خواجہ صاحب یہ اپ کے لیے اعزاز ہے کہ دشمن خدا و دشمن دین آپ کو دہشتگرد و دشمن سمجھتا ہے۔پاکستانی سیاستدانوں میں سے سب سے پہلے یہ اعزاز اپنے نام کرنے پر آپ کو مبارک باد!
@KhawajaMAsif
صہیونی شیطان امن اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ امن عمل کے دوران لبنان پر اسرائیلی حملہ صریح جارحیت ہے۔
وہ گریٹر اسرائیل بنانے کے جنون میں تباہ ہو جائیں گے۔
امریکی حکمرانوں نے بدمعاش ریاست اسرائیل کی سرپرستی کرکے اپنا وقار، دبدبہ اور عالمی اثر و رسوخ کھو دیا ہے۔
پوری دنیا صہیونیوں پر تھوک رہی ہے۔
بے شک الّٰلہ تبارک وتعالیٰ کے ان ٹھکراۓ ھوؤں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔
غزہ، ایران اور لبنان کے بے گناہ عوام کا خون رائیگاں نہیں جا سکتا۔
The Zionist devils are the enemies of peace and humanity. The Israeli attack on Lebanon during the peace process is blatant aggression.
They will destroyed in the madness of creating a Greater Israel.
The American rulers have lost their dignity, prestige and global influence by patronizing the rogue state of Israel.
The whole world is spitting on the Zionists .
The only abode of those rejected by Allah Almighty is hell.
The blood of the innocent people of Gaza , Iran and Lebanon cannot be shed in vain.
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ
وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے
وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری
جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے
تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے
تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیا
میری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے
میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے
امجد اسلام امجد
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ
وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے
وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری
جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے
تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے
تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیا
میری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے
میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے
امجد اسلام امجد
Ayatollah Seyyed Ali Khamenei isn’t just Iran’s Supreme Leader, he’s rather a Marja’, a revered religious authority and spiritual leader for millions of Shia Muslims around the world. Any foolish or hostile act against him won’t stay limited to Iran; it will provoke a powerful, widespread reaction. Netanyahu and others throwing around threats should understand the gravity of what they’re playing with. This isn’t just war and politics, it’s a deeply held faith for millions. Targeting him would be crossing a line that could set off consequences far beyond what anyone can control. Let that be clearly heard by everyone from Washington to London to Tel Aviv. Khamenei is our red line.