The ongoing military operation in Dera Bugti has resulting in the abduction and killing of the Baloch people. BSO Azad
The spokesperson of the Baloch Organisation Azad has expressed deep concern over the military aggression of Pakistani forces in various areas of Dera Bugti, including Sui. According to reports, numerous Baloch people have been abducted and killed by Pakistani forces. The military continues to bombard many areas, and there have been reports of illegal raids on the houses of Roshan Bugti and the subsequent abduction of him and his son Ahmed Ali by army troops. Additionally, the military troops are also looting resources from the houses of Baloch people under the pretext of their so-called operation.
The spokesperson stated that the Pakistani military is actively engaged in the killing and disappearance of hundreds of thousands of people, and the situation is deteriorating with each passing day. Baloch areas, ranging from Dera Ghazi Khan to Makuran, are not safe from Pakistani terrorism. The ongoing military operation in different parts of Dera Bugti and Sui is seen as part of the state's policy to brutalize the Baloch masses. The spokesperson further called upon the international community to take necessary measures to halt Pakistani crimes against humanity in Balochistan.
بلوچستان میں جو حالات پیدا کیے جاچکے ہیں انکی اصل زمہ دار ریاست اور اسکی پالیسیاں ہیں۔کیونکہ جس گھر کے سربراہ کو لاپتہ کیا جاتا ہے پھر اُس گھر والوں سے امن کی امید رکھنا بیوقوفی کی مترادف ہے۔
#ReleaseAbdulHameedZehri
بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ بی ایس او آزاد
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے حالیہ دنوں، کیچ، کراچی، گوادر اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قبضے کومستحکم رکھنے کیلئے قابض پاکستانی فورسز ہمیشہ سے باشعور بلوچ طلباء کو نشانہ بناتی آ رہی ہے حالیہ دنوں بلوچستان بھر میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ طلباء کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے انہیں سالہاں سال جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بناکر نوجوانوں کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے تاکہ بلوچ نوجوان قومی و شعوری اور فکری جدوجہد سے دور رہیں، اسی پالیسی کے تحت باشعور بلوچ طلباء کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں کیچ میں ایک غیر قانونی چھاپے کے دوران بلوچ چادر و چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے دو بلوچ طالب علموں کو تربت کے علاقے آبسر سے اٹھایا گیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے اکرام نامی ایک نوجوان بازیاب جبکہ سالم نامی دوسرا نوجوان اب تک لاپتہ ہے جن کے حوالے سے اب تک خاندان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں کراچی سے پسنی کے رہائشی معراج اسلم کو اٹھا کر قید زندان میں بند کیا گیا ہے اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود انہیں اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے، ایک اور واقعے میں گوادر سے ایک کمسن طلباء کو جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تمام واقعات کے پیچھے بلوچستان میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکار ملوث ہیں۔ حالیہ دنوں طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافے سے ریاست کی فرسٹریشن واضح طور پر دیکھائی دے رہی ہے جسے بلوچ مزاحمت کے سامنے مکمل طور پر ناکامی کا سامنا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو اس وقت سنگین ریاستی بربریت کا سامنا ہے جن کی حفاظت و تحفظ کی زمہ داری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور مہذب ممالک پاکستانی ریاست کو بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں اور لاپتہ بلوچ طلباء کی باحفاظت بازیابی یقینی بنائیں۔
ہم مجبور ہے ، ہم اپنے گھروں میں کیسے سکون سے رہ سکتے ہے ؟ ہمارے بھائی ہمیں لوٹا دوں !
