ایک بار عمران خان سے ملنے زمان پارک جانا ہوا وہاں عمران خان کے پاس لان میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اسکے سامنے چھوٹے سے ٹیبل پر خلاف توقع چائے کا ایک کپ موجود تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ شخص خان صاحب کا کافی قریبی تھا وہ شخص کسی بات پر عمران خان کو مجبور کررہا تھا کہ وہ کسی کو ایک فون کریں مگر عمران خان بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ میرے فون کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر کام ہونا ہوا تو ویسے ہی ہوجائے گا تم وہاں جاکر کوشش تو کرو تو وہ شخص کہنےلگا کہ میں وہاں گیا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا اسی لیے آپکے پاس آیا ہوں کہ آپ ایک فون کردیں گے تو میرا کام ہوجائے گا
بالاآخر عمران خان نے مجبور ہوتے ہوئے کسی کو فون ملایا اور فون کا لاؤڈ اسپیکر آن کردیا، دوسری جانب سے کال اٹینڈ ہونے پر عمران خان نے کہا کہ فیصل میرے ایک جاننے والے کا عزیز کینسر میں مبتلا ہے اور وہ مریض کو لیکر شوکت خانم بھی لے کر آئے تھے مگر اسکی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد تم نے اس مریض کو داخل کرنے سے انکار کردیا
دوسری جانب سے شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب اگر رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مریض کو ایڈمٹ نہیں کیاگیا تو اسکا مطلب ہے کہ کینسر کا یہ مریض بیماری کی اس اسٹیج پر ہوگا جہاں اب اسکا علاج شوکت خانم سمیت کہیں بھی ممکن نہیں ہوگا اس پر عمران خان نے کہا کہ جن کا یہ مریض ہے وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ شوکت خانم کے ریگولر ڈونر ( چندہ دینے والے) ہیں اور ہر سال ڈونیشن دیتے ہیں کیا ہم انکے لیے کچھ کرسکتے ہیں
سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب یہ پالیسی آپ ہی کی بنائی ہوئی ہے کہ ہم نے کسی کے کپڑے یا رنگ دیکھ کر علاج نہیں کرنا بلکہ ہر اس شخص کی جانی بچانی ہے جسکا علاج ممکن ہو تو اس لیے میں تو اب معذرت ہی کروں گا البتہ آپ چاہیں تو یہ پالیسی تبدیل کرکے انکے مریض کو داخل کرسکتے ہیں اور مزید جتنے ڈونرز ہیں انکے لیے بھی کوٹا رکھ دیتے ہیں تاکہ انکے مریض بھی فائدہ اٹھائیں،
یہ باتیں سن کرعمران خان کچھ مضطرب ہوئے اور اس سے پہلے کہ کچھ کہتے کہ اچانک وہ شخص اپنی جگہ سے اُٹھ کر خان صاب کی جانب آیا اور کہا خان صاب فون بند کردیں، عمران خان نے فون بند کردیا تو اس شخص کے چہرے پر انکار سننے کے باوجود ایک جوش تھا اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی محسوس ہورہی تھی مگر وہ جب بولا تو وہاں موجود ہر شخص حیران رہ گیا، اس نے کہا کہ خان صاب جب میں آپکے پاس آرہا تھا کہ میرے دل ایک یقین تھا کہ آپ میری بات نہیں ٹال پائیں گے کیونکہ آپ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور میں شوکت خانم ہسپتال کو باقاعدگی سے عطیہ بھی دیتا ہوں اسکے علاوہ میں کبھی کبھی سوچا کرتا تھا کہ شوکت خانم کو جو پیسے دیتا ہوں کیا وہ اسی طرح خرچ ہوتے ہوں گے جیسے بتایا جاتا ہے
آج آپکے اور شوکت خانم ہسپتال کے منتظم کے درمیان ہونی والی گفتگو سن کر میرا دل اطمینان سے بھر گیا ہے کہ کس قدر شفافیت کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کا نظام چلایا جارہا ہے جہاں کسی کی سفارش کی بجائے صرف مریض کی بیماری دیکھی جاتی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ خان صاب مجھے شرمندگی بھی محسوس ہورہی ہے کہ میں آپ کے پاس اس کام کے لیے سفارش کرنے کیوں آگیا اور آپکو میرٹ سے ہٹ کر کام کرنے پر مجبور کیا
اقوام متحدہ کا بیان 🚨
ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بنیادی قانونی تحفظات تک رسائی کے بغیر طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھا گیا ہے۔
عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، وکلاء اور خاندان کے افراد تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے
#KhansIsolationIsACrime
ملک ڈیفالٹ ہونے کامطلب یہ ہوتا ہے جب کوئی ملک بین الااقوامی قرضوں کی قسط ادا کرنے کے قابل نہ رہے، جب عمران خان کی حکومت گرائی گئی تو اس وقت قومی خزانے میں 24 بلین ڈالرز موجود تھے جن میں سے 16 بلین ڈالرز قرضوں کی اقساط اور ملکی ضروریات کے لیے موجود تھے ۰۰۰ عمران خان کے دور حکومت میں معیشت کا گراف چھے فیصد تک جا پہنچا تھا مگر آج 3 اعشاریہ 6 فیصد تک رہ گیا ہے اصل کارنامہ معیشت کو بہتر بنانا ہوتا ہے ناکہ مزید قرض لیکر قرضے کی قسط ادا کرنا ۰۰۰
ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبعیت کوٹ لکھپت جیل میں ٹھیک نہیں ہے، انہیں سانس لینے میں شدید مشکلات ہیں، 2 روز پہلے دانت میں سخت تکلیف ہوئی سپریڈنٹ جیل کو بتایا گیا لیکن کوئی طبی امداد نہیں دی گئی،
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ “ نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں “ جیسے حالات ہیں، ہر کسی کو اپنی پڑ گئی ہے، ویسے ہمارے ریاست طیبہ کے حکمران نہایت ہی کایاں نکلے ہیں کہ اپنی مجبوریوں کو قوم کے لیے قربانی کا نام ہی دے ڈالا ۰۰۰ 😄
سب سے اہم مطالبہ 🚨
علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ عمران خان کا علاج فوراً شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
سوشل میڈیا آج اس پر ضرور شور مچائیں
”کامن ویلتھ کمیٹی نے انتخابات 2024ء میں دھاندلی، ملک میں جاری فسطائیت، زبان بندی اور عدالتی نظام پر وزیراعظم پاکستان سے جواب طلب کیا ہے۔ کامن ویلتھ نے اصلاحات کی جو تجاویز دی تھیں اس سے سب کچھ الٹ کیا گیا۔ مخصوص نشتیں چھین لی گئیں، واضح اکثریت دلوا کر قانون سازی کے ذریعے آئین و قانون کا نقشہ ہی بدل دیا گیا۔“ @ShazadAkbar
The eye report of Imran Khan that has been made public is deeply concerning. I regret to say that the doctors who signed it have compromised their professional credibility.
#UrgentMedicalAidForKhan