Moments before life-saving surgery after being shot, Ahsan Iqbal reportedly reminded doctors about fulfilling the promise of a medical college for Narowal. That is the difference between politics and public service.
His heart beats for Pakistan, his mind works for the world. ❤️🇵🇰
From #MarkaEHaq to #MarkaETaraqi, Pakistan needs leadership driven by vision, education, and service above self.
#AhsanIqbal #Leadership #PakistanZindabad
کچھ لوگ وقتی مفاد اور ذاتی بغض میں اندھے ہو کر اُن شخصیات پر کیچڑ اچھالنے لگتے ہیں جن کی پوری زندگی وفاداری، قربانی اور اصولوں کی مثال رہی ہو۔ سہیل آفریدی اور فیض الرحمان آفریدی جیسے لوگ کردار، خدمت اور خاموش جدوجہد کی پہچان ہیں، جبکہ دوسری طرف چند ایسے عناصر ہیں جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر صرف شور مچانے کو سیاست سمجھ بیٹھے ہیں۔
فیض الرحمان آفریدی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی قربانیوں کو سوشل میڈیا کی نمائش نہیں بنایا۔ جب مشکل وقت آیا، خاص طور پر عمران خان کے لیے، تو فیض الرحمان نے نہ صرف مالی بلکہ جانی قربانیاں بھی دیں، مگر کبھی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ یہی اصل اخلاقیات اور خاندانی تربیت کی پہچان ہوتی ہے۔
یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ فیض الرحمان نے کبھی عہدوں یا شخصیات کو نہیں دیکھا، بلکہ ہمیشہ پارٹی اور نظریے کو ترجیح دی۔ چاہے کوئی بھی وزیرِ اعلیٰ ہو یا وفاقی وزیر، انہوں نے ہر سطح پر پاکستان تحریک انصاف کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی خاموش ہیں، کیونکہ وہ کردار کی زبان بولتے ہیں، الزام تراشی کی نہیں۔
دوسری طرف، خالد سپاری جیسے لوگ نہ ماضی رکھتے ہیں نہ قربانیوں کی کوئی تاریخ، مگر باتیں ایسے کرتے ہیں جیسے سب کچھ انہی کے گرد گھومتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ لوگ سیاست میں نظر بھی نہیں آتے تھے، تب فیض الرحمان اس میدان میں اپنی پہچان بنا چکے تھے۔
سینیٹ کے معاملے میں بھی فیض الرحمان کی نیت اور وژن واضح تھا۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ وہ اپنے وسائل لگا کر پارٹی کی پوزیشن مضبوط کریں گے، حتیٰ کہ ایک اضافی سینیٹر بھی بنائیں گے۔ یہ جذبہ صرف اسی شخص میں ہو سکتا ہے جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو۔ لیکن افسوس، کچھ لوگوں نے اس جذبے کو بھی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
آج اگر فیض الرحمان خاموش ہیں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ ان کی مضبوطی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وقت سب کچھ ثابت کر دیتا ہے۔ ان کا صبر، ان کی قربانیاں اور ان کی وفاداری ہی ان کا اصل جواب ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ کردار ہمیشہ شور سے بڑا ہوتا ہے۔ اور تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو خاموشی سے کام کرتے ہیں، نہ کہ اُنہیں جو صرف بولنا جانتے ہیں۔
@shahfalki@CMShehbaz From disaster management to economic stability, this is what performance-driven leadership looks like. Actions speak louder than slogans.