#PTM Member on site: More than 3,000 of the participants of the #PashtunNationalCourt11October are already on the site, three days before the event time. Tens of thousands are on their way from all corners of Pashtun belt. Meanwhile thousands of security forces are deployed for the potential crackdown. More than 300 PTM leaders & activists are arrested. Local hospitals have received preparation alerts!
#WeRejectBanOnPTM
@ZakimWazirPTM مشره
الله مو ساتونکی شه،خو د مرګ نیټه مخکې وروستو کیږي نه داسی سبق ورله ورکړی،چې تاریخ کې په زرینو کرخو اولیکلی شي
مرګ هم د ګیله من غوندی چې تاریخ پرې ویاړي.
ابھی پشاور ہسپتالوں کے مخصوص زمہ داروں کو سرکاری طور پر پیغام ملا ہے جس میں واضح لکھا ہے کہ آج رات ہسپتال میں ایمرجنسی حالات نافذ کرے کیونکہ آج خیبر جرگہ گراونڈ پر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے مشترکہ کریک ڈاؤن میں جانی نقصانیں ہوسکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی طرف سے تو مکمل اعلان جنگ ہے مگر ہم صوبائی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ فلحال یہ بحث چھوڑ دے کہ حکم وفاق نے دیا ہے بس اپنی طرف سے اس عمل کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے۔
تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے امید کرتے ہیں کہ آج رات گراونڈ میں پرامن پشتونوں کی قتل عام سے پہلے اس عمل کی روک تھام کے لئے کوشش کرے۔
پختونوں کی طرف سے چاروں صوبائی حکومتوں، وفاقی حکومت اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کھلا خط۔
آپ سب کی خیریت چاہتے ہیں۔
۱۱ اکتوبر کو پشتون جرگہ منقعد ہونا ہے جسکا مقصد پشتون بیلٹ میں امن، وسائل اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے مشاورت کرنا ہے جسمیں پورے پشتون بیلٹ سے 30,000 سے زائد علاقائی مشران، قبائلی عمائدین، بااثر شخصیات و علماء، تمام قومی و علاقائی سماجی تنظیموں کے سربراہان، تمام سیاسی پارٹیوں کے مشران اور ضلع لیول تک عہدیدار، تمام پروفیشنز کے یونینز کے ہر ضلعے و تحصیل کے مشران، سٹوڈنٹ یونین کے صدور ، ویمن نمائندگی اور ادبی مشران موجود ہونگے اور مشترکہ طور پر عوامی مسائل اور امن کے لئے مشاورت کرینگے۔
شاید آپ لوگ پشتون روایات سے واقف نہیں ہونگے جرگہ پشتونوں کی ایک مثبت دستور ہے اور اس کی ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس کے انتظامات ہر کوئی کر سکتا ہے مگر یہ اختیار کے لحاظ سے سب کا مشترکہ ہوتا ہے اس پر کوئی ایک تنظیم، تحریک، فرد یا علاقہ دعوی نہیں کرسکتا ہے اور نہ کسی کا مخصوص ہوتا ہے، نہ اس میں نعرے ہوتے ہیں، نہ جنڈے ہوتے ہیں اور نہ کسی ایک تنظیم یا فرد کے ایجنڈے پر ہوتا بلکہ اس کے سب کچھ سب نمائندگی کے برابر اور شریک ہوتے ہیں اور اس کے فیصلے بھی سب کے مشترکہ اتفاق رائے پر ہوتے ہیں۔آپ لوگوں نے نوٹس بھی کیا ہوگا کہ ۱۱ اکتوبر جرگے کو بھی سب پختون بغیر کسی اختلاف کے مشترکہ سپورٹ دے رہے ہیں کیونکہ جرگہ تو اصولاً سب کا مشترک عمل ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ چند پراکسی و ڈالری جنگوں کے حمایتی جرنیلوں اور مسلح پراکسی تنظیموں کی خواہش ہے کہ کسی بھی صورت اس جرگے کو ناکام کرے تاکہ امن کی ایک بہت بڑی کوشش کو سبوتاژ کر کے ڈالری جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار کو برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے حتی کے اپنی کارندوں سے پی ٹی ایم لیڈرشپ پر لوو پروفائل سیٹ اپ میں جان لیوا حملوں کی کوششیں بھی کئے ہیں جس کے ہمارے ساتھ واضح ثبوت بھی موجود ہے۔جنگ نواز قوتیں جرگے ناکامی کے لئے ہر حد تک جائینگے کیونکہ اس جرگے کے کامیابی کہ بعد ہم مکمل گارنٹی کےساتھ کہتے ہیں کہ پختون وطن پر کسی پراکسی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں رہیگی۔
