میرے اس اکاؤنٹ کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو متاثر کرنا، عام لوگوں کو ان کے غلط موقف سے متاثر ہونے سے بچانا، اور ان کے سامنے متبادل موقف پیش کرنا ہے۔ معروف سیاست دان، کھلاڑی، صحافی، یا دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات، یا کسی بھی طرح زیادہ فالوورز حاصل کرنے والے عام لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان کے فالوورز زیادہ ہیں، اس لیے وہ دنیا کے جس بھی ایشو پر بات کریں، ان کا موقف ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کا مقصد کمنٹس کے ذریعے ایسے لوگوں کے غلط موقف کو غلط قرار دینا، ان کی اصلاح کی کوشش کرنا، یا ان کے صحیح موقف کی حمایت کرنا، اور رضاکارانہ طور پر انہیں ان کے صحیح موقف کے حق میں مزید مواد فراہم کرنا ہے۔
The primary purpose of this account is to influence social media influencers, protect ordinary people from being swayed by their incorrect stances, and present an alternative perspective before them. Well-known politicians, athletes, journalists, or prominent figures from other fields, or even ordinary individuals who have gained a large following, believe that because they have many followers, their stance on any issue in the world is always correct. The aim of this account is to call out the incorrect stances of such people through comments, attempt to correct them, support their correct stances, and voluntarily provide them with additional content in favor of their correct positions.
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ (31 مئی 1945 - 30 مارچ 1987)
اللہ شہید کے درجات بلند کرے رافضی دشمن اسی لیے ان جید علماء کرام کو شہید کرتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ختم کرکے اتفاق و بھائی چارگی پیدا کرتے ہیں ایسے تمام علماء کرام ہمارے سر کے تاج ہیں
کشمیر کے حوالے سے جتنی خبریں بھی دیکھی اور پڑھی وہ بہت حوصلہ افزا نہی ہیں ہمارے عزیز دوست احباب جو کشمیر رہتے وہ بھی یہی بتا رہے ہیں
پاکستانی آزاد کشمیر میں اس طرح کی کشیدگی اور امن و امان کا مسلہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے وہاں جس طرح کی نعرے بازی ہو رہی عوام کو جیسے مشتعل کیا جا رہا جو سوشل میڈیا پر کمپین شروع ہے اس سب سے اصل فائدہ انڈیا کو ہے پاکستانی کشمیر ہمیشہ پر امن رہا ہے وہاں شرح خواندگی بھی کافی زیادہ ہے کشمیری پڑھے لکھے لوگ ہیں وہاں اتنی نفرت آمیز تحریک کا جڑ پکڑنا بہت حیرت انگیز ہے
میں خود بطور کشمیری ہر طرح سے ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں کشمیریوں کا مستقبل پاکستان کے ساتھ ہے باقی شکایات اور مسائل کا بات چیت سے حل نکل سکتا ہے ضد سب کے لئے نقصان داہ ہے
With 35 out of 38 demands already accepted, still continued calls for protests by JAAC appear less connected to public welfare and more reflective of political rigidity. Proscribed JAAC has chosen pressure tactics and street agitation over constructive engagement.
❗️When the Action Committee was formed, it had just three demands. Today, that number has risen to 38, with 8 more demands already submitted.
❗️The new 8points agenda seeks to portray Azad Kashmir and Pakistan as separate entities, damage ties with the people of Indian-administered Kashmir, create hostility toward refugees, and weaken the Kashmir cause.
This will not be tolerated.
کشمیر ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر کشمیر میں سبسڈی والا سستہ ترین آٹا دیا جاتا ہے اب خود کشمیر میں اس پر کرپشن ہو رہی ہےضلع باغ کا ایک ٹھیکیدار عزیز انکو مالی سپورٹ فراہم کرتا ہے پنجاب سے سبسڈی والا آٹا آزاد کشمیر جاتا ہے اس میں اربوں روپے کی کرپشن ھوتی ہے،
سنئیر صحافی ابصار عالم
آزاد جموں و کشمیر میں پاک مخالف قوم پرستی کی ایک اہم وجہ لائن آف کنٹرول کے پار اوڑی پونچھ راجوڑی اور نوشہرہ میں پاک مخالف ماحول ھے۔ لہزا پیر پنجال کہلانے والے اس سارے خطے کی جغرافیائی سماجی اور سیاسی ساخت کو سمجھنا ضروری ھے
پیر پنجال ایک دیوار کی شکل کا پہاڑی سلسلہ ھے جس کے پار وادی کشمیر واقع ھے. اس کے مغرب میں پاکستان سے متصل آزاد جموں کشمیر کے علاقے ہیں جنہیں 1947 میں ڈوگرہ اور بھارتی قبضے سے آزاد کروایا گیا۔ اور اس کے سامنے LOC کے پار اوڑی پونچھ مینڈھر راجوڑی اور نوشہرہ کے علاقے ہیں. یہاں پہاڑی پوٹھوہاری ہندکو گوجری اور پنجابی زبانیں بولی جاتی ہیں اور زیادہ تر لوگ گجر راجپوت جٹ سدھن عباسی اور اعوان ہیں۔ اس لحاظ سے پوری ریاست جموں کشمیر میں یہ لوگ مزہبی جغرافیائی لسانی اور سماجی لحاظ سے پاکستانی پنجاب کے لوگوں کے قریب ترین ہیں۔
