‼️ وسطی کرم پاراچمکنی کے علاقے تبی تنگی بیرا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔
‼️ جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل وانا کے علاقے ثمرباغ اور حدودِ چینو خواہ کے پہاڑی سلسلے میں صبح سویرے سیکیورٹی فورسز نے مبینہ جنگجوؤں اور مسلح افراد کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شدید شیلنگ کا نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں تاحال کسی جانی ��ا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
‼️ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کے مطابق پشاور میں اُرمر تھانے کی حدود میں شمشتو کیمپ کے قریب کارروائی کے دوران اسلامک اسٹیٹ خراسان (IS-KP) سے وابستہ پانچ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مطلوب کمانڈر عمران عرف عبداللہ، بلال اور ابوبکر شامل ہیں، جن پر فروری 2026 میں اسلام آباد کے ترلائی امام بارگاہ خودکش دھماکے، 2023 میں باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جلسے پر بم حملے، جبکہ باجوڑ میں مولانا خان زیب، سینیٹر ہدایت الرحمان اور ریحان زیب کے قتل سمیت متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ایک اور ہلاک شخص کی شناخت اپر مہمند کے شاہد اللہ کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ باقی تین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران کمپاؤنڈ سے اسلحہ، دستی بم اور ایک دیسی ساختہ بم (IED) برآمد کیا گیا۔
‼️ آئرلینڈ کی وزیر خارجہ و تجارت ہیلن مک اینٹی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بلوچستان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستانی حکام کے ��اتھ سفارتی ذرائع سے انسانی حقوق سے متعلق خدشات مسلسل اٹھا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان آئرش قانون ساز روتھ کوپنگر کی جانب سے بلوچستان میں شہری ہلاکتوں کی رپورٹس اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کے اظہار کے جواب میں سامنے آیا۔ ہیلن مک اینٹی کے مطابق اسلام آباد میں آئرلینڈ کا سفارتخانہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے یورپی یونین کے وفد اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی رابطے میں ہے، جبکہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق آئرش حکام پاکستان کے ساتھ براہِ راست اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی فورمز پر بھی انسانی حقوق کے معاملات اٹھا چکے ہیں۔
‼️ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس میں 3 ستمبر کو فرنٹیئر کور کے قافلے پر کیے گئے مبینہ گھات لگا کر حملے کی ویڈیو جاری کردی۔ بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق حملہ تنظیم کے ’’فتح اسکواڈ‘‘ نے کیا، جس میں کم از کم 17 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
‼️ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مبینہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے ارکان نے ڈپٹی کمشنر (DC) تمپ اسکواڈ کی ایک گاڑی قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، فرنٹیئر کور (FC) اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے یہ کوشش ناکام بنا دی۔
‼️ قلات میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہر��ہ پر مسلح افراد نے ایک مسافر کوچ کو روک کر مسافروں کو گاڑی سے اتار دیا اور مبینہ طور پر کوچ اور اس کے ڈرائیور کو اپنے ساتھ لے گئے۔ دوسری جانب قلات ٹول پلازہ سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دھماکے سے پل کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں المحمود مسافر کوچ بے قابو ہوکر حادثے کا شکار ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں کسی مسافر کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی نے اپر دیر کے علاقے واڑئی سلطان خیل میں اپنے جنگجوؤں کی مبینہ گشت کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں مسلح افراد کو علاقے میں گشت کرتے اور مقامی بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
‼️ خیبر پختونخوا پولیس نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس تنصیبات پر مضبوط اوورہیڈ جال نصب کرنا شرو�� کردیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کے ذریعے ممکنہ حملوں کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ یہ دفاعی حکمتِ عملی یوکرین جنگ کے دوران کم لاگت والے ڈرونز کے خلاف اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات سے متاثر ہوکر اپنائی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے ساتھ ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال اور خطرے کے پیشِ نظر پولیس تنصیبات کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
‼️ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے 15 اگست سے 9 ستمبر 2026 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول ک��نے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ کے جاری کردہ بیان کے مطابق 9 ستمبر کو بی ایل ایف کے جنگجوؤں نے چاغی کے علاقے برامچہ میں تلاران پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا، پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا، اسلحہ، سامان اور ایک گاڑی قبضے میں لے لی جبکہ تھانے کی عمارت اور ریکارڈ کو نذرِ آتش کردیا۔ بیان کے مطابق زیرِ حراست پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد بغیر کسی نقصان کے رہا کردیا گیا۔ اسی روز تنظیم نے سُراب کے علاقے گیدر میں گرڈ اسٹیشن کے قریب پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کرنے اور جانی و مالی نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا۔
بی ایل ایف کے مطابق 7 ستمبر کو آواران کے علاقے گڈھوپ، پیراندر، حمال بازار میں فوج کی ایک چوکی پر آئی ای ڈی حملے میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ اسی روز چاغی کے علاقے پڈاگ میں راسکو ایٹمی مقام پر فائبر آپٹکس اسٹیشن کو حملے کے بعد آگ لگا دی گئی اور مشینری و دیگر سامان تباہ کیا گیا۔ 4 ستمبر کو خضدار کے علاقے نوغے میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مغلی کراس کے مقام پر فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملے میں چھ اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسی روز نوغے میں بابل ہوٹل کے قریب رحم�� اللہ نامی شخص کو، جسے تنظیم نے ریاستی ایجنٹ قرار دیا، قتل کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ شخص نے شفیق مینگل کے زیرِ انتظام کیمپ میں سرگرمیوں کا اعتراف اور وہاں داعش کے ارکان کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔
تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ 3 ستمبر کو رخشان کے علاقے گورگی میں یوفون کے مواصلاتی ٹاور پر حملہ کیا گیا۔ یکم ستمبر کو آواران کے کولواہ میں پیدل گشت کرنے والے اہلکاروں پر حملے میں دو اہلکاروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ 30 اگست کو تمپ کے علاقے نیزرآباد میں سجاد عرف تاج کو ہلاک کرنے کا کہا گیا ہے۔ 28 اگست کو کوئٹ�� میں کسٹمز دفتر کے قریب پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کا دعویٰ بھی بیان میں شامل ہے۔ مزید برآں، بی ایل ایف نے 29 اگست کو بارکھان میں ذوالفقار امیر بزدار کو حراست میں لینے اور 14 روزہ تحقیقات کے بعد قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بی ایل ایف نے اپنے بیان میں پولیس اہلکاروں کو اپنی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے یا جنگجوؤں پر حملہ کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بصورتِ دیگر انہیں فوج کے معاونین تصور کیا جائے گا۔
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے ایف آر پشاور میں پولیس اہلکار خورشید نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے ��امنے سرنڈر کرتے ہوئے آئندہ پولیس کی ڈیوٹی نہ کرنے اور روزگار کا متبادل ذریعہ اختیار کرنے کا عہد کیا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے بیان کے مطابق مذکورہ اہلکار کو علاقے کے مشران کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ بیان میں سیکیورٹی اہلکاروں، بالخصوص پولیس، سے بھی پولیس کی ملازمت ترک کرنے اور ٹی ٹی پی کی مخالفت سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی کی رہبری شوریٰ کے رکن مفتی غفران نے رڼا ٹیلی وژن کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستانی حکومت کے ان دعوؤں کو م��ترد کیا ہے کہ ان کی افغانستان کی جانب فرضی سرحد کے اُس پار پناہ گاہیں موجود ہیں۔ مفتی غفران کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے سرحد کے اُس پار خیبر پختونخوا، بلوچستان اور حتیٰ کہ پنجاب کے علاقوں میں تقریباً 40 ولایات تشکیل دے رکھی ہیں اور انہیں اپنے کنٹرول میں قرار دیا ہے، اس لیے انہیں کسی دوسری جغرافیائی حدود کو استعمال کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔
‼️ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ افغانستان دشمن ریاست نہیں اور قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان طلبہ پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام افغان طلبہ کو واپس افغانستان بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور قانونی ویزا رکھنے والے طلبہ پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں۔ تاہم، بعض طلبہ کے مطابق درست ویزا رکھنے والے افغان طلبہ کو بھی افغانستان واپس جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے نوٹیفکیشنز میں بھی ویزا رکھنے والے افغان طلبہ کے پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ پی ایم ڈی سی نے طبی تعلیمی اداروں کو موجودہ پالیسی کے تحت زیرِ تعلیم افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق ہدایات دی ہیں۔
‼️ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج شروع کردیا، جس کے تحت صوبے بھر کے اسپتالوں میں او پی ڈی اور اختیاری طبی خدمات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ٹی ایم اوز اور ہاؤس آفیسرز نے بھی صوبہ گیر بائیکاٹ میں شمولیت اختیار کرلی۔ ڈاکٹروں نے حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کو مسترد کرتے ہوئے 30 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
‼️ مقامی ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلح افراد نے سڑک کی تعمیر کا کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی نے ہنگو کے انارچینہ پولیس مرکز پر حملے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز سہ پہر اس کے جنگجوؤں نے پہلے پولیس مرکز پر اسنائپر سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق بعد ازاں کمک کے لیے آنے والے فوجی قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، جس میں چھ اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے مزید دعویٰ کیا کہ رات کے وقت علاقائی عمائدین کی ضمانت کے بعد آٹھ پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران 54 ہینڈ گرنیڈ، 16 کلاشنکوفیں، ایک جی تھری، ایک آر پی جی-7، ایک ایل ایم جی، ایک پیکا، ایک دشکہ، ایک خفیہ ہتھیار، دو پستول، دو نائٹ وژن دوربینیں، 20 آر پی جی-7 گولے، 50 کلاشنکوف میگزین، کلاشنکوف گولیوں کے پانچ بکسے، پیکا گولیوں کے پانچ بکسے، ایل ایم جی گولیوں کے 12 بکسے اور دشکہ گولیوں کے چھ بکسے بھی قبضے میں لیے گئے۔
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے انٹیلی جنس ونگ نے بنوں میں ایک پاکستانی فوجی اہلکار کو زندہ گرفتار کرنے کے بعد قتل کردیا۔ ٹی ٹی پی کے مطابق یہ اقدام کرم میں مارے گئے جنگجوؤں کی لاشوں کی مبینہ بے حرمتی کے ردعمل میں کیا گیا۔
‼️ بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) نے بلوچستان کے ضلع کچھی کے شہر بھاگ میں 4 ستمبر کو کی گئی کارروائی کی مبینہ ویڈیو جاری کردی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے نادرا دفتر، اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر، صدر تھانے اور نیشنل بینک سمیت متعدد سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بی آر جی نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران 5 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ��کیورٹی فورسز کے 2 کواڈکاپٹرز بھی مار گرائے گئے۔ تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران بعض سرکاری مقامات سے سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