سیما اپنے بھائی شبیر بلوچ کے رہائی کیلئے اپنےمعصوم بچی کے ساتھ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا حصہ بنتی رہی ہے۔جہاں اسے متعدد بار تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
#SaveShabbirBaloch
بلوچ مزاحمتی تاریخ میسح مالو آن پرتگیزی جلہو کار آتے اسکان
ڈاکٹر جلال بلوچ
(دلگوش) اے نبشتانک بی ایس او آزاد ءِ سیاسی تاک سگار ءَ چھاپ ءُ شنگ بوتگ
https://t.co/adPoNATkMP
ہم وہ بد نصیب بیٹیاں ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی عید کے دن سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے، دو سال پُر امن جدوجہد کرنے کے باوجود میرے والد تاحال لاپتہ ہے ، یہ ریاست مجھے کس جانب لے کر جانا چاہتی ہے ۔
گودی سعیدہ حمید
#EndEnforcedDisappearances#ReleaseAbdulHameedZehri
Nobody can give you Freedom
Nobody can give you Equality or Justice
If your are a man you take it
Nawab Khair Bakhsh Marri
Feb 28, 1929 — June 10, 2014
راشد حسین کو 26 دسمبر 2018 دبئی سے جبری گمشدہ کرنے والی پاکستانی ریاست نے بنا کسی قانونی کاروائی کے اسے دہشت گرد قرار دے دیا،اسکی والدہ اپنے بیٹے کے تصویر لیے دھرنوں اور احتجاجوں میں شرکت کرتی رہتی ہے۔ مگر کوئی ریاستی قانون اس ماں کو انصاف نہیں دلا سکی۔
#ReleaseAllMissingPersons
نواب خیربخش مری کے اسکول آف تھاٹس کو بغور مطالعہ کرنا وقت حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچ نوجوان درسگاہ آذادی کو پڑھ کر عملی جدوجہد میں شریک ہوجائیں۔ چیئرمین دْرپشان بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین دْرپشان بلوچ نے نواب خیر بخش مری کے نویں برسی کے موقعے پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ نواب خیر بخش مری نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی تحریک کو مضبوط اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے وقف کی۔ انہوں نے اس جدوجہد میں سخت دشواریوں کا سامنا کیا لیکن ایک انقلابی رہبر اور لیڈر کی حیثیت سے اپنی زندگی کی آخری ایام تک اپنے نظریے اور قومی آزادی کے فسلفے پر گامزن رہے۔ جیل کی صعوبتیں ہو یا جلاوطنی کی دشوار زندگی یا بالاچ جیسے بہادر بیٹے کی شہادت، فلسفہء قربانی پر یقین رکھتے ہوئے، قوم و وطن کی مٹھی کی خاطر تحریکی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنا سب کچھ فدا کردیا۔ موجودہ قومی تحریک کی بنیادیں مضبوط اور منظم کرنے میں بابا مری کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ بابا خیر بخش مری کی دوراندیش سوچ اور مستقل مزاجی کی بدولت بلوچ قومی تحریک اس نہج تک پہنچ چکی ہے جہاں سے قبضہ گیر کی شکست واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔
چیئرمین درپشان بلوچ نے کہا کہ بابا مری ہی وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے قبضہ گیر کی جھوٹی اور غیرموثر پارلیمانی نظام کو مسترد کرتے ہوئے بلوچ قومی آزادی کا واضح اور عملی صورت پیش کیا، جس سے بلوچ کی نجات ممکن ہے۔ بابا مری نے نا صرف سیاسی باتیں اور تقریریں کیں بلکہ انہوں نے عملی صورت میں سامراجیت کے خلاف جدوجہد کی اور تحریک کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عملی صورت میں سیاسی سرکلز کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت کی اور انہیں تحریک کے حوالے سے آگہی دی، انہی نظریے اور جدوجہد کی بنیاد پر بلوچ قومی تحریک میں انہیں درسگاہ آزادی کی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ کے مختلف اور کٹھن ادوار سے گزر کر وہ نظریاتی حوالے سے مزید پختہ اور کندن بنا اور اسی سیاسی و نظریاتی بلوغت کے بدولت بابا مری کو آج بھی بلوچ سیاسی سرکلوں میں پیامبر یا درسگاہ کی حیثیت حاصل ہے۔ بلوچ قومی جدوجہد کا بنیادی فلسفہ یہی ہے جو بابا خیر بخش مری نے واضح ترین شکل میں پیش کیا ہے۔