لیکن بھارتی پالیسی سازوں نے اس خطے کے لوگوں کو پاکستان اور کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا بدترین مخالف اور دشمن بنا رکھا ھے۔ اسی نظریاتی شفٹ کا اثر اب آزاد کشمیر میں ان کے رشتہ داروں پر بھی نظر آ رہا ھے۔ بھارتی حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ پیر پنجال خطے کے لوگوں کی زہن سازی کے لیے ان ہتھکنڈوں کا خصوصی استعمال کیا
1۔ پاکستان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف طاقت کا فوری استعمال یہاں تک کہ یہ لوگ بھارت مخالف سیاسی رحجانات سے مکمل طور پر مایوس ہوگئے
2۔ کشمیر سے علیحدہ پہاڑی اور گجر شناخت کا فروغ جس کے مطابق اس خطے کے لوگوں کو قریب واقع وادی کشمیر کی بجائے جموں یہاں تک کہ ہماچل ہریانہ اور راجستھان سے جوڑنا تھا
3۔ مالی مراعات۔ اس خطے کے لوگوں کو دستاویزی سطح پر کشمیریوں سے علیحدہ پہاڑی اور گجر قرار دینے کے بعد انہیں ایس ٹی سٹیٹس (scheduled tribe) دیا گیا جس کے نتیجے میں ریاستی اور مرکزی ملازمتوں اور ہندوستان بھر کے تعلیمی اداروں میں اس کوٹے کے باعث ان کے نوجوانوں کو کشمیریوں کے مقابلے کہیں زیادہ مواقع ملنے لگے
4۔ ایس ٹی سٹیٹس سے پہلے ہی ریاستی اداروں خصوصا پولیس میں اس خطے کے لوگوں کو کشمیریوں پر ترجیح دی گئی اور مسلمان ہونے کے باوجود یہ پہاڑی اور گجر پولیس والے کشمیریوں پر بھارت سے آئے ہوئے فوجی اور نیم فوجی دستوں سے بھی زیادہ سختی کے لیے جانے جاتے تھے
ان اور ان جیسی دیگر پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستانیوں کے ساتھ سب سے زیادہ سماجی مزہبی و جغرافیائی قربت رکھنے والے یہ لوگ شاید اب ہندوستان میں سب سے زیادہ پاکستان مخلاف جزبات رکھنے والی کمیونٹی بن چکے ہیں
آزاد کشمیر سے متصل ان لوگوں کی اس اجتماعی تالیف قلب کا اثر ازاد کشمیر میں ان کے رشتہ داروں پر بھی ہونا ہی تھا۔ سوشل میڈیا اور سماجی رابطوں کے اس دور میں یہ اثر زیادہ سرعت کے ساتھ ہورہا ھے۔ بھارتی حکومت بیرون ملک مقیم آزاد کشمیر کے لوگوں کو اپنے مقاصد کے استعمال کے لیے اپنے زیر قبضہ پیر پنجال کے لوگوں کے ذریعے ہی اپروچ کرتی ھے۔ بیرون ملک مقیم ازاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ان کے ایجنٹ کئی عشروں سے آزاد کشمیر میں پاکستان کے خلاف عوامی سطح پر انتہائی زہریلا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف رھے یہاں تک کہ وہ لوگ جن کے بزرگوں نے پاکستان کی خاطر ہتھیار اٹھا کر پہلے ڈوگرہ اور پھر بھارتی فوج سے جنگ کی آج پاکستان کے دشمن اور بھارت کے دوست بن گئے ہیں۔
آواز دوست
اخے ہمارے کُوک پنجاب کھا گیا
پنجاب میں عام آدمی سردیوں میں بھی اپنے گھر بجلی پر گیزر نہیں چلا سکتا جبکہ آزاد کشمیر میں جانوروں کو پانی بھی سردیوں میں گیزر کے ذریعے گرم کر کے پلایا جاتا یورپ سے زیادہ سستی بجلی اور آٹا لیکر پاکستان اور پنجاب کو گالی دیتے ہیں اتنی آزادی مقبوضہ کشمیر میں ھے ؟
کشمیر ایکشن کمیٹی نام کا گینگ انڈین ایجنٹ ہے۔
میں بطور کشمیری آزاد کشمیر کی تمام قوم پرست جماعتوں ، یا کشمیر کو خود مختار بنانے کے بہانے انڈیا کے قبضے کی راہ ہموار کرنے کے حق میں کھڑی جماعتوں یا افراد سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں ۔
کشمیر بنے گا پاکستان ✅❤️
پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ ✅❤️
پاکستان زندہ باد ✅❤️
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔✅❤️
جعلی عوامی ایکشن کمیٹی کشمیریوں کی حقیقی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔
ہم نے بچپن سے پاکستان سے کلمے کی بنیاد پر رشتے کا درس پڑھا ہے اور ہم نے تب ہی سے اس رشتے کو تاحیات قائم رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ مودی اور نیتن یاہو کے یہ پالتو ہمارا پاکستان سے رشتہ ختم نہیں کر سکتے۔ ہماری آنے والی نسلیں بھی پاکستان سے وفا کریں گی ، ان شاءاللہ
آج کا سوال 🚨🚨
دنیا کی وہ کونسی واحد "قوم پرست" تحریک ہے جس میں حق مانگنے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم اپنی ہی قوم کے 30 سے 50 لاکھ لوگوں سے انکی سیاسی ترجمانی کا حق چھین لیں؟
بریکنگ ڈھل پولیس پوسٹ واقعے میں یرغمال بنائے گئے تمام اہلکاروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے اور بھارتی ایکشن کمیٹی کے دہشتگردوں کو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان شاءاللہ اب تمام انتشاری گروہوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہو گا کسی دہشتگرد فسادی گروہ کو رعایت نہیں دی جائے گی
@GFarooqi ہم کشمیری تو پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ جو رشتہ رب کے کلمے کی بنیاد پر بنا ہے وہ سدا قائم رہے گا، ان شاءاللہ ۔ عوامی ایکشن کمیٹی جیسے فسادی اور غدار گینگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔
https://t.co/E4UHI9NA8X