ہم ان قوتوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مزید پختونوں پر رحم کرے اور ظلم بند کی جائے۔
ہمیں پولیس اور سیاسی حکومتوں سے یہی ایک گلہ ہے کہ کم از کم آپ لوگ جرگے کو ناکام کرنے کے لئے سہولتکاری نہ کرے، باقی اُن قوتوں کو خود سامنے آنے دے وہ جو بھی طاقت استعمال کرنا چاہے کر لے حتی کہ پولیس و سیاسی حکومتیں اخلاقی سپورٹ بھی ان ظالموں کو دے مگر صرف فیزیکلی خود سامنے نہ آئے۔ وعدہ ہے کہ اُس اخلاقی سپورٹ پر ہم پختون عوام کبھی بھی آپ لوگوں سے گِلہ نہیں کرینگے اور نہ اسکا کبھی ذکر کرینگے۔
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ جرگے منتظمین کے خلاف جاری کاروائی پولیس وفاقی حکومت کے لیٹر پر کر رہی ہے یا کسی صوبائی حکومت کے لیٹر پر۔اور نہ پولیس سے کوئی غرض ہے اور نہ شاید ان میں سے کسی کو ایسے اعمال کرنے کا کوئی خواہش ہے۔ ہم ان سب کے مجبوریاں اور اختیارات جانتے ہیں مگر ہم سب پختون مل کر ان سب حکومتوں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ سے دِلی درخواست کرتے ہیں کہ صرف اس ایک موقع پر سہولتکاری سے انکار کرو باقی پوری عمر کم از کم پختون بیلٹ میں آپکے امن، آئینی آزادی اور باعزت زندگی کی ضمانت ہم سے لے لو۔
ہم آپ سب کو تفصیل سے واضح کر سکتے ہیں کہ یہ جرگہ ہم پختون عوام اور ہر امن چاہنے والے انسان کے فائدے میں ہے۔
یہ کوئی جلسہ یا جلوس بھی نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ عمل جرگہ ہے جہاں مسائل حل کرنے کے لئے 30,000 ہزار سے زائد پشتون وطن کے مشران مل کر اپنے مسائل کے حل کے لئے مشاورت کرینگے۔
اگر آپ لوگ فزیکلی ظالم کے صف میں کھڑے ہوکر ہمار مثبت روایات پر پابندی لگا کر ہمیں اپنے امن اور حقوق کے لئے ایک جرگہ کرنے کے لئے بھی نہیں چھوڑتے ہو اور طاقت سے جرگے کے عمل کو کچلنے کی کوشش کرتے ہو۔ تو پھر مستقبل میں پشتونوں بلخصوص پشتون نوجوانوں کے کسی بھی سخت موقف اور تم لوگوں کے ان انگنت مظالم پر پشتون نوجوانوں کی ردعمل کے زمہ دار تم لوگ خود ہونگے۔
فیصلہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے کہ پشتونوں کے ساتھ کیا کرنا ہے طاقت یا محبت؟؟؟
ظاہر سی بات ہے کہ پشتونوں کی طرف سے بھی مستقبل میں وہی جواب دیا جائیگا جو آج تم لوگ ان کو دینگے۔
امید کرتے ہیں کہ آپ سب مثبت اور انسانی راستے کا چناو کرینگے اور حتی کہ جنگ نواز قوتوں کو بھی منت کرینگے کہ وہ پشتونوں پر مزید رحم کرے اور امن و حقوق حاصل کرنے میں انکے سامنے روکاوٹ نہ بنائے۔
پنجاب کے سارے نہیں مگر اکثریت سیاسی پارٹیوں کے ورکر پشتون جرگے کی مخالفت کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ جرگہ امن کے لئے ہے۔کیا متحد ہوکر اپنے امن کے لئے ایک جرگہ بھی ہمارا حق نہیں ہے۔؟
وسلم۔
منجانب۔
دنیا کی ایک مظلوم و محکوم قوم پختون
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا پشتون جرگے کی مکمل سپورٹ اور بھرپور شرکت کا اعلان۔
سخت حالات میں اس باجرات فیصلے پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے قیادت کو سلام۔زندہ باد
#11oct_Unity_Day
@mobeenKhan1312 خدای به مو له لوږې نه مړ کوی ته خپله مبارزې جاری وساته د پاکستان نوی حکومت د امریکا په لاس جوړ شو کله به دروازې بندوی کله به داغش راپیدا کوی د خپل بادار په لاس هیڅکله خپلې مبارزې پرینږدي انشاء الله
رب له مونږ سره له اسمان څخه راته مقرار ده له لوږې به نه مرو