یہ دو شخصیات پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں ہوتی تو حکومت ان کی خدمات کے عوض ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ دیتی ۔
کیونکہ یہ لوگ خاموشی سے اپنا سماجی کام کر رہے ہیں متوسط طبقے کے ہیں حکومت کی شان میں قصیدے نہی لکھتے اس لیے یہ تمغہ کے مستحق ہیں ۔
ولی اللہ معروف نے پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کا عظیم کام کیا ہے ۔ بغیر کسی ریسورسز حکومت کی سپورٹ کے بغیر کے وہ کام کر رہا ہے جو ریاستی ادارے بھی نہی کر پاے ۔۔
یہ وہ شخص ہے جو برسوں سے گمشدہ اور بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کئی ایسے خاندان جنہوں نے اپنے پیاروں کی واپسی کی امید تقریباً چھوڑ دی تھی، سوشل میڈیا، تحقیق اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دوبارہ ایک دوسرے سے ملے۔
کسی کا بیٹا کئی دہائیوں بعد ماں باپ سے ملا، کسی ماں کو برسوں بعد اپنی اولاد کا پتا چلا اور ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں پاکستان سے باہر موجود خاندانوں کو بھی اپنے بچھڑوں تک پہنچانے میں مدد ملی۔
یہ کام صرف ایک پوسٹ لگانے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے دن رات کی محنت، لوگوں سے رابطے، معلومات کی تصدیق، مختلف شہروں اور ملکوں تک رسائی اور سب سے بڑھ کر ایک بے لوث جذبہ چاہیے۔
جبکہ دوسری طرف ٹیچر عثمان ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔جہاں اسلام اباد کا زمینی پانی ختم ہو گیا ہے یہ شخص انڈر واٹر کنوئیں بنا کر بارش کے پانی کو واپس زمین کے حوالے کر رہا ہے ۔ بلوچستان پنجاب ازاد کشمیر جہاں جس نے بولایا یہ شخص پہنچا ۔
اس کے اس اقدام سے پاکستان میں میں ایسی ایسی جگہوں پر جہاں پانی نہی تھا سالوں سے بور خشک ہو گئے تھے لوگ روزانہ ٹینکر سے پانی خریدنے پر مجبور تھے اج وہاں زمینی پانی ا رہا ہے ۔
اس شخص نے لوگوں کو اگاہی دی پانی کی اک اک بوند قیمتی ہے جو بارش کے بعد اپکے پکی سڑکوں کی وجہ زمین میں واپس نہی جارہی ہے ۔۔
یقیناً یہ دونوں شخصیات تمغوں کے محتاج نہیں، مگر اگر یہ تمغے ان کے سینوں پر سجتے تو شاید تمغوں کی قدر و منزلت ہی دوگنی ہو جاتی ۔
*بہترین زندگی گزارنے کے 15 اصول*
01. دعوت دیر سے ملے = انکار کر دیں
02. دعوت نہ ملے = نہ جائیں
03. بھلا دیا جائے = انہیں بھول جائیں
04. استعمال کیا جائے = حدیں مقرر کریں
05. نظر انداز کیا جائے = رابطے روک دیں
06. دھوکہ ملے = معاف کر کے آگے بڑھیں
07. قدر نہ ہو = دوری اختیار کر لیں
08. توہین ہو = کامیابی سے جواب دیں
09. بے عزتی ہو = وقار سے دور ہو جائیں
10. کم سمجھا جائے = نتائج کو بولنے دیں
11. جھوٹ بولا جائے = الفاظ نہیں، عمل پر یقین کریں
12. قدر نہ کی جائے = اپنی کوشش روک لیں
13. موازنہ ہو = اپنی منفرد اہمیت جانیں
14. تھکاوٹ ہو = اپنی توانائی کی حفاظت کریں
15. آزمائش ہو = مضبوط رہیں، ہار نہ مانیں۔
جب آپ بدترین حالات میں ہوں
تو دھیان دیں کہ کون ہے جو اب بھی آپ میں خوبصورتی دیکھتا ہے
دھیان دیں کہ کون ہے جو آپ پر رحم کرتا ہے اور آپ کے لئے ستر عذر تلاش کرتا ہے۔
جب آپ غائب ہوں اور کسی سے ملنا نہ چاہیں؛
تو دھیان دیں کہ کون ہے جو آپ کو تلاش کرتا ہے اور آپ کے قریب رہنا چاہتا ہے۔
جب آپ بجھے ہوئے ہوں
تو دھیان دیں کہ کون ہے جو آپ کی توانائی بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے اور آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لاتا ہے۔
محبت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم مشکل اور کمزوری
کے لمحات میں ہوں۔
In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.
ہندوستان کے خلاف آج کے میچ کے لیے "پاکستان" کرکٹ ٹیم کے لیے نیک تمنائیں! جیسا کہ عمران خان کہتے ہیں"شکست آپکو تباہ نہیں کرتی بلکہ شکست سے جذبہ ہار جانا آپکو تباہ کرتا ہے- اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آپ ایک مضبوط کم بیک کرسکتے ہیں-
#PakvsInd
یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے خان کی آواز میں درد محسوس کیا تھا۔
اسکے بعد قوم نے اپنے آپ سے عہد کیا تھا کہ عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا جائے گا۔
اور آج تک قوم ڈٹی ہوئی ہے۔
It's not about politics. It's about saving life of my sister #BushraImranKhan and bring the truth out about how she has suffered and is suffering but still standing tall and loyal with her husband @ImranKhanPTI.
She must be immediately allowed doctors from Shaukat Khanum for checkup. They didn't let the family or lawyer see her for 11 days when she was given dangerous food so that her condition can be hidden from public. Only #imrankhan was told to pressurize him.
@MuradSaeedPTI
#BushraImranKhan
#BushraBibiNeedsHelp
#BushraBibiNeedsMedicalCheckUp
عمران خان نے ایسا جادو کردیا ہے کہ لوگ ہماری بات نہیں مانتے، ہم ثبوت دیکھاتے ہیں لوگ پھر بھی کہتے ہیں نہیں یہ فرشتہ ہے۔ اس کے ووٹر ہمیں سلام کا جواب نہیں دیتے۔ راجہ ریاض صاحب کی #سوالنامہ میں گفتگو۔
تحریک انصاف نے تاریخ رقم کر دی- ۱۸۰ سیٹیں ہیں پی ٹی آئی کے پاس اور ن لیگ کے پاس ۱۴۔ ساری طاقتیں ہونے کے باوجود وہ عمران خان اور عوام کو نہیں ہرا سکے کیونکہ وہ بھول گئے تھے کہ ان کی طاقتوں کے اوپر بھی ایک طاقت ہے، جس پر عمران خان اور عوام نے بھروسہ کیا ہوا ہے۔ #مینڈیٹ_عمران_خان_کا
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا تو وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثیتِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