ستم گر ہیں تو کیا، ظلم کی انتہا کیا
ہمارے ہاتھ اٹھیں گے تو انقلاب آئے گا
(احمد فراز)
ظلم ، جبر ، دھونس ، دھاندلی ، غلامی کے سامنے ڈٹ جانے والے ان آزاد منش ججوں کو قوم کا سلام 🙌🫡
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی انشاء اللّہ
#Islamabad#HighCourt#NewProfilePic
چند دن پہلے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو کچھ دن جیل میں گزار کرکے آئے ان کے جیل ریفارمز تقریب میں خطاب کروا لیا جائے تو سب سیاہ سفید واضع ہو جائے گا
کیوں کہ جیل اصلات کاغذی اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ فزیکل جو کچھ وہاں ہوتا ہے اس میں اصلاحات ضروری ہیں جو نہیں ہوئیں
11 ارب کا استعمال بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے 11 ارب کا تھرمل پاور پلانٹ خرید کر 600 یونٹ تک بجلی فری کر دی صوبے میں جس سے تقریبا 80 فیصد گھروں کا بل مفت ہوگیا اور یہاں پنجاب کی ماں نے 11 ارب کا جہاز خرید لیا
کیا پنجاب الیکٹرک بس منصوبہ شفاف ہے؟
پنجاب حکومت کے الیکٹرک بس پراجیکٹ کیلئے تمام بسیں چین کی Yutong اور Higher کمپنی سے لی گئی ہیں۔ کل 1,100 میں سے 780 بسیں 9 میٹر جبکہ 320 بسیں 12 میٹر لمبی ہیں
12 میٹر بس کی قیمت 250,000 سے 350,000 امریکی ڈالر (تقریباً 7 کروڑ سے 9 کروڑ 70 لاکھ روپے) ۔ جبکہ 9 میٹر بس 150,000 سے 220,000 امریکی ڈالر ( تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ سے 6 کروڑ روپے) ہے
پنجاب حکومت نے 1,100 بسوں کی خرداری کیلئے مجموعی طور پر 94 ارب روپے مختص کئے
اگر ہم گاڑیوں کی قیمت زیادہ سے زیادہ تصور کر لیں یعنی 12 میٹر بس کی قیمت 9 کروڑ 70 لاکھ اور 9 میٹر بس کی 6 کروڑ تو بھی ان کی کل قیمت 78 ارب سے زیادہ نہیں بنتی۔ یعنی 16 ارب روپے کا فرق ہے
حالانکہ bulk میں لی گئی 9 میٹر بس کی قیمت ساڑھے 4 کروڑ اور 12 میٹر بس کی قیمت ساڑھے 8 کروڑ سے زائد نہیں۔ اس طرح خریداری کا فرق 32 ارب روپے تک چلا جائے گا
یاد رہے اس لاگت میں گاڑی کی قیمت کے ساتھ ساتھ ہائی پاور ڈی سی فاسٹ چارجرز کی قیمت بھی شامل ہے۔
18 سے 32 ارب روپے کا فرق ایک خطیر رقم ہے۔ منصوبے کو مکمل شفاف تب ہی مانا جا سکتا ہے جب حکومت پنجاب ان سوالات کے واضح جوابات دے:
1. کیا 94 ارب روپے میں چارجنگ انفراسٹرکچر اور سول ورکس کی تفصیلات شامل ہیں؟ اگر ہاں، تو ان کا الگ سے کتنا بجٹ ہے؟
2. کیا یہ بسیں ڈیوٹی فری امپورٹ کی جا رہی ہیں یا ان پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے؟
3. مینوفیکچررز کے ساتھ مینٹیننس کا معاہدہ کن شرائط پر ہوا ہے؟
4. زیادہ بہتر ہے کہ بسوں کو کمپنیوں سے خریداری کا معاہدہ پبلک کیا جائے کیونکہ یہ پبلک فنڈ سے پبلک کیلئے منصوبہ ہے کوئی سیکیورٹی پروجیکٹ نہیں ۔
پنجاب انفارمیشن کمیشن کے تحت کوئی بھی شہری حکومت کو درخواست دے کر اس عوامی منصوبے کے معاہدے کی تفصیلات مانگ سکتا ہے اور قانوناً حکومت اس کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کی پابند ہے۔
