جب ایران عرب ممالک میں امریکی و اسرائیلی مفادات پر حملہ کرتا ہے تواسے اسلام پر حملہ قرار دیتے ہیں لیکن اسرائیل اگر لبنان پر حملہ کر کے 250 لوگوں کو شہید کردیتا ہے تو ایک آواز بھی بلند نہیں ہوتی۔ کاش اسرائیل شیعہ ریاست ہوتا تو یہ چند متعصب فرقہ پرست اس کیلئے میدان عمل میں نظر آتے۔
کچھ حکمرانوں میں اتنی غیرت اور جرات نہیں ہوتی کہ وہ 40 روز سے جاری ظلم پر مبنی جنگ میں جارح اور یکطرفہ جنگ چھیڑنے والے ٹرمپ کا نام لے سکیں لیکن اگر ایران کچھ جوابی کرتا ہے تو وہ بزدل اور امریکی چاپلوس حکمران ایران کا نام لے کر مزمت کرتے ہیں اور وہ بھی بار بار۔ کوتاہ بین چاپلوس تجزیہ کار یہ نہیں جانتے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی بہتری کی طرف جا رہے تھے، دونوں ملکوں کی اہم شخصیات ایک دوسرے کے ہاں آ جا رہی تھیں، تو پھر یکایک ایسا کیا ہوا کہ آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے؟ اگر پاکستان کو اپنے قومی مفاد کا فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایران کی کسی کاروائی کے خلاف کھڑا ہو تو کیا ایران کو اپنا قومی مفاد بنانے کا حق نہیں مل سکتا کہ وہ اپنی سلامتی اور دفاع کیلئے فیصلے کرے؟ پاکستان کو نہ ایران کے ساتھ مل کر امریکہ پر حملہ کرنا ہے اور نہ ہی سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جانا ہے، بین الممالک تعلقات انتہائی حساس اور نازک ہوتے ہیں، بعض اوقات آپ غلط کو غلط نہیں کہہ سکتے لیکن کم از کم خود کو فریق بنانے سے تو روک سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا بندر کے ہاتھ میں ماچس کی طرح ہے اور اگر وہ ماچس ٹاوٹ اور زر خرید میڈیا سیلز کے ہاتھ پکڑا دی جائے تو پھر سوشل میڈیا آتش فشاں بن جاتا ہے
جب کعبہ سے بُت توڑے گئے تو کیا وہ نعوذبللہ کعبہ پر حملہ تھا؟
ایسے ہی سعودیہ پہ حملہ کعبہ پر حملہ نہیں ہے۔
نہ یہودیوں کے اڈے رکھو اور نہ ایمان والوں سے مار کھاؤ۔
@FaizullahSwati الحمد للہ پاکستان کے اہلسنت ایران کے ساتھ ہیں، مسئلہ تکفیری اور متعصب فرقہ پرستوں کے ساتھ ہوا ہے جن پر لگا امریکی اور اسرائیلی سرمایہ بھی ڈوبتا نظر آرہا ہے۔
ابو عبیدہ: ہم ایران کے طاقتور حملوں کو فخر کے ساتھ دیکھ رہے ہیں؛ مسجدِ اقصیٰ اور قیدی سرخ لکیر ہیں
القسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے فلسطینی عوام سے، مغربی کنارے، یروشلم اور مقبوضہ اندرونی علاقوں میں، مسجدِ اقصیٰ کی طرف مارچ کرنے کی اپیل کی، اور امتِ مسلمہ کے عوام اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور عوامی چوراہوں اور قابض ریاست کے سفارت خانوں کے قریب احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھیں، تاکہ مسجدِ اقصیٰ اور قیدیوں کے معاملے پر اپنا غصہ ظاہر کر سکیں۔ انہوں نے تمام مزاحمتی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کی بندش کے جرم پر صہیونی دشمن سے بھاری قیمت وصول کریں اور قیدیوں کی آزادی کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کریں۔
