فضلاء کا گریجویشن تقریب سے واک آوٹ
اسکاٹ لینڈ کی معروف یونیورسٹی آف ایڈنبرا (University of Edinburgh) کی گریجویشن تقریب ایک غیر معمولی احتجاج کا منظر بن گئی، جب وہ فارغ التحصیل طلبہ نے تقریب سے واک آؤٹ کر گئے، جن کے اعزاز میں یہ پروگرام سجایا گیا تھا۔ فضلاء کرام نے اپنی ڈگریاں وصول کرنے کے بعد اجتماعی طور پر تقریب سے واک آؤٹ کرتے ہوئے فلسطین کے حق میں آواز بلند کی۔ جب گریجویٹس ہال سے نکل گئے تو اسٹیج پر بیٹھے اساتذہ اور انتظامیہ والے اپنا منہ لے کر رہ گئے۔ اب کہاں کی تقریب اور کاہے کی تقریریں!؟
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی کی ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جن میں ایمیزون، الفابیٹ (گوگل کی بنیادی کمپنی)، مائیکروسافٹ اور بلیک راک شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں مختلف انداز میں اسرائیلی حکومت یا فوج کے ساتھ کاروباری اور تکنیکی روابط رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں ان سرمایہ کاریوں کو اخلاقی طور پر ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔
گریجویشن گاؤن پہنے طلبہ نے تقریب کے دوران خاموش مگر مؤثر انداز میں ہال سے باہر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر فلسطینی پرچم بھی لہرائے گئے اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسی کمپنیوں سے اپنی سرمایہ کاری واپس لے جنہیں مظاہرین غزہ کی جنگ سے منسلک قرار دیتے ہیں۔
یہ احتجاج یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی متعدد جامعات میں فلسطین کے حق میں چلنے والی طلبہ تحریک کا تسلسل ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ کیمپ لگانے، واک آؤٹ، علامتی بھوک ہڑتال اور تعلیمی بائیکاٹ سمیت کئی پرامن احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ متنازع کمپنیوں سے مالی تعلقات ختم کریں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جامعات صرف علمی ادارے نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی رکھتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی سرمایہ کاری ایسی کمپنیوں میں نہیں رکھنی چاہیے جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہوں۔
دوسری جانب متعلقہ کمپنیاں ماضی میں اپنے کاروباری معاہدوں کو قانونی اور تجارتی نوعیت کا قرار دیتی رہی ہیں، تاہم فلسطین کے حق میں جاری عالمی طلبہ تحریک کے باعث یونیورسٹیوں کی سرمایہ کاری اور کارپوریٹ شراکت داری ایک مرتبہ پھر عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
یہ غور سے پڑھئے کہ ایلن مسک مستقبل کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں AI کی وجہ سے فون کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ مواقعوں کی ایک دنیا کھلنے والی ہے۔ اپنے آپ کو پانچ سال بعد کیلئے ابھی سے تیار کریں۔ میں نے کلاڈ سے پوچھا کہ خود کو کیسے تیار کروں۔ کلاڈ کا جواب نیچے ہے
——————-
ایلون مسک نے کہا: ۵-۶ سال میں اسمارٹ فون ختم ہو جائے گا۔
فون ایک پتلی سی سکرین بن جائے گا — نہ app، نہ OS۔
بس AI جو آپ کی مرضی کی دنیا real-time میں بنائے۔
