بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عدنان رند ولد عبدالقدوس کو ایک بار پھر پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
"گوربام نیوز"
No matter how heavy the repression in Balochistan becomes, it cannot silence the collective voice of its people. The ongoing crackdown on the Baloch Yakjehti Committee is not about law and order , it is a direct attack on those who dare to speak out against enforced disappearances and demand that the state respect its own constitution and laws.
For over seven months, five BYC leaders have been held in unlawful detention. Yet, despite their imprisonment, the state has failed to silence their conscience. Now, in a blatant display of authoritarianism, these activists are being subjected to jail trials, a practice that undermines every principle of transparency and justice.
In Turbat, our comrades Naz Gul Baloch and Syed Bibi Baloch are facing harassment through their inclusion in the Fourth Schedule, an act of intimidation designed to force them out of political and human rights work. I, too, have been named in dozens of FIRs, and my name has been placed on the Fourth Schedule, NECTA, and the Exit Control List (ECL). Meanwhile, our fellow Nazar Mari has been forcibly disappeared for two months, yet the resistance continues to grow. The state has failed to suppress the voices of Balochistan because this movement is not built on fear , its is built on the unwavering demand for justice and dignity.
On October 19, a protest was held in Quetta for the recovery of Nazar Mari. Recently, demonstrations were organized for the safe return of Wahab Baloch and Nazir Baloch, where families of the disappeared — including Naseeda Baloch, sister of Sagheer Baloch, and Saira, sister of Asif and Rasheed , demand the truth about their missing loved ones. Their courage is a testament to the strength of a people who refuse to be broken.
To those who celebrate the idea of a “hard state,” we ask: How many voices will you silence? How many mothers will you make weep? Can you silence an entire nation? What is happening in Balochistan is not merely protest — it is the eruption of a long-suppressed public anger. The more force is used to contain it, the stronger and more uncontainable it becomes.
Repression, intimidation, and false cases are not solutions. The path to peace and stability lies only in truth, justice, and respect for human rights. The immediate end to enforced disappearances, the release of political prisoners, and an end to the harassment of activists are not demands , they are moral imperatives.
Until that day comes, we will continue to raise our voices — peacefully, courageously, and relentlessly , because no amount of fear can silence the demand for justice, dignity, and freedom in Balochistan.
#ReleaseNazarMarriBaloch
#ReleaseWahabBaloch
#ReleaseNazeerBaloch
#ReleaseBYCLeaders
#EndEnforcedDisappearences
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں 32 افراد، جن میں متعدد بلوچ کارکن بھی شامل ہیں، کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11-EE کے تحت “ممنوعہ افراد” کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
"گوربام نیوز"
بلوچستان کے ضلع خضدار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
"گوربام نیوز"
بلوچ نیشنل موومنٹ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ پارٹی نے امریکا میں وائٹ ہاؤس کے سامنے ایک آگاہی مہم کا انعقاد کیا، جہاں کارکنوں نے بلوچستان کے علاقے زھری میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالنے والے پمفلٹس تقسیم کیے۔
"گوربام نیوز"
پانچ دن گزر چکے ہیں مگر وھاب اور نذیر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ وہ طالبعلم ہیں مجرم نہیں۔ اگر انہیں صرف بلوچ طالبعلم ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ بہت بڑا ظلم ہے۔
وھاب اور نذیر کے لیے آواز بلند کریں۔
#ReleaseWahabbaloch#ReleaseNazeerbaloch
بلوچ سیاسی کارکن علی اصغر کی جبری گمشدگی کو 24 سال مکمل ہونے پر ان کے بیٹے غلام فاروق نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے والد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
"گوربام نیوز"
تیرہ نومبر “یومِ شہدائے بلوچ” کے نسبت آنلائن مہم چلائی جائے گی، بلوچ قوم بھرپور حصہ لیں۔
مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
تیرہ نومبر “ یومِ شہدائے بلوچ” کے طور پر بلوچ قوم بلوچستان سمیت پورے دنیا میں مناتی ہے اور قوم کے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں ہم اپنے ان عظیم فرزندوں کو یاد کرکے ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کی آزادی کی خاطر اپنی لہو بہا کر ہمیشہ کے لیے بلوچ قومی تاریخ میں امر رہے۔
تیرہ نومبر وہ دن ہے جب میر محراب خان نے انگریز سامراج کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اپنایا اور بلوچ سرزمین کے دفاع میں لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی۔ یہ وہ فلسفہ ہے جہاں بلوچ قوم کے فرزندوں نے مختصر اور غلامی کی زندگی کے بجائے مزاحمت اور آزادی کا نظریہ اختیار کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہونے کا فیصلہ کیا۔ تب سے لے کر آج تک بلوچ قوم کے فرزندوں نے ہر غلامی اور بیرونی یلغار کے خلاف سینہ سپر ہو کر جدوجہد کی ہے۔ اس قوم کے ہر فرد کی رگوں میں مزاحمت اور قومی آزادی کا جذبہ شعور کے ساتھ دوڑ رہا ہے، جسے کوئی بھی طاقت کمزور نہیں کرسکی ہے۔ کیونکہ یہ وہ عظیم فلسفہ ہے جو آزادی کی لہو سے سینچی گئی ہے جس کا مقصد بلوچستان کی عظیم آزادی کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔
بی ایس او آزاد کی جانب سے تیرہ نومبر کو “ یومِ شہدائے بلوچ” مختص کرنا اور اس دن کو قومی سطح پر تسلیم کرکے اپنے عظیم شہدا کو یاد کرنا بلوچ قوم کی قومی طاقت و اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ دن قربانیوں کی داستانوں سے بھرا وہ موقع ہے جہاں بلوچ قوم کا ہر فرد یکجاہ ہوکر قربانی کے فلسفے کو نہ صرف جزبہ کے ساتھ مناتی ہے بلکہ شعوری طورپر اس فلسفہ کو سمجھ کر اس پر عمل کرکے بلوچ فرزند بلوچستان کی آزادی و قومی ریاست کو بحال کرنے کے قومی جہد میں رواں دواں ہیں۔
بلوچ قوم کی جانب سے تیرہ نومبر ہرسال بلوچستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی عقیدت سے منائی جاتی ہے۔ اسی طرح تنظیم بھی سوشل میڈیا میں آنلائن مہم سمیت بلوچستان بھر میں اس دن پر مختلف سرگرمیاں کرتی ہے۔ اس سال تیرہ نومبر “یومِ شہدائے بلوچ” کے مناسبت سے سوشل میڈیا میں منظم آنلائن مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ ہم بلوچ قوم کے تمام قومی اداروں و عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مہم میں شامل ہوکر بھرپور حصہ لیں اور اپنے عظیم قومی شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ آپ جہاں بھی ہیں اپنی قومی شہیدوں پر سوشل میڈیا میں مضمون لکھیں، ان کی داستان و فلسفہ کو بلوچ قوم سمیت دنیا بھر میں اجاگر کریں، ان کے ویڈیوز بنا کر شائع کریں، اور جہاں بھی ہو شہدا پر سیمنار و دیگر سرگرمیں منعقد کریں۔
#13NovBalochMartyrsDay
https://t.co/BjI7xFJ275
https://t.co/2DGmmEdn69