اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ ہم یہاں اسلام آباد پولیس کے دھمکی آمیز لہجہ، تشدد اور گرفتاری سے خوفزدہ ہونگے اور اپنے احتجاج کو ختم کریں گے تو یہ ریاست کی بچگانہ سوچ ہے۔
ہم نے بلوچستان میں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کو کندھا دیا ہے، ہم نے اپنے دس دس نوجوانوں کے لاشوں کو ایک ساتھ دفنایا ہے، ہم نے اپنا بچپن پیاروں کے انتظار میں شدید تکلیف اور غم میں گزارا ہے، ہم نے اپنے ماؤں کی وہ تکلیف دیکھی جو ناقابل بیان ہے، ہم نے یتیم بچوں کو تکلیف دہ زندگیاں دیکھی ہے
اور آپ ہمیں یہاں تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو، تشدد اور گرفتاریوں سے وہ ڈرے جن کو کچھ کھونے کا ڈر ہو۔ ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں، ہمارا سب کچھ ہمارے پیارے تھے جو آپ نے ہم سے چھین لیے اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ہم اس جدوجہد کو بلوچ نسل کشی کے مکمل خاتمے تک جاری رکھے گے اور اس کے لیے ہر قسم کے قربانی دینے کو تیار ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
ایک وقت جب فوج بنگالیوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں کی تزلیل کرتے تھے تب کوئی ماننے ��و تیار نہیں تھا پھر فاٹا بلوچستان میں اسی فوج نے چادروچاردیواری کی پامالی کی عورتوں کی عزتوں کو تار تار کیا تب بھی لوگ کہتے تھے کہ یہ تو ممکن ہی نہیں لیکن اب یہ آگ پورے پاکستان میں پھیل گئی ہے
میرے گھر پر سی ٹی ڈی (CTD) پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا حملہ پاکستان کے محافظوں نے میری فیملی پر ظلم ڈھائے 3 گھنٹے تک پوری فیملی کو یرغمال بنائے رکھا میری زوجہ کو گھسیٹا اور تشدد کیا موبائل فون چھینے اور جو کچھ ہاتھ لگا ساتھ لیگئے ۔
دھشت گردوں کی مذمت سیاستدانوں سے کرائی جاتی ہے نہ کہ اُن مظلوموں سے جنہیں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عناصر سے خطرہ ہوتا ہے اور انہیں اُن علاقوں میں لوٹنا ہوتا ہے جہاں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ملل کر انکی جان کے در پہ ہوتے ہیں،
جن صحافیوں کو ماہرنگ بلوچ کے جواب پر اعتراض ہے وہ خود بلوچستان جا کر ماہرنگ بلوچ کے علاقے میں رہ کر اُن بلوچ تنظیموں کی مذمت کر کے دکھائیں، بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ویسے۔
سیاستدانوں اور طاقت ور ریاستی اہلکاروں سے کبھی لاپتہ افراد کے بارے میں جو سوال کرنے کی ہمت نہیں رکھتے وہ ان مظلوموں پر اپنی صحافت کا رعب ڈال کر فخر کرتے ہیں۔
#GharidaMustApologise
Anyone who parrots the word “Palestine” without ever saying the word “Baloch, Pushtoon, Hazara, other ethnic & religious minorities of Pakistan & its women”, beware of them. They’re Zia’s foxes. They aren’t speaking for the Palestinians at all. They’re peddling a state narrative.
اسرائیل بھی پاکستانی فوج کی طرح ہے، ظلم جبر کرنے کےبعد جب اسکا ردِعمل اجاتا ہے تو وہ ردِعمل کو ظلم کا نام دے دیتے ہیں جبکہ پاکستانی فوج بھی محکوم قوموں اور عوام پر ظلم کرنے کے بعد اگر مظلوموں نے احتجاج بھی کیا تو احتجاج کو انتشار کا نام دے کر مزید ظلم کرنے کےلٸے جواز بنا دیتے ہیں
۱ پاک چین گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور
۲ پاک چین گوادر تھرمل پاور پلانٹ لاہور
۳ پاک چین گوادر ائل ریفائنری لاہور
۴ پاک چین گوادر انٹرنیشنل ہاس��ٹل لاہور
بلوچستان کی خوشحالی و ترقی کے لیے CPEC کےاگلے پراجیکٹس
#university
#Balochistan #Pakistan
وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی سے ایک ہی دن میں پنجاب میں 25 نئی یونیورسٹیاں بنانے کا قانون منظور کر لیا ہے حیرت ہے کہ ساری یونیورسٹیاں ایک ہی صوبے میں بنیں گی کیا باقی صوبوں کو یونیورسٹیوں کی ضرورت نہیں ؟ بلوچستان میں کم ازکم 5 نئی یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے سینیٹ کے ارکان کومسلم لیگ ن سے پوچھنا چاہئیے کہ پنجاب میں 25 نئی یونیورسٹیوں کے پیچھے کون سا بزنس مین ہے؟ سینیٹ میں بحث کی ضرورت ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون
باجوڑ میں جمعیت علماءاسلام کے کارکنوں کی شہادت پر دل انتہائ غمزدہ ھے، اللہ تعالی شہداء کی شہادت کو قبول فرماۓ اور ان کے خاندانوں کو صبرجمیل عطاء فرمائے اور زخمیوں کو شفاء کاملہ عاجلہ مستمرہ عطاء فرمائے۔
اسلام اور پاکستان کے خلاف ھونے والی ان سازشوں کو جمعیت کے کارکن جانوں کا نذرانہ دیکر بھی کامیاب نہیں ھونے دینگے انشاءاللہ۔