یہ سنتے ہی ایک سوال ذہن میں آتا ہے:
اس نئی دنیا کے لیے آج سے کیا سیکھیں؟
🔹 پہلا قدم: Edge AI سمجھیں
یہ وہ AI ہے جو آپ کے device پر چلے — server کے بغیر۔
شروع کریں: llama.cpp یا Ollama سے — اپنے laptop پر AI چلا کر دیکھیں۔
🔹 دوسرا قدم: Prompt Engineering
جب apps نہ ہوں تو AI سے بات کرنا ہی سب کچھ ہوگا۔
یہ skill آج بھی کام آتی ہے، کل اور زیادہ آئے گی۔
🔹 تیسرا قدم: AI Agents سیکھیں
وہ AI جو خود سوچے، خود فیصلہ کرے، خود کام کرے۔
شروع: n8n یا LangChain سے کریں — بالکل مفت۔
🔹 چوتھا قدم: مشاہدہ کریں
Apple، Google اور xAI کے on-device AI updates follow کریں۔
جہاں بڑی کمپنیاں پیسہ لگا رہی ہیں — وہی مستقبل ہے۔
Musk کی date غلط بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن direction؟ وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔
جو آج سیکھنا شروع کرے گا — ۲۰۳۰ اس کا ہوگا۔
صاحبو، ٹویٹر "کم الفاظ میں بڑی بات" کہہ دینے کا نام تھا۔ اب "بلیو ٹک" والی ایسی لمبی لمبی داستانیں چھپتی ہیں کہ پڑھتے پڑھتے پوری دوپہر گزر جائے۔
خدا کے لیے کتابیں پبلشرز کو دیں، یہاں ٹریفک جام نہ کریں۔
🌹کیا آپ *نون غنہ* استعمال کرتے ہیں؟؟؟؟
اگر نہیں کرتے تو ضرور کریں آپ کی شخصیت بہت خوبصورت ہو جائے گی۔ 🌹
گزشتہ سال یہی گرمیوں کے دن تھے. مجھے ایک صاحب سے کام تھا. میں دفتر ہی میں خاموش بیٹھ کر اپنی باری انتظار کرنے لگا.
مجھ سے پہلے ایک سبکدوش استاد، جو سفید ریش بزرگ تھے، اپنی گزارش پیش کر رہے تھے.
صاحب اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف تھے. کچھ دیر بعد نظریں اٹھائیں، کرسی کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
*بیٹھو!*
بزرگ خاموشی سے بیٹھ گئے.
پھر صاحب نے ان کی درخواست پر ایک سرسری نظر ڈالی اور بولے:
*جاؤ!*
ان کا یہ انداز مجھے بہت تکلیف دہ محسوس ہوا.
اسی طرح صاحب نے دوسرے سائل سے بھی برتاؤ کیا.
میں نے اپنی فائل میں سے ایک صاف کاغذ نکالا اور لکھنا شروع کیا:
بخدمت جناب ۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب
عنوان: درخواست بمراد شامل کیے جانے *نون غنہ*
گزارش ہے کہ فدوی کافی دیر سے آپ جناب کا طرزِ تخاطب اور اندازِ گفتگو ملاحظہ کر رہا ہے.
بہت نپے تلے الفاظ میں فوری احکامات صادر کرنے کی روش بلاشبہ آپ کو ممتاز کر رہی ہے.
آپ جناب کی سنجیدہ صفات اور ملاحظہ شدہ اوصاف کی بنیاد پر نہایت ادب سے گزارش ہے کہ براہِ کرم اپنے اندازِ گفتگو میں صرف *نون غنہ* کا اضافہ فرما دیجیے،
یعنی *بیٹھو* کو *بیٹھیں*، *سنو* کو *سنیں*،
*دو* کو *دیں*،
*جاؤ* کو *جائیں*
فرما دیا جائے..
بس کمالِ مہربانی سے اپنے الفاظ میں نون غنہ کی شیرینی شامل فرما دیجیے.
آپ کا اقبال مزید بلند ہو، اور آپ کی شخصیت سائلین کے دل میں وقار سے راسخ ہو جائے.
ایسا کیا جانا، سائلین کا عین قانونی، شرعی اور اخلاقی حق ہے.
آپ کا بلاتخصیص *نون غنہ* کا استعمال فرمانا، عین قرینِ انصاف اور خدا ترسی ہوگا۔
میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ عاجزانہ التماس آپ کے مزاجِ شاہانہ پر ناگوار نہ گزرے، اور نہ ہی آپ فدوی کی اس جسارت پر برانگیختہ ہوں گے.