اس دفعہ نظام دین نے کہا ریاست میں سب سے بڑا بدمعاش تو میں ہی ہوں ۔ پھر لاہور سے دو ذہینی مریض انسٹال کئیے گئے۔
ایک کو سیکٹر کمانڈر دوسرےکو آئی جی بنایا ۔ شوکت میر کو آپریشن کر کے گرفتار کیا گیا۔اسکی وڈیوز دیکھ کر ایسالگتاہے یہ کوئی غزہ یا لبنان میں اسرائیل حملہ آور ہے ۔
اب تو مقبوضہ کشمیر کے کشمیری بھی کہہ رہے ہیں کہ جو ظلم پاکستان میں کیا جا رہا ہے وہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا نہ سنا۔
ڈاکیہ نما صحافی انڈیا کے ثبوت مل گئے کہہ رہے ہیں ۔
انڈیا کو ضرورت نہیں ہے پاکستان کو تباہ کرنے کی، مودی کی سیاست کے لیے پاکستان کی اشد ضرورت ہے وہ اسکے بنا اپنی ہندواتوا کی سیاست نہیں کر سکتا۔
آپ خود اپنے ہاتھوں سے پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں۔ آپ نے بلوچستان کے اندر نفرت کے وہ بیج بوئے، قبائلی علاقوں میں نفرت کے بیج بوئے اب تو پنجاب میں بو دئیے اب تو کشمیر میں چھوٹے بچے سوچئیے آپ سے کتنی نفرت کریں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کی کبھی بھی ملکی یا اداراتی پالیسی نہیں ہوتی، وقتی پالیسی حاکم وقت کے ساتھ ہوتی ہے ہر ڈیکٹٹر کی مدت دس سال ہوتی ہے اسکے بعد یہ اپنے پسندیدہ ملکوں میں فرار ہو جاتے ہیں ۔
ٹرمپ نے اپنی سالانہ آمدنی کے گوشوارے جو جمع کروائے ہیں اس میں انہوں نے 1.4 ارب ڈالرز کی آمدن ظاہر کی ہے اس 1.4 ارب ڈالرز میں سے ٹرمپ نے 500 ملین ڈالرز کمپنی ورلڈ لبرٹی فائنانشل سے کمائے ہیں یہ وہ ہی کمپنی ہے جس سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سٹیو وٹکاف کے بیٹے کے ساتھ کھڑے ہو کر معاہدہ کیا تھا یہ اس کمپنی کا کسی بھی حکومت کے ساتھ پہلا سرکاری معاہدہ تھا ۔
ڈاکٹر شہباز گل
آواز اٹھائیں۔۔۔🚨
ہمارا ایک پینڈ ہے اس میں 300 گھر ہے یہ ریاست ہمیں یہاں سے نکال رہی ہے یہ ظہر کا ٹائم ہے ۳ بج گئے ہیں ریاست ائی ہے ہمارے اوپر بجلی بند کر رہی ہے اور ہمیں اپنے گھر سے نکال رہی ہے
@MoonisElahi سر اب شاید ایک اور واردات بھی ڈالی گئی ہے اس ناپاک گورنمنٹ کے ذریعے۔۔۔
ہسپتال چھوٹے بچوں کے شوگر کیسز سے بھر گئے ہیں پچھلے ایک سال کے اندر اندر۔۔۔
خدشہ بیان کیا جا رہا ہے کہ کسی ویکیسن کے ذریعے بچوں کا لبلبہ تباہ کیا گیا ہے۔۔
کوئی تحقیقی صحافی ذرا ڈاٹا تو لے ہسپتالوں سے۔۔
مریم نواز اور عاصم منیر کی ستھرا پنجاب پروگرام کے ذریعے 600 کروڑ ماہانہ کی میگا کرپشن
قومی خزانے سے ورکرز کی تنخواہ پچاس ہزار ادا کی جاتی ھے مگر ورکر کو صرف 20 ہزار ملتے ہیں، مریم نواز کو ہر ماہ 600 کروڑ پہنچ جاتے ہیں
زاتی جہاز سفر کیلئے نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کیلئے خریدا گیا ھے
امن آباد ماڈل بازار کے تقریباً چھ تاجروں سے میری گفتگو ہوئی جن میں سے متعدد افراد نے مجھے بتایا کہ ہم سے بھی 60 60 ہزار روپے وصول کیے گئے تھے ایک شخص رقم لینے آیا تھا اور جب ہم نے اس سے استفسار کیا تو اس نے کہا کہ تمہاری دکان سیل کر دی جائے گی
