ج کیا تھا"۔
اگرچہ میں بچہ تھا، مگر میرا ضمیر اس باطل نظریے کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔ اگلے ہی دن میں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔ جب والد صاحب نے پوچھا کہ "بیٹا! اب پڑھنے کیوں نہیں جاتے؟" تو میں نے اپنی معصومیت میں ایک بڑا فیصلہ سنا دیا: "ابو! وہ مولوی صاحب مجھے اچھے نہیں لگتے، وہ یزید کو اچھا کہتے ہیں!" شاید وہ میرے شعور کی پہلی بغاو-ت تھی جو حق کے حق میں اور باطل کے خلاف اٹھی تھی۔
لیکن افسوس کہ جب میں عملی زندگی میں قدم رکھا اور علمِ دین کی پیاس لیے دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتبِ فکر کے مروجہ عالم کورس مکمل کیے، تو وہاں بھی وہی فکری دھند چھائی ہوئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ ان درسگاہوں میں علم سے زیادہ مسلک کی دیواریں بلند ہیں۔ وہ بھی کیا عجیب دور تھا؛ ہم علمِ دین اس لیے نہیں حاصل کرتے تھے کہ حق کو پہچانیں، بلکہ اس لیے سیکھتے تھے کہ دوسرے فرقے کو کیسے زیر کرنا ہے۔ ہماری تمام تر توانائیاں مناظروں، بحثوں اور ایک دوسرے کے خلاف فتوے تیار کرنے میں صرف ہوتی تھیں۔ میرے اردگرد مسلکی تعصبات کی دیواریں اتنی اونچی تھیں کہ حق کا سورج نظر آنا تو دور، اس کی روشنی کا تصور بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ میں فرقوں کی ان بحثوں اور گروہی اختلافات کے جنگل میں بری طرح الجھا ہوا تھا، اور جتنا ان سے نکلنے کی کوشش کرتا، اتنا ہی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔
تعجب کی بات یہ تھی کہ صحاحِ ستہ کی کتابیں ہمارے سامنے تھیں، ہم نے صحیح مسلم بھی پڑھی اور جامع ترمذی کا بھی مطالعہ کیا، مگر ان عظیم درسگاہوں کے در و دیوار نے کبھی اس "حدیثِ ثقلین" کی وہ اہمیت نہیں بتائی جو اس کا حق تھا۔ یہ حدیث ان کتابوں میں موجود تو تھی، مگر اس پر خاموشی کے ایسے دبیز پردے ڈال دیے گئے تھے جیسے یہ دین کا کوئی ثانوی حصہ ہو۔ جب مطالعے کے دوران میرے ذہن میں سوالات دستک دیتے اور میں اپنے اساتذہ سے رجوع کرتا، تو جواب کے بجائے ملامت میرا مقدر بنتی۔ وہ میری تشفی کرنے کے بجائے بات ٹال دیتے اور کبھی سخت لہجے میں طنز کرتے: لگتا ہے تم شیعوں کو سننے لگے ہو؟"
اسی دوران جب میں اپنی بے چین روح کے لیے سکون اور حق کے لیے راستہ تلاش کر رہا تھا، میری نظریں شام اور عراق کے مقت-ل پر ٹھہر گئیں۔ انسانیت تڑپ رہی تھی، لیکن اس سے بھی زیادہ ہولناک منظر یہ تھا کہ 'شیعانِ علیؑ' کا قت-لِ عام ایک باقاعدہ نظریہ بنا کر کیا جا رہا تھا۔ انتہا پسندوں کی وحشت دیکھ کر میرا دل پکار اٹھا کہ "کیا یہ وہی دین ہے جس کے لیے رحمتِ للعالمین ﷺ تشریف لائے تھے؟" ان مظلوموں کا لہو میرے ضمیر پر دستک دے رہا تھا اور میں خود سے سوال کرتا تھا کہ اس نفرت کی جڑ کہاں ہے؟
