کسی بھی کام کو بار بار کرنا ہی آپ کے دماغ کو مضبوط بناتا ہے ۔ جتنا زیادہ آپ کوئی کام کرتے ہیں وہ کام آپ کے لئے اتنا ہے قدرتی بن جاتا ہے ۔پریکٹس کرنے سے آپ پرفیکٹ نہیں بنتے لیکن کام آٹو میٹک ہونے لگتا ہے ۔ لیکن اصل غلطی یہ ہے کہ آپ اس اسٹیج تک پہنچنے سے پہلے ہی ہار مان لیں ۔
وہ شخص جو بغیرکسی کے میسج کا انتظار کئے سو جاتا ہے ، کسی کے ساتھ کے بغیر ہنس سکتا ہے ، صرف اپنے لئے تیار ہو سکتا ہے ،اس نے زندگی کے بارے میں بہت کچھ سمجھ لیا ہے ۔
کافی پینے جا رہی تھی ، اسکوٹر سے گر گئی ۔ آسان راستہ تھا یہ کہہ دینا کہ کسی کی نظر لگ گئی ۔ اور مشکل راستہ تھا یہ مان لینا کہ اپنا ح ر ا م ی پن تھا ۔ ٹائر کے گارے میں جانے کی وجہ سے فرکشن کم ہوئی اور پھسلن زیادہ ہو گئی ۔ پہلے سے آرام ہے 😅
چاہے تنہائی تمہیں کتنا ہی بے بس کیوں نہ کر دے،
اور دنیا تم سے کتنی ہی دور کیوں نہ لگے،
اگر تم اپنے کام کو سچائی اور نیک نیتی سے کرتے رہو،
تو ایک وقت آئے گا جب انجانے ہم خیال خود تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔”
— کارل یونگ
غلط انسان کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرنا ایسا ہی ہے جیسے بندہ شارک کے سامنے لہو بہائے ۔ شارک کے لئے وہ خون محض ایک سگنل ہوتا ہے کہ اب شکار سامنے ہے ۔ غلط شخص کے سامنے اپنے جذبات ظاہر کرنا، اپنی سب سے بڑی کمزوری کو غلط جگہ پہ ظاہر کرنے کے برابر ہے۔
راستے میں چلتے ہوئے یہ پتا دکھائی دیا پہلی نظر میں ہی ہونٹوں جیسا لگا ۔اور پھر قدرت نے کیا ہی خوبصورت lipstick shade لانچ کیا ہے۔ خزاں کا سب سے حسین جادو یہ ہے کہ پتے مرنے سے پہلے اپنے سب سے خوبصورت رنگ اوڑھ لیتے ہیں۔
کبھی سوچا… زوال بھی اتنا حسین ہو سکتا ہے؟
کچھ لوگ کبھی آپ کو سپورٹ نہیں کریں گے، صرف اس لیے کہ یہ آپ ہیں۔
کچھ ہمیشہ سپورٹ کریں گے، صرف اس لیے کہ یہ آپ ہیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنے سچے لوگ ڈھونڈ لیں۔ ❤
واک کے دوران اچانک بارش ہوگئی، چھتری بھی نہیں تھی۔ بھیگتے بھیگتے “نانی اماں کا کچن” نظر آگیا۔ اندر گئی، گرما گرم کافی اور سوپ نے دن بنا دیا۔ واقعی خوب دن گزرا۔
تم اس سوچ کے ذمہ دار نہیں ہو جو دوسروں کے ذہنوں میں تمہارے بارے میں موجود ہے ۔ تم صرف اس انسان کے ذمہ دار ہو جو حقیقت میں تم ہو، اور وہی سب سے قیمتی سچ ہے۔
کوئی ایسا دروازہ ہو جو کھُلتا ہو اُس پار جو پتھروں کی سخت دیواروں سے سر سبز میدان اور کھُلے نیلے آسمان کی طرف لے جائے ۔ ی���� دروازہ باہر ہو نہ ہو ۔ اپنے اندر ضرور بنایا جا سکتا ہے۔
یہاں کے بزرگ سینٹ پیٹرک جب آئرلینڈ میں عیسائیت پھیلا رہے تھے ۔تو انہوں نے شیطان کو اُس کے ٹھکانے سے نکال باہر کیا۔شیطان غصے سے پاگل ہو گیا ۔اُس نے قریبی پہاڑ پر زور سے لات ماری ۔ پتھر ہوا میں گیا اور نیچے اِس جگہ پہ گرا اور اس جگہ کو Rock of cashel کہتے ہیں ۔
اس تصویر میں آپ کو A اور B والے دو خانے نظر آ رہے ہوں گے ۔ اور آپ کو یہ بھی لگ رہا ہو گا کہ دونوں مختلف رنگ کے ہیں ۔ لیکن اگر آپ پہلی تصویر کو اپنے فون میں محفوظ کر کے A اور B خانوں ��و crop کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ دونوں کے رنگ ایک ہی جیسے ہیں۔