جب میں نے تاجروں سے گزارش کی کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں آپ اس معاملے پر مجھے انٹرویو دے دیں تو ایک بھی تاجر آمادہ نہ ہوا سب نے یہی کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں دھمکیاں دی گئی ہیں کہ تمہاری دکانیں مسمار کر دی جائیں گی
ایک تاجر نے کہا کہ میری دکان میٹرو لائن کے بالکل سامنے واقع ہے اگر میں نے زبان کھولی تو یہ لوگ میری دکان گرا دیں گے اور اس جگہ میٹرو کا پل تعمیر کر دیں گے
ایک اور دکاندار نے کہا کہ میری اس بازار میں دو دکانیں ہیں وہ لوگ اس قدر بااختیار ہیں کہ کسی بھی بہانے میری دکانیں ضبط کر سکتے ہیں یا مجھے بازار سے بے دخل کر سکتے ہیں
کوئی ایک بھی تاجر مجھے انٹرویو دینے پر رضامند نہ ہوا
البتہ اسی بازار کے صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ یہ بازار مریم نواز نے تعمیر کروایا تھا مگر اسی ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی نجی شخص رقم وصول کر رہا تھا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ واقعی ایک نجی شخص تھا تو اسے یہ اختیار کیسے حاصل تھا کہ وہ کسی کی دکان سیل کر سکتا تھا
اس حکومت کے خوف اور ہراس کے باعث صرف ایک ہی شخص لب کشا ہوا ہے
اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
بریکنگ نیوز 🚨جین زی چھا گئی، کمال ہوگیا۔ عمران خان پر ڈاکومنٹری بنا ڈالی 🔥🔥
بڑے بڑے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دس سالہ بچے نے 78 سالہ نظام کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے، سب آخر تک دیکھو اور وائرل کردو۔ تُم ہار چکے ہو وہ اگلی تین نسلیں تیار کرچکا ہے۔
ساڑھے 3 سال سے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہ کرنے والے الیکشن کمیشن نے چار سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرتے ہوئے ان کے باضابطہ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے ہیں،الیکشن کمیشن کے مطابق عام آدمی تحریک پاکستان، پاکستانی عوامی انقلابی لیگ، اللہ اکبر تحریک اور کسان اتحاد عوامی پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان نئی پیش رفتوں کے بعد الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 167 ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی، ٹی ایل پی اور پاکستان ریفارم پارٹی تاحال بغیر سربراہ اور تنظیمی ڈھانچے کے سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔۔
وہ بدبخت فوج جس نے اپنی ہی سلطنت ڈبو دی، سلطنت عثمانیہ میں اس فوج کو فتنہ الفوج کہا جاتا تھا اور جب کبھی ترک عوام نے اس کرپٹ عیاش فوج سے حقیقی آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی، ترکی کے دین فروش علمائے کرام نے اللہ رسول اور قرآن کے حوالے دے کر اس فوج کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دے دیا
فتنہ الفوج کے جرنیل ترکی میں بادشاہتیں بناتے اور گراتے رہے، آخرکار اس فتنہ فوج کی حرام کاریوں کے سبب سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا۔
پاکستانی فوج بھی ترکی کی وہی ینیچری فوج ھے جو اپنا ہی ملک کھا گئی۔۔
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی