` *اللہ اکبر اللہ اکبر`*
*ہزاروں لاکھوں شھادتوں کے* *بعد بھی اسلام کے یہ شیر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہو
ان خاک نشینوں کی اداؤں پے فلک کہ مکیں بھی رشک کرتے ہوں گے
یہ نجوم در نجوم اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی بزمِ کہکشاں ہے💞
انکو نہ شہرت مطلوب ہے، نہ دنیا کا مال ومتآ یہ تو بس اپنا فرض ادا کرنے اور پوری دنیامیں غلبہ اسلام کی فکر لیے نکلے ہیں یہ طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ ’’محبت‘‘ اور ’’شفقت‘‘ کے بل بوتے پر عوام کے دلوں کو فتح کیے ہوئے ہیں
محرم الحرام میں مانند کربلا۔۔
اپنے خاندان کے ستر افراد کو بیت المقدس کی تقدیس پر قربان کرکے۔۔۔بالآخر اپنی جان بھی قربان کرجانے والے عظیم م ج ا ہ د کو سلام محبت۔۔۔
#استشهاد_إسماعيل_هنية#اسماعيل_هنية
میرے فلسطین کے شھیدو ۔۔۔
سلام تم پر سلام تم پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے اسماعیل ھنیہ آپکے روحانی بیٹے اپکا اور لاکھوں شھداء کا بدلہ ضرور لیں گے انشاء اللہ ۔۔۔
وہ وقت دور نہیں جب جب ان منافقین اور کفار کو دنیا میں کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہ ملے گی ۔۔
لہو تر ہے گلشن یہ کیا ہو گیا ہے
وہ خشبو کا تاجر کہاں چل دیا ہے
انا للّٰہ و انا الیہ راجعون
اپنے پورے خاندان اور اولاد سے 70 سے زائد شہادتوں کے بعد راہِ وفا کے عظیم راہی اسماعیل ہنیہ بھی اپنے رب کے حضور پیش۔ اللّٰہ تعالٰی اپنی شان کے مطابق ان کا اکرام فرماۓ۔
`وہ بھی کیا دور تھا مسلم`
جب نرم دل اور سادہ مزاج ہوا کرتے تھے پابند توحید و سنت ہوا کرتے تھے مگر کفار کیلئے قہر الہی ہوا کرتے تھے خدا کی زمین پر خدا کا نظام لانا تھا ان کی سوچیں ممالک تک محدود ہو کر نہیں رہ گئی تھیں بلکہ سارا جہاں انہیں کا تھا ۔۔۔
نوجوانان اسلام۔! تمھاری ہی ضرورت ہے امت کے مظلوموں کو تمھاری ہمت جرآت بہادری ہی ظلمت کی شب کو نمود سحر میں بدل سکتی ہے تمھاری عظمت و استقلال کے سامنے یہ کفر لرزاں ہے تمھاری ہیبت سے ہی ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں تمھاری استقامت سے ہی ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہیں ۔
ڈرنا گھبرانا اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جانا تو ہمارے دشمن کا شیوا ہے ہمارا شیوا تو یہ ہے کہ چاہے 313 ہوں مقابل کے ایک ہزار سے ٹکرانا انہیں دھول چٹانا اور فتح یاب ہو جانا ہمارے بچے بچے میں جذبہ جہاد ہے انہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنا سکھایا جاتا ہے ڈرنا نہیں ۔۔
جو زندگی دین حق کی سربلندی اس کی حفاظت کیلئے وقف ہو اصل میں وہی حقیقی زندگی ہے چاہے ساری عمر محاذوں پہ وقف کرنی پڑے یا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں پابند سلاسل میں وہ زنجیریں بھی مبارک ہیں جو راہ حق کے راہی ہونے کے جرم میں ہمارے جسم کا حصہ بنائی گئی ہوں
*ہماری وہ دلیر بہن جو کفر کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ۔۔ اے مسلمانو ہمارا کیا شیوہ ہے؟ ہمارا شیوہ اس کی آواز بننا تھا افسوس صد افسوس اپنوں نے ہی اس شیرنی کو غیروں کے حوالے کر دیا اور چپ سادھ لی ہے
اے ظالم حکمرانو تم نے اس کیلئے کچھ نہیں کیا عزت نفس بیچ کر خاموش تماشائی بنے رہے
*ہم راہ عشق و وفا کے راہی ہم الفت و محبت کے ضامن ہم شوق شہادت کے متوالے ہم جہد و مشقت سے جینے والے ہم پیکر صبر و استقامت ہم گمنام راہوں کے راہی جب راہ وفا پہ چلا کرتے ہیں تو چرند پرند بھی رشک کرتے ہیں تو چاند تارے بھی جھک جھک کر ہمیں دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
📌تلواروں کے سائے میں جنت ہے🤍
یہہ پھول بوٹے یہ نازک ادائیں یہ بہاروں کا کھیل اور گلاب سے بستر یہ طرح طرح کی۔آرائشیں ہمیں بھاتی نہیں ہیں ہمیں لبھاتی نہیں ہیں ��۔ ہمیں بس اپنا مقصد نظر آتا ہے اپنی منزل نظر آتی ہے ہم وہ قوم ہیں جنہیں تلواروں سے پیار ہے
عید توخوشی کادن ہوتا ہےجواپنوں کے ساتھ منایاجاتاہےمگر سوچیں جن کے اپنےان کی آنکھوں کےسامنےہی کٹ گئےہوں جن کے پاس کھانےپینےکوکچھ نہ ہو جن کا بچہ بچہ کٹ گیا ہو جن کی مدد کیلئے امت مسلم میں سے کوئی حرکت کرنے کو تیار نہ ہو ۔۔ وہ لوگ کیسے عید منائیں گے ؟؟ وہ لوگ کیا عید منائیں گے ؟
@hafsamujahid313 یاد ہوگا وہ وقت جب بدر کے میدان میں دشمن کے ہزاروں کا قافلہ اور مسلمانوں کا مٹھی بھر لشکر ۔۔ مگر فتح کس کی ہوئی ؟؟ جس کے ساتھ تھا اللہ 🩷۔آج بھی یہ صیہونی قوتیں ان مجاہدین کو کبھی ہرا نہیں سکتیں راستے کی رکاوٹیں ہٹ کر فتح ان کے قدم چومتی ہے
30 مارچ 2003 تاریخ کا وہ بدترین دن تھا جب اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں ایک عفت مآب بہن کو بچوں سمیت ڈالروں کے عوض ضمیر فروشوں نے بنا کسی جرم د��منوں کے حوالے کردیا
اور آج 21 سال کو طویل عرصہ گزرچکا کہ دیار غیر میں قید بامشقت کاٹتی وطن کی بیٹی آزاد فضاٶں کی منتظر ہے ۔۔۔
امت کی عظیم ماؤں کے نام
ایک عظیم پیغام
ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہیہ ایسے ہی نہیں کہا گیا بلکہ بچے کی بنیاد اس کی ماں ہی بناتی ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے وہ اسے کس راہ پے لگائے ۔دیندار ماؤں کے بچے دیندار ہی ہوا کرتے ہیں
دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا گھر ہے ۔۔ اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔۔ افسوس کہ آج ہم دنیا میں مگن ہو کر اپنا مقصد کھو بیٹھے ہیں ۔۔ اصل زندگی تو اگلی زندگی ہے ۔۔ یہ دنیا تو جائے عمل ہے ۔۔ اور اس زندگی کو جن بہادر شیروں نے جہاد میں وقف کر دیا وہ حیات جاودانی پا گئے ۔۔ ۔۔۔
جب بزدل کسی قوم کے شیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو وہ ان کی عورتوں اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں ہم بےحسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔۔ وہ لوگ ظلم کرنے کیلئے دجال کے آنے کا انتظار نہیں کر رہے اور ہم ان سے جہاد کرنے کیلئے امام مہدی کے منتظر ہیں؟؟
افسوس صد افسوس ۔۔۔۔