ابو عبیدہ نے کہا کہ صہیونی-امریکی جارحیت کی جانب سے برادر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کیے گئے ہولناک جرائم دنیا کو غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے تمام نیک شہداء اور اس کے عظیم رہنماؤں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا، جن میں سرفہرست ایران کے اسلامی انقلاب کے عظیم شہید سید علی خامنہ ای ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی مسلح افواج کی جانب سے اس وجود کے قلب میں کیے گئے طاقتور حملوں کو، جو اللہ کے حکم سے مٹنے والا ہے، فخر اور عزت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، جو صہیونی-امریکی جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے فلسطینی عوام کے نام دیا گیا پیغام — جو خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان مجاہد بھائی ذوالفقار کے ذریعے پہنچایا گیا — جس میں بعض کارروائیاں ان کے عظیم شہید رہنماؤں کے نام منسوب کی گئیں، جن میں شیخ احمد یٰسین، السنوار، اور ابو عبیدہ شامل ہیں، اسے بڑے فخر کے ساتھ قبول کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، لبنان اور یمن کے مجاہدین کے حملے "طوفان الاقصیٰ" کا تسلسل ہیں، جس نے امت اور پوری انسانیت کے دشمن کی ہیبت کو توڑ دیا، اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے جرائم پر جنگی مجرموں کے لیے سزا ہیں۔
ابو عبیدہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ برادر ملک لبنان کے خلاف صہیونی جارحیت ایک مکمل جرم ہے۔ انہوں نے لبنان، اس کے عوام اور اس کی مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا، اس کے شہداء کے لیے تعزیت، زخمیوں کے لیے شفا کی دعا کی، اور حزب اللہ کے عظیم مجاہدین کے عزم و حوصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
The world should bookmark and remember this moment, a statement from the US Secretary of State openly acknowledging the punishment of two adult women, not for who they are or for any wrongdoing of their own, but simply because of who they are related to.
This alone exposes the hypocrisy and double standards at play. It raises serious questions about how firmly the US truly stands by its stated principles on women’s rights and individual accountability
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دنبے کی یاد میں لاکھوں جانور قربان کر دیتے ہیں
نواسہ رسول ﷺ کی قربانی کی یاد میں لگی پانی کی سبیلوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں ؟؟
اتنی دشمنی تو کافروں کو بھی اہل بیت رسول ﷺ سے نہیں تھی
جتنی ان نام نہاد مسلمانوں کو ہے
#کربلا#حسین_پھر_حسین_ہے
شکریہ #شیعہ قوم !!
خدا کی قسم اگر یہ لوگ جو آج سیدنا حسین کی یاد میں روتے اور گریہ کرتے ہیں انہوں نے اھل البیت کو زندہ رکھا ہے وگرنا تو ہمارے ملاؤں نے جو پڑھانا تھا آج ہم سب یزید کو بھی رضی اللہ کہہ رہے ہوتے ! اس قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس قوم نے اھل البیت کے دشمنوں کی پہچان بچے بچے کو کروادی !
مفتی فضل ہمدردؔ
🔴 تل ابیب میں امریکی صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور عرب دنیا کے رہنماؤں کی تصاویر پر مبنی مہماتی پوسٹرز آویزاں:
"نئے مشرق وسطیٰ کا وقت آ گیا ہے
ابراہیم معاہدہ"
مرگ بر اسرائیل۔۔۔
یہ شیطانی منصوبہ بھی بدترین ناکامی سے دوچار ہوگا،ان شاءاللہ۔
کچھ رپورٹس کے مطابق بعض مزید عرب ممالک ابراہم اکارڈ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں اور چار نکاتی معاہدہ فلسطین کے حوالے سے زیر غور ہے جو کہ عملاً غزہ و مغربی کنارے سے دستبرداری ہے اور ارض فلسطین کا سودا ہے۔تفصیلات کے مطابق اہلیان غزہ کو دیگر ممالک پناہ دیں گے ۔ غزہ کی انتظامیہ/حماس کو جلاوطن کیا جائے گا ۔ مغربی کنارے کا کنٹرول مزید اسرائیل کے زیر تسلط لایا جائے گا ۔ اور دو انتہائی اہم عرب ممالک اسرائیل کو تسیلم کر کے سفارتی تعلقات قائم کریں گے ۔