پیارے ہم وطنوں!!
یہ جو چاچو پٹرول اور بجلی کی آڑ میں ہم کو لوٹ رہا ہے نا ،یہ IMF کا قرضہ اتارنے کے لئے پیسے اکھٹے کر رہا ہے
دیکھ لینا بہت جلدی ہم IMF سے چھٹکارا پا لیں گے!!
میں نے حساب لگا لیا ہے 😊
آج سے چند مہینے پہلے یہ پتھر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دل پر رکھا تھا لیکن اب یہ پتھر عوام کی شہ رگ پر رکھ دیا گیا ہے۔اگر اسے نہ اُٹھایا گیا اور مرحم پٹی نہ کی گئی تو ایسا نہ ہو جو سری لنکا، بنگلادیش اور اب جو انڈیا میں ہو رہا ہے پاکستان میں ہو اور نہ پاکستان اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔جس دن عوام کے صبر ختم ہو گیا تو پھر سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ حکومت اپنی شاہ خرچیاں ،فری پٹرول ،فری بجلی لاکھوں روپے تنخواہیں اور مراعات بند کر کے عوام کو ریلیف اور سبسڈی فراہم کی جائے۔
روس اور ایران سے سستا تیل خرید کر عوام کو فراہم کیا جائے ۔
#pakistán #پاکستان #oilprices #oilandgas #ogra
آج پیٹرول مہنگا ہونے کی اصل خبر 5 روپے اضافہ نہیں تھی ۔ اصل خبر وہ 100 روپے ہے جو حکومت کی طرف سے ہر لیٹر پر پہلے سے لیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تقریباً
• 84 روپے پٹرولیم لیوی
• 13 روپے سے زائد کسٹم ڈیوٹی
• 2.5 روپے کلائمیٹ لیوی
• تقریباً 16 روپے کمپنی اور ڈیلر مارجن
یعنی 258 روپے کے پیٹرول میں آدھے کے قریب قیمت ایندھن کی نہیں ۔ ٹیکسوں کی ہے۔
پھر کہا جاتا ہے مہنگائی عالمی منڈی کی وجہ سے ہے۔
اگر عالمی منڈی وجہ ہوتی تو حکومت کی آمدن کیوں بڑھ رہی ہے؟
صرف لیوی سے کھربوں روپے اکٹھے ہو رہے ہیں
اور عوام کا جینا محال ہو رہا ہے۔
بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی، سبزی مہنگی، ڈیزل مہنگا، زراعت مہنگی، پیٹرول مہنگا، عام آدمی کی زندگی سستی اور جینا مہنگا۔
مگر اخراجات؟
ان میں کوئی کمی نہیں۔
حکمرانوں کے بیرون ملک دورے ختم نہیں ہوتے ۔
کل آسٹریا، آج برطانیہ اسکے بعد امریکہ
مزید دورے ٹائم لائن میں ۔
اپنے من پسند لوگ بھی وفود میں ساتھ ساتھ ۔
مکمل پروٹوکول کے ساتھ ۔
ایک طرف عوام سے ہر لیٹر پر 100 روپے سے زیادہ وصولی
دوسری طرف ریاست کہتی ہے مشکل وقت ہے ۔
مشکل وقت عوام کیلئے ہے ۔ نظام کیلئے نہیں۔