سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔
آپ جس بھی سیاسی جماعت سے ہوں، آپ جو بھی سیاسی نقطہ نظر رکھیں، آپ کا حق ہے۔ مگر چھ ججز کے خط کا مسئلہ ہر گز ن لیگ یا پی ٹی آئی سے متعلق نہیں ہے۔ یہ فوج اور آئی ایس آئی کی نظام مملکت میں مداخلت کا مسئلہ ہے۔ اس پر دو رائے ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس پر منافقت برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ان چھ ججز نے فوج اور آئی ایس آئی کی غیر قانونی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ پاکستان میں ایسی آواز اٹھانے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ فوجیوں کے صحافی اور فوج کے ٹاؤٹ قاضی فائز عیسٰی انہی چھ ججز کو نشان عبرت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
ن لیگیوں کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ جب فوج اور آئی ایس آئی نواز شریف کے خلاف فیصلے دینے کیلیے ججز پر پریشر ڈال رہی تھی تو تب جج خاموش تھے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی سب کے سامنے بولے تھے۔ اب اگر ن لیگیوں کی یہ خواہش ہے کہ اس وقت بھی چھ ججز بولتے تو اس وقت چھ ججز تھے ہی نہیں۔ آئی ایس آئی اس وقت کے چیف جسٹس سے رابطہ میں تھی۔ جسٹس صدیقی پر دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے اپنے انداز میں بتا دیا۔ چیف جسٹس تو اس وقت بھی نہیں بولے۔
اس وقت دو ججز پر دباؤ تھا۔ اب سب پر ہے تو سب بول اٹھے ہیں۔ آئی ایس آئی کے خلاف بولے ہیں۔ دلیل اور ثبوت سے بولے ہیں۔ اگر عدلیہ آزاد ہو جاتی ہے تو اس کا فائدہ سب سیاسی جماعتوں کو ہو گا۔ جمہوریت کو ہو گا۔ ان ججز کو نشان عبرت نہیں بننے دینا چاہیے۔ ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ن لیگی اور سوشل میڈیا پر متحرک لوگ جیسے فرحان ورک اور وقاص گورایہ مسلسل چھ ججز کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے کے مصادق آئی ایس آئی کو اپنے ایجنڈے پورے کرنے کیلیے کسی ٹیم کی ضرورت ہی نہیں۔ خدائی خدمت گار ہر اس شخص کو نشان عبرت بنا رہے ہیں جو آئی ایس آئی پر ذرا برابر بھی تنقید کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کا راستہ روکا جانا چاہیے۔
جسٹس محسن اختر کیانی زبردست جج ہیں۔ انہوں نے ن لیگ کو بیسیوں کیسز میں ریلیف دیا۔ یہ ویسے انہوں نے غلط کیا۔ لیکن امید ہے مستقبل میں وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔ فوج کو ان سے خاص مسئلہ ہے۔ اس لیے فوج اپنے صحافیوں کے ذریعے جناب محسن اختر کیانی کے خلاف بڑی مہم چلا رہی ہے۔ اگر لوگ کھڑے ہو جائیں اور اس پراپیگنڈہ کو ناکام بنا دیں تو یقیناً بہتری کی صورت نکل سکتی ہے اور قاضی فائز عیسٰی جیسے ناسور سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