ہمیں کہا گیا کے پی میں PTI کی حکومت گرا کر آپ حکومت بنائیں، میں نے کہا: آپ ہمیں لوگ مہیا کر کے دیں گے میں اس گھوڑے پر سوار نہیں ہوں گا جس کے باگیں میرے ہاتھ میں نہ ہوں۔ مولانا فضل الرحمن
مولانا صاحب : اس بندے کا نام اور عہدہ بتائیں۔ آدھی ادھوری باتیں تو سب ہی بتاتے ہیں
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
ہم تین بہنیں گھر سے یہ فیصلہ کر کے نکلی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ موت اجانی ہے تو اللہ ہماری شہادت قبول کرے
آزادی یا شہادت ، ہمیں ایران سے سیکھنے کی ضرورت ہے
علیمہ خان
🚨 خیبرپختونخوا مزاحمت کرے اور لیڈ کرے پنجاب کو ساتھ لے کر چلے اب یہ ہماری ضرورت ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نکلیں انہوں نے تحریک انصاف کی 100 سے زائد سیٹیں چوری کی ہیں عمران خان سرنڈر نہیں کر رہے عوام بھی سر نہیں جھکائیں گے ۔
علیمہ خان کا کبل چوک میں خطاب
فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خان کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ڈٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔
بنوں میں حملہ ہوا پاک فوج نے کہا یہ بھارت نے کروایا ہے۔ لیویز اہلکاروں پر ہوا ، پاک فوج نے بتایا یہ بھارت نے کروایا ہے۔ مستونگ فوجی قافلے پر حملہ ہوا پاک فوج نے بتایا یہ بھارت نے کروایا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ بھارت کو روکنے میں پاک فوج ناکام ہے تو وہ غدار ہے۔
آپ سب کی فرمائش پر نورین خان کا کلپ حاضر ہے۔
اگر مودی چاہتا تو اِن کو فکس کر سکتا تھا،
یہ سب مودی اور اِن کی ملی بھگت تھی،
اِن لوگوں نے اسرائیل کو تسلیم کر لینا تھا یہ تو امریکہ اور ایران کی جنگ بیچ میں آ گئی، ورنہ یہ اب تک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہوتے، نورین خان نیازی
فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ نے جو سیٹیں پی ٹی آئی سے چھین کر فارم 47 کے ذریعے دی تھی وہ ابھی تک واپس نہیں کی
فضل الرحمن کو عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلیے لانچ کیا گیا ہے
عوام انکو انقلابی تب مانے گی جب انکے بیٹے نااہل ہونگے ان کے 25 ہزار ورکرز گرفتار ہونگے اور ان پر FiR ہوں گی
عمران ریاض خان
میں اگر ڈیل کرتا تو میری ملاقات عمران خان سے ہو جاتی ۔ اسکا مطلب ہے میں منافق نہیں ہوں : سہیل آفریدی
اسکا ایک مطلب اور بھی ہے۔ اگر ملاقات ہوتی تو ہدایات بھی ملتیں اور عمل بھی کرنا پڑتا ۔ اسی لئے اسٹیبلشمنٹ نے آپ کو محفوظ رکھنے اور وقت گذارنے کیلئے اس آزمائش میں ڈالا ہی نہیں