3 گھنٹے گزر چکے ہیں کہ شہباز شریف سمیت دیگر مسلم ممالک کے حکمران یہ سوچ رہے ہیں کہ کن الفاظ میں رہبر معظم کی شہادت پر افسوس اور مذمت کی جائے کہ ہمارے روحانی والد ٹرمپ صاحب ناراض نہ ہوں۔
24 گھنٹے ہونے کو ہیں کہ ایران تن تنہا امریکہ ،اسرائیل اور اس کے اتحادی تیس چالیس ممالک بشمول مسلم ممالک کے خلاف لڑ رہا ہے ، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے بڑے اور طاقتور حملے کے مقابلے میں کوئی ایک ملک اتنی مزاحمت کر سکتا ہے ، جذبہ ایمانی کے بغیر یہ ناممکن تھا
جن کی رافضی رافضی کہہ کر ہمارے ملاؤں نے ہمیشہ تضحیک کی وہ ہم سے ایمان میں کہیں آگے نکلے۔ہم نے ایٹمی طاقت ہو کر بھی امریکا کو مائی باپ بنا لیا وہ بنا ایٹمی طاقت کے آخری دم تک امریکا کے گلے کا کانٹا بنے رہے۔۔
حشر کو ہو گا معلوم کے جیتا کون اور ہارا کون