العارض
ایک شہری
جب میں نے یہ درخواست صاحب کے سامنے رکھی تو وہ پڑھتے رہے، زیرلب مسکراتے رہے، پھر اچانک اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے:
*تشریف رکھیں، رانا صاحب!*
پھر انہوں نے بڑی بےتکلفی سے گپ شپ لگائی۔ وہ اپنے پہلے رویے پر نادم تھے.
بغیر کسی عذر یا توجیہ کے، اپنی غلطی تسلیم کی.
میری نظر میں ان کا وقار اور قدرو منزلت کئی گنا بڑھ گئی.
پھر انہوں نے چائے پلائی اور عزت سے رخصت کیا.
احبابِ گرامی!
بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تمام شعبہ ہائے زندگی سے *نون غنہ* کا استعمال تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے.
جس کے نتیجے میں معاشرے سے الفت، پیار، رواداری اور حسنِ اخلاق جیسی نعمتیں بھی رخصت ہوتی جا رہی ہیں.
حتیٰ کہ کچھ بار اولاد، والدین سے گفتگو کرتے وقت بھی *نون غنہ* سے محروم الفاظ استعمال کرتی ہے.
خدارا!
اس *نون غنہ* کو صرف زبان میں نہیں، دل میں جگہ دیجیے.
روزمرہ کی آدھی سے زیادہ تلخیاں، شائستگی کے اسی ایک *نون غنہ* سے گھل مل جائیں گی.
ان شاء اللّٰه
جزاکم اللّٰه خيراً كثيرا و احسن الجزاء في الدنيا والآخرة
منقول
🔴 سائنسدانوں کا کہناہےکہ ہماری کہکشاں، خلا میں تقریباً 600 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سےحرکت کر رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ صرف سیدھی لکیر میں نہیں جارہی بلکہ ہلکی جھول کیساتھ آگے بڑھ رہی ہےجیسے کوئی پرندہ اپنے پروں کو ہلکاساجھٹکا دےکر اڑان بھر رہا ہو۔
ایک چینی صارف نے ویڈیو شیئر کی ہے: ایک خاتون ہواوے کی اسمارٹ کار چلا رہی ہیں۔ گارڈ کہتا ہے “یہاں ایسے پارک نہیں ہو سکتی”، تو خاتون جواب دیتی ہیں “خود ہی پارک ہو جائے گی”۔
گاڑی خودکار طریقے سے پارک ہو جاتی ہے اور گارڈ حیران رہ جاتا ہے۔ واقعی جدید ٹیکنالوجی!
ڈلیوری بوائز پر چلتی ہوئی بحث اور چند باتیں
ڈلیوری بوائز کے پاس چینج نہیں ہوتا وہ 10 سے 20 روپے واپس نہیں کرتے بہانہ بناتے ہیں اور شاید جھوٹ بولتے ہیں
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ مسلہ واقعی ہے کیا۔؟ اصل بات یہ نہیں کہ وہ جان بوجھ کر چینج نہیں رکھتے حقیقت اس سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے ایک ڈلیوری بوائے دن میں درجنوں جگہوں پر جاتا ہے ہر جگہ مختلف رقم اور مختلف چینج کی ضرورت ہوتی ہے اگر وہ ہر آرڈر پر چینج کا انتظار کرنے لگے تو ہر اگلی ڈلیوری لیٹ ہو جائے اور لیٹ ہونے پر کیا ہوتا ہے۔؟ گاہک غصہ بدتمیزی نیگیٹیو ریٹنگ اور کمپنی سے وارننگ
یعنی ایک طرف گاہک جلدی میں دوسری طرف گھر گھر پہنچنے کی دوڑ ایسے میں ہر جگہ مکمل چینج رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا مگر اصل بات یہاں یہ ہے کہ یہ چینج واپس نہ کرنا بد دیانتی یا کرپشن نہیں یہ ایک مجبوری ہے
لیکن اکثر لوگ اس کو جھوٹ چوری اور بہانہ سمجھ لیتے ہیں جو ان کے ساتھ ناانصافی ہے ہم آرام سے گھر میں بیٹھ کر بس ایک کلک کرتے ہیں
وہ گرمی سردی بارش بخار اور موٹر سائیکل کے خرچ کے ساتھ پورا شہر دوڑ رہے ہوتے ہیں
ہمارے مزاج ہمارے رویے ہماری جلدی سب برداشت کرتے ہوئے بھی مسکرا کر "Thank You Sir" کہتے ہیں
اصل اخلاقی قدم کیا ہے؟