چیئرمین درپشان نے بلوچ نوجوانوں کو بابا مری کے فسلفے پر گامزن رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہاکہ بابا خیربخش مری کے اسکول آف تھاٹس کو بغور مطالعہ کرنا وقت حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچ نوجوان درسگاہ آزادی کو پڑھ کر عملی جدوجہد میں شریک ہوجائیں تاکہ بلوچ سرزمین سے پاکستانی قبضے کا خاتمہ ممکن ہو سکیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچ قوم کو سخت مشکلات اور قومی مسائل کا سامنا ہے ان کا حل صرف بابا مری کے اسکول آف تھاٹس میں موجود ہے۔ خیر بخش مری کا متعین کردہ لائن تحریک کیلئے فکری و عملی بنیاد پر واضح ترین راہ ہے، جس پر چل کر ہی ہم پاکستانی ناجائز قبضے کا خاتمہ کرکے ایک آزاد وطن کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں۔
مسنگ پرسنز ڈے کی مناسبت سے کیچ کے مختلف علاقوں میں پمفلٹنگ ، ٹوئٹر اسپیس وکمپین اور زونل سطح پر مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔
بی ایس او آزاد
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ 8 جون بطور بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے طور پر بلوچستان بھر میں منایا گیا ۔ اس سلسلے میں تربت سمیت کیچ کے مختلف علاقوں میں پمفلٹنگ بھی کی گئی جبکہ ٹوئٹر کمپین کے ساتھ ٹوئٹر اسپیس بھی رکھا گیا جس میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کے سیکرٹری جنرل عبداللہ عباس، صحافی و سیاسی جہدکار حکیم بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین میں آصف اور رشید کہ بہن بانک سائرہ بلوچ اورلاپتہ ظہور دوست کی بہن بانک سعدیہ بلوچ نے شرکت کرتے ہوئے اس دن کے حوالے سے گفتگو کی۔
بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو لاپتہ افراد کی صورت میں آج ایک قومی چیلنج کا سامنا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن بدبختی سے کچھ نام نہاد پارٹیاں جو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے سے اپنے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حکومت و ریاست کو بلیک میل کرکے اپنے لیے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے کا ادراک رکھتے ہوئے اس کے خلاف متحدہ جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر سمیت کئی بلوچ لیڈران کو پاکستانی فورسز نے اس نیت اور سوچ کے ساتھ اغوا و شہید کیا کہ اس سے متعلقہ تنظیمیں اور تحریک ختم ہو جائیں گی مگر آج یہ ثابت ہو چکی ہے کہ جس نظریے پر بلوچ تنظیمیں قائم ہیں اور جدوجہد کر رہی ہیں یہ افراد کی غیرموجودگی سے کسی بھی طرح ختم نہیں ہو سکتی البتہ اتنی بڑی تحریک مضبوطی اور کامیابی کیلئے ایسے شخصیات کا ہمیشہ سے ایک بڑا کردار ہوتا ہے۔ذاکر جان سمیت بلوچ لیڈران نے زندان قبول کیالیکن پاکستانی قبضے کو قبول نہیں کیا، یہ انہی کی جرات اور ہمت کا ثمر ہے کہ آج بی ایس او آزاد سمیت تحریک سے جڑے ادارے مضبوطی سے موجود ہیں۔
جو بھی نوآبادیاتی آقاؤں اور عالمی سرمایہ داری کے تنخواہ داروں کے ساتھ رہ کر آزادی و خودمختیاری کی بات کرتا ہے اس سے بڑا جھوٹا اور موقع پرست کوئی اور نہیں ہے۔
بابا خیر بخش مری
Can you feel her pain?
Can you feel the pain of 1000s of families waiting for their loved ones to return.
This day is dedicated to those enforced disappeared persons bearing state torture and to Mothers and sisters waiting for the loved ones
#BalochMissingPersonsDay