ٹھیک ڈرامہ بازی چل رہی ہے پٹرولیم قیمتیں بڑھاتے بیس تیس چالیس روپے تھے کم کرنے کی باری تین چار پانچ روپے ۔۔۔ حد ہے پٹرول چار، ڈیزل دو روپے فی لٹر سستا۔۔۔ !!
ٹھیک ڈرامہ بازی چل رہی ہے پٹرولیم قیمتیں بڑھاتے بیس تیس چالیس روپے تھے کم کرنے کی باری تین چار پانچ روپے ۔۔۔ حد ہے پٹرول چار، ڈیزل دو روپے فی لٹر سستا۔۔۔ !!
گلگت بلتستان میں عوام کے حق پر ڈاکا ڈال کر مینڈیٹ چوری کر کے اقتدار کی بندر بانٹ جاری ہے یہ بندر بانٹ 28ویں ترمیم کے تناظر میں ہونے والے مک مکا کے تحت ہو رہی ہے
26 نمبر کے مقام پر یہ اسلام آباد پولیس پاگل حرام جانوروں کی طرح پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کرنے کیلئے حملہ آور ہو رہی ہے
جب تک پورے پاکستان سے قافلوں کے ہمراہ اسلام آباد میں داخل نہیں ہوا جائے گا ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کو سری نگر ہائی وے کے اسلام آباد انٹری پوائنٹ پر روک دیا گیا۔ سہیل آفریدی بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کے لئے جارہے تھے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
عمران خان
#WhereIsImranKhan
اسلام آباد میں اسٹامپ فروشوں کے مختلف ریٹس ہیں، بارگیننگ کریں تو 100 سے 200 کم کر دیتے ہیں، پیسہ کمانا ہے تو یہ کام سیکھ بھی لیں اور شروع بھی کر دیں، کھلا پیسہ ہے، خاص طور پر آبپارہ میں کیونکہ یہاں ایمبیسیز کیلئے کام بہت ہے، باقی سرکار نے کیا نوٹس لینا ہے، سب مایا ہے۔۔!!
آج خان صاحب کو پمز نہیں لے کر آئے تو قیادت کیسے بھاگ بھاگ کر پمز جا رہی ہے۔۔۔۔۔
جب پمز لے کر جاتے رہے تو قیادت خاموشی سے اپنے گھروں میں رہتی تھی اور باہر آنے کی زحمت نہیں کرتی تھی
آج سب کا پمز جانا سمجھ تو گئے ہیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہو گی کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے یا بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے خبر چلائی گئی۔
لیکن میری رائے میں اے آر وائے ایسی خبر بغیر اجازت کے نہیں چلا سکتا اور اس خبر کا تعلق معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے نہیں تھا۔
کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔
اگر مقصد کشمیر کے قتل عام سے توجہ ہٹانا یا راولاکوٹ کے انٹری پوائنٹ پر موجود ان لاکھوں لوگوں سے توجہ ہٹانا ہے
تو یاد رکھیں کہ عوام کی نظریں مسلسل راولاکوٹ پر مرکوز ہیں اگر آج رات کوئی قتل و غارت کا تمھارا منصوبہ ہے تو عوام اس پر خاموش نہیں رہے گی
#WhereIsImranKhan