Friends in Khartoum are reporting sounds of gunfire and explosions. Very ominous sign, following days of mounting tension between the leaders of the army and the RSF paramilitaries.
As long as you’re killing or genocide Muslim, its normal business as usual like in China, Myanmar, Iraq, Syria, Yemen, or even in India. As soon as you say something wrong related to Islamic prophet, the world is upside down and will be burned.
عمران خان تقاریر میں فوج کے سربراہ کو میر جعفر کہا۔ شہباز شریف نے اسیمبلی میں کہا کہ جتنی سپورٹ لاڈلے کو ملی، اتنی ہمیں ملتی پتا نہیں کیا کر لیتے۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ یعنی ادارے پر کھلے عام بات بھی ہو رہی اور یہ بھی کہ ادارہ اڑیاں بھی بہت مارتا ہے۔
تحریک انصاف والے مقصود چپڑاسی کو روتے تھے، بلکہ بیزار کر دیا تھا۔ اب ن لیگ والے گوگی کو رو رہے ہیں ۔ اس بھلاکڑُ قوم کو خود ہی سیاسی شہید دے رہے ہو پلیٹ میں رکھ کر۔
جب تک عمران حکومت تھی تقریباً روز شریفوں کو گالیاں دیتے رہے، کام کوئی نہیں کیا۔ اب ن لیگ والے اگر ہر روز اینٹی عمران کھیلیں گے تو دونوں میں کیا فرق رہے گا؟ وہی عمران والی غلطی دہرانے کیا تک بنتی ہے؟
بی جے پی والوں کے لیے مودی بھگوان کا اوتار ہیں۔ تحریک انصاف کے لیے عمران ایک جدید خلیفہ۔ دونوں ہی اپنے مخالف کو ملک دشمن اور غدار سمجھتے ہیں۔ دونوں جانب کے ورکر ایک جیسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہر وقت ہائپر لیول۔
طاقتورطبقہ اور حکمران کو جب بھی موقعہ ملتا ہے وہ بہت ظلم ڈھاتے ہیں۔ مغربی ممالک نے افغانستان، عراق اور شام کو تباہ کیا، سعودی نے یمن کو، ترکی نے کردوں کو، ہٹلر نے یہودیوں کو مارا۔ انڈیا اور پاکستان میں طاقتور طبقہ آرام سے اقلیتوں کو مار رہا ہے۔
انڈیا میں پرانی مسجد یا اسلامی عمارت کی نیچے مندر ہونے کا الزام، اور پاکستان میں مذہبی توہین کا الزام۔ دونوں ہی جگہ ہجوم نکلتا ہے اور خونریزی کرتا ہے۔ پتھر کے دور کے وحشی لوگ۔
ایک بار میں نے سندھ میں عورتوں اور لڑکیوں کے اغوا کے اعداد و شمار اکھٹا کرنا شرو�� کیے۔ بیس دنوں بعد میری ہمت جواب دے گئی۔ مایوسی اور ڈپریشن کے گھیر لیا۔ نیند میں کمسن لڑکیوں کے چیخیں سنائی دیتی تھیں۔
جس طرح کراچی میں ہتھیار کے زور پر موبائل چھینے جاتے ہیں اسی طرح اندرون سندھ میں دو تین بندے ہتھیار لے کر کسی کے بھی گھر گھس کر لڑکیوں، عورتیں کو اغوا لر لیتے ہیں۔ کئی دنے کے اجتعمائی ریپ کے بعد یا تو بیچ دیتے ہیں یا پھر واپس کر دیتے ہیں۔
کل سندھ کے ایک شہر ڈہرکی میں پندرہ سالہ ہندو لڑکی فرزانہ اوڈ کو اغوا کیا گیا۔ اب یہ کمسن لڑکی یا تو کسی اندھیرے کمرے میں اجتعمائی جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہوگی یا دو تین دنوں میں کسی پیر کے ڈیرے پر زبردستی اسلام قبول کروا کر شادی کی خبر سنیں گے۔
#DuaZehra
برطانیہ میں پاکستانیوں نے کمسن انگریز لڑکیوں کے سیکس گینگ چلائے۔ پاکستان میں ہندوں اور مسیحی لڑکیوں کی جبراً مذہب کی تبدیلی اور شادی کروانا ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ اب اس لسٹ میں شیعہ لڑکیاں بھی شامل۔ کرنے والے اپنے حساب میں دین کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ #DuaZehra