انہیں دنوں، جب میں حق کی پیاس میں بھٹک رہا تھا، میری ملاقات استاذ حسن فرحان المالکی فرج اللہ عنہ کے افکار سے ہوئی۔ وہ ایک ایسے مردِ جری ہیں جو روایتوں کے انبار میں سے سچ کو نکال لانے کا ہنر جانتے ہیں ۔ میں نے پہلی بار ان کی زبان سے وہ حدیثِ ثقلین سنی جو صحیح مسلم اور ترمذی میں موجود ہونے کے باوجود میرے اساتذہ نے مجھ سے چھپائے رکھی تھی: "میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میری عترت (اہلِ بیتؑ)..." صحیح مسلم 6225, سنن ترمذی : 3786
وہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ میرے وجود پر بجلی بن کر گرے تھے۔ میں نے بچپن سے ہزاروں حدیثیں سنی تھیں، لیکن یہ حقیقت کیوں مجھ سے اوجھل رکھی گئی؟
استاذ کی مدلل گفتگو اور حدیثِ ثقلین کے اس ابدی پیغام نے میرے سامنے حق کا وہ راستہ کھول دیا جس کی تلاش میں میں برسوں سے بھٹک رہا تھا۔
وہیں سے میرا سفر (رحلہ) شروع ہوا۔ نفرت کے تپتے ہوئے صحرا اور مناظروں کی فضول بحثوں سے نکل کر محبت اور معرفتِ اہل بیتؑ کے ٹھنڈے نخلستان کی جانب۔ وہ قت-ل و غارت اور وہ انتہا پسندی جس نے مجھے پریشان کیا تھا، اب مجھے سمجھ آنے لگا تھا کہ ان سب کا علاج صرف اور صرف ثقلین قرآن و اہلِ بیتؑ سے وابستگی میں ہے جنہیں ہم نے پسِ پشت ڈال دیا تھا۔
کتاب : رحلہ مفتی فضل ہمدرد کی بائیوگرافی ( زیرِ قلم )
بدر ، احد ، خندق ، خیبر ، حنین، صفین و نہروان :
کون تھا جو ہمیشہ ثابت قدم رہا ؟؟
کون تھا کہ جس نے کافروں اور منافقوں کے چھکے چھڑا دئیے ؟؟
کون تھا کہ جس نے کافروں اور منافقوں سے جہاد والی آیت کا حق ادا کیا ؟؟
کون تھا کہ جو ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مضبوط قدموں سے کھڑا رہا ؟؟
کون تھا کہ جس سے کفار ، منافقین ، خوارجی اور اہل یہود برابر بغض رکھتے ہیں ؟؟
کون تھا کہ جس نے اسلام کے آغاز سے نفاذ تک ہر قدم رسول اللہ ﷺ مسلسل ساتھ دیا ؟؟
کون تھا کہ جس نے اسلام کی بقا کیلئے آخر اپنی جان بھی قربان کر دی ؟؟
یہ تھے وصی الرسول ، خلیفتہ الرسول ، باب العلم ، امام المتقین ، امام المشارق و المغارب ، امام العالمین ، مولائے کائنات ، مولا علی علیہ السلام،
علی کے مرتبوں کا حال کوئی اور کیا جانے
جناب سرور کونین جانیں اور خدا جانے
#جشن_ولادت_مولا_علی_علیہ_السلام
बात शिया या सुन्नी की नहीं है।
बात बस इतनी सी है कि एक मुसलमान को मालूम होना चाहिये कि उनके "रसूल की बेटी" किस हालत में दुनिया से रुख़सत हुईं ?
और किसकी वजह से उनकी शहादत हुई?
#AyyameFatimiya#MartyrdomOfBibiFatima
पूछना तो पड़ेगा
कौन है वो जिसने अपने नबी की इकलौती बेटी हज़रत फ़ातिमा ज़हरा (स.) का घर जलाया?
कौन है वो जिसने अपने नबी की बेटी पर जलता हुआ दरवाज़ा गिराया?
कौन है वो जिसकी वजह से उसके नबी की बेटी शहादत हो गई?
वो ज़ालिम आतंकवादी कौन है?
#AyyameFatimiya#MartyrdomOfBibiFatima
تفسیر انما کی ہے دروازے کے نیچے
اُمت گزر گئ ہے آیات کچل کر۔۔😭💔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے قاتلوں پر لعنت
#AyyameFatimiya