آج پھر بلوچستان رو رہا ہے۔
کوئٹہ کی سڑک پر ایک 12 سالہ بچہ مارا گیا۔
نہ کوئی ہتھیار، نہ کوئی خطرہ—صرف ایک معصوم چہرہ، جس کی ماں نے صبح اسے جوتے پہنا کر بھیجا تھا، اور شام کو اس کی لاش واپس ملی۔
اور تم سب؟
جیسے ہمیشہ، خاموش۔
جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔
تمہیں کب پرواہ تھی؟
تم نے کب بلوچستان کو اپنا سمجھا؟
ہم تو ہمیشہ تمہارے لیے ایک غیر، ایک سوتیلا سوال رہے ہیں—جس کا جواب تم نے ہمیشہ گولیوں سے دیا ہے۔
جب ہمارے بچے مارے جاتے ہیں، تم صرف خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہو۔
نہ دکھ، نہ شرم، نہ افسوس۔
تمہیں صرف تب درد محسوس ہوتا ہے جب درد تمہارے گھر کی دہلیز پر آتا ہے۔
فلسطین کے لیے تمہاری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور یہاں؟
تمہاری اپنی زمین پر، تمہاری اپنی مٹی میں، تمہارا اپنا بچہ مارا گیا—اور تم چپ ہو۔
کیونکہ تم نے کبھی ہمیں “اپنا” مانا ہی نہیں۔
ہم بس اتنا پوچھنا چاہتے ہیں:
کیا ہمارا خون سستا ہے؟
کیا ہمارے بچوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
کیا ہم صرف اس لیے مارے جائیں گے کہ ہم آواز اٹھاتے ہیں؟
اب بہت ہو چکا ہے۔
میں اور میری پارٹی ان ماؤں کے ساتھ ہیں جن کے بچے واپس نہیں آئے۔
ہم ان سڑکوں پر بیٹھے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جنگ اب خاموشی کی نہیں—یہ جنگ آواز کی ہے۔
ہم انصاف مانگتے ہیں، نہیں ملے گا تو چھینیں گے۔
اور یہ لاشیں تم سب کی بے حسی کی گواہی بن کر تاریخ میں لکھی جائیں گی
Yes I know Zakir Baloch came to Islamabad just few days before his assassination. He met some anti-establishment people. Some powerful people in Balochistan were not happy on his posting as DC. He once said that “we are a herd that grazes on conflicts”. Those who are beneficiary of the conflict have no right to condemn his murder.
نہ کوئی بڑا سٹیج نہ بڑے بڑے بینر نہ ہی کوئی بڑا سیاستدان لیکن چند مظلوم عورتوں اور مردوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تربت میں ایسا عظیم الشان جلسہ منعقد کر دکھایا کہ ان مظلوموں کے دہشت گرد قرار دینے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں #EndEnforcedDisappearances
کاش کہ کوئی مالی مفاد کے بغیر بھی پاکستان کی خدمت کرے ریاست سے انصاف مانگنے والے مظلوم بلوچوں کو چند کروڑ روپوں کی خاطر ملک دشمن قرار دینا پاکستان کی کوئی خدمت نہیں اس کاروبار میں بڑے بڑے لوگوں کی پارٹنرشپ ہے اگر پاکستان میں امن ہو جائے تو غدار بنانے کی فیکٹریوں کے مالکان بے روزگار ہو جائیں گے
حکومت نے گوادر میں اس اجتماع کے انعقاد کو روکنے کے لئے بلوچستان میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا لیکن لوگ رکاوٹیں توڑ کر اجتماع میں پہنچ گئے احتجاج میں شریک لوگوں کی بڑی اکثریت عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے ،سبق یہ ہے کہ ریاست کی لاٹھی اور بندوق آخر کار جیل کا خوف ختم کر دیتی ہے
ایک بے بس اور لاچار بلوچ اپنے بیمار بچے کو مستونگ سے کوئٹہ لیجانا چاہتا ہے لیکن ایف سی نے سڑک بلاک کر رکھی ہے اور مریض کو ہاسپیٹل لیجانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس ملک میں ریاست ایمبولینس میں پڑے مریض پر بھی رحم نہ کرے اس ریاست کے حکمرانوں کو بد دعاؤں کے سوا کیا مل سکتا ہے 🥲
The state's brutal crackdown against the peaceful #BalochNationalGathering is beyond shameful. Peaceful activists of the BYC are being subjected to the worst kind of violence for demanding rights. We stand in solidarity with @MahrangBaloch_ and the Baloch youth.
Urgent attention!
Currently, the Pakistani Army and FC have launched another brutal and violent attack on the peaceful Baloch National Gathering sit-in in Gwadar.
Surrounding the sit-in from all sides, they have indiscriminately fired upon peaceful protesters and subjected them to severe violence, resulting in multiple injuries and the arrest of hundreds.
At this moment, the Pakistani state is committing extreme oppression and tyranny against peaceful protesters in Gwadar. The entire city has been held hostage at gunpoint by the Pakistani military. We are not being allowed to evacuate the injured, nor are ambulances being given passage.
Now, the scenes in Gwadar are nothing short of apocalyptic!
I urge you all to immediately write to human rights organizations, journalists, and anyone concerned with human rights, as thousands of lives are currently at extreme risk in Gwadar.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
The state is using all of its might to try and stop the Baloch from #BalochNationalGathering. We have experienced similar examples of security forces firing on our people in Pakhtunkhwa. Just as they could not stop us from speaking out, they won't be able to stop the Baloch.
حمزہ شفقات کی ڈرامہ بازیاں اور گروانڈ پر کام جان کر جیو۔
ڈان نیوزکے مطابق پنجاب اور بلوچستان ضروری اشیائے خوردونوش کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ اصل اور قیمتوں کے درمیان فرق کے لحاظ سے دو مہنگے ترین صوبے ے۔
کوئٹہ شہر میں قیمتوں میں 46.86 فیصد کا فرق ریکارڈ کیا گیا گیا۔
۔ @MHidayatRehman کی سیاست کا محور لاپتہ افراد کی بازیابی اور فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ رہا ہے لیکن آج مولانا نے کسی ایسے شخص کو ووٹ دیا جو سرے سے لاپتہ افراد کے مسئلے کی وجود سے انکاری ہیں اور بلوچ مسلے کا حل فوج کشی سے چاہتے ہیں۔
آج مولانا کی سیاست پر بہت سارے سوالات اٹھ رہے