اگر 10 یا 20 روپے کبھی واپس نہ بھی ملیں تو
سوچیں کیا یہ رقم اتنی بڑی ہے جتنا اُن کا روز کا تھکا ہوا سفر۔؟
کیا تھوڑا سا صبر اور سمجھداری ہم نہیں دکھا سکتے۔؟
کیا ہم ان کی آسانی کے لیے خود چھوٹے نوٹ نہیں رکھ سکتے۔؟
بجائے پانچ سو ہزار دینے کے جب آڈر کنفرم ہو تو پہلے بل پوچھ کر اتنی رقم خود سے پاس رکھ لیں۔؟
ڈلیوری بوائز جھوٹ نہیں بول رہے وہ زندگی اور روزی کی ریس میں بس سانس لے رہے ہیں ان کے لیے عزت سمجھ اور تھوڑا سا تعاون ہی کافی ہے
چینج نہیں۔؟ چور ہو گا یہ سوچ ہی اصل مسسلہ ہے
ہماری قوم کا مسلہ پیسے کا نقصان نہیں اخلاقی لیبل لگانے کا شوق ہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ہم کردار کشی میں ایک سیکنڈ نہیں لگاتے۔۔۔
سننے میں آیا ہے کہ گوجرہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اذان سے پہلے درود پاک پڑھنے پر امام مسجد کو گرفتار کر لیا گیا۔
اگر یہ سچ ہے تو "مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ"
"مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام"
مسجد میں اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا صدیوں پرانی سنتِ صالحین ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں باقاعدہ طور پر مساجد میں درود شریف کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔
تاریخی حوالہ:
مشہور شافعی مؤرخ امام ابن خلکان (وفات 681ھ) اپنی کتاب وفیات الاعیان میں لکھتے ہیں کہ:
سلطان صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں مساجد کے مؤذن اذان سے کچھ پہلے رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام پڑھنے لگے تاکہ لوگوں کو نماز کی طرف رغبت ہو اور دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی حرارت تازہ ہو۔”
اسی طرح علامہ سخاوی اپنی کتاب القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع میں متعدد علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بلادِ شام، مصر اور حجاز میں صدیوں سے مؤذنین اذان سے پہلے صلوٰۃ و سلام پڑھتے آئے ہیں اور علماء نے اسے حسنِ نیت اور محبتِ رسول ﷺ کے باعث پسندیدہ قرار دیا ہے۔”
فقہی تائید:
امام نووی (شرح المہذب)
امام جلال الدین سیوطی (الحاوی للفتاوی)
علامہ ابن حجر مکی (الفتاوی الکبریٰ)
علامہ احمد صاوی (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان (فتاوی رضویہ)
مجھے پہلے شک تھا اب یقین ہو چلا ہے کہ سنیت کے خلاف ایک منظم محاز کھول دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی غیرت پر اتنا بڑا حملہ پاکستان میں شاید کبھی نہیں ہوا۔
اولیا کرام کی یہ جماعت اب پاکستان میں اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزرے گی۔
دیکھنا یہ ہو گا کہ علماء اہل سنت اس موقع پر کس کشتی میں سوار ہوں گے۔
ان سنی باتیں جواد رضا خان
🚨✈️ فضائی منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دریائے چناب ہیڈ محمد والا سے شیر شاہ ملتان تک تمام علاقے 🌊 شدید سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کھیت، گاؤں اور سڑکیں پانی کے نیچے چھپ چکی ہیں 🚨۔ ہر طرف بس سیلاب ہی سیلاب سمندر کی طرح پھیلا ہے 😢.