تحریک انصاف کی طالبان پالیسی سے ہمیشہ اختلاف رہا لیکن یہ کنفیوژن تو فوج میں بھی دو تین سال پہلے تک تھی۔ اُن کو بھارت نواز کرزئی اور اشرف غنی کے مقابلہ میں سٹریٹیجک اثاثہ سمجھا گیا۔ حقیقت میں تو طالبان آپ کو استعمال کر گئ�� اور جب اُن کو آپ کی ضرورت نہ رہی تو اپنا اَصل رنگ دکھا دیا۔
پھر عوام بھی ہماری کچھ پیچھے نہ تھی اور پاکستان میں طالبان کے کابل ٹیک اوور پر ایک جشن کا سماں تھا۔”طاقتیں تمہاری اور خُدا ہمارا “ آج کے وزیرِ دفاع ہی نے تو کہا تھا۔ تو پھر مورودِالزام صرف ایک جماعت کیوں؟
مذاکرات کو لے لیں۔ سَب سے پہلے نیک محمد کے گلے میں ہار کس نے ڈالا؟ جنرل صفدر کی ہار ڈالتے ہوئے تصویر آج بھی نیٹ پر موجود ہے۔ ہم تو اُس وقت بھی کہتے رہے کے کوئی گُڈ طالبان نہیں سبھی بیڈ ہیں۔ آپ ہی بضد تھے ، حالانکہ سبھی گُڈ طالبان نے افغان امیر کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی تھی۔
سہیل آفریدی ایک صوبہ کا سربرا�� ہے ، یہ بھی سوچا کہ اُس صوبہ میں پریس کانفرنس کے نتیجہ میں کیا پیغام جائے گا؟ یہ باتیں ، گلہ اور شکوے پسِ پردہ رہ کر بھی تو کئیے جا سکتے تھے۔ خیبر پختونخواہ کے لوگوں نے سُپر پاورز کے کھلواڑ پہلے روس اور پھر امریکہ کے آ دھمکنے کی ایک بھاری قیمت چُکائی ہے تو اُن کی اگر کوئی بات آپ کو سخت بھی لگتی ہے تو اُس کا ایک پس منظر بھی تو ہے۔ ریاستیں تو کُشادہ دلی سے چلا کرتی ہیں۔
اور پھر ایمان مزاری؟ بے سہاروں کے کیس ہی تو کرتی ہے جِن کا کیس لینے کے قریب شاز و نادر ہی کوئی جاتا ہے۔ مسنگ پرسنز کا معاملہ ہو ، جھوٹے توہین مذہب کے کیس ہوں ، ہادی اور وہ بلا خوف و خطر اُن کے لئیے انصاف کا در ہی تو کھٹکھٹاتے ہیں ۔ ایسی بھی کیا ضِد؟
د��یا میں بھونچال ہے ، ایک طرف بھارت کا فرنٹ تو دوسری طرف افغانستان کا اوپر سے کمزور معیشت۔ ایسے میں اندرونی محاز بند کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اُنھیں مزید بڑھاوا دینے کی۔
"پی ٹی آئی کے جس رہنما کے ذریعے عمران خان کو یہ آفر دی گئی تھی کہ "ہم آپ کو بنی گالہ بھیج دیتے ہیں، میں نے ان سے خود کنفرم کیا تو انہوں نے کہا کہ 'ہاں۔۔یہ آفر تو تھی لیکن عمران خان نے اسے مسترد کردیا تھا'۔۔۔تو جن لوگوں نے عمران خان کی رہائی کی امید لگائی تھی، انہوں نے غلط امید لگائی تھی کیونکہ عمران خان خود رِہا نہیں ہونا چاہتے"۔ حامد میر
سورس جاننے کیلئے QR Code Scan سکین کریں
#ReleaseSohrabBarkat
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ��ی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے ک��ئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!”
- عمران خان
#PakistanLovesImranKhan
قائد اعظم سے شروع ہونے والی کہانی۔
فاطمہ جناح، لیاقت علی خان، شیخ مجیب، ذولفقار علی بھٹو، بے نظیر، باچا خان، نواز شریف اور اب عمران خان۔۔۔
ہر لیڈر سکیورٹی تھریٹ
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ عمران خان
#غدار_کون_تھا
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلم��ن اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے��
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
شاہ ذیب خانزادہ کی بیوی سے بدتمیزی نہیں ہوئی تھی ،صرف شاہ ذیب خانزادہ سے سوال ہوا تھا لیکن بیانیہ بنایا گیا کہ اس کی بیوی کو ہراساں کیا گیا
آج عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے ،
اس بربریت اور یزیدیت پر وہ سارے بیغرت خاموش ہیں جن کے دو دن تک پٹے کھلے ہوئے تھے
٢٧ویں ترمیم کی دیگر شقوں پر حمایت یا مخالفت کرنا تو سیاسی لوگوں کا کام ہے مگر کسی عہدہ دار کا عدالتوں سے استثناء حاصل کرنا غیر شرعی اور اسلامی نظام انصاف کے منافی ہے ۔
اس طرح دنیاوی عدالتوں سے تو استثناء حاصل کیا جا سکتا ہے مگر اللّہ کی عدالت میں کوئی بادشاہ یا افسر مستثنیٰ نہیں ۔
Well done Hafiz sahib. Two Lt. Generals were supposed to be promoted to generals.
Now no Lt. Gen have no complaints as they will get the fourth star. He gets the fifth star. FM for life perks for life. Titles all with him , power with him.
Pakistanis are not stupid. Politics outside and inside. Santa clause has come to town.
#Pakistan #PTI