اسلام آباد ہائیکورٹ کے 90 فیصد ججز کے اس خط کے بعد حالیہ وقت میں اسلام ��باد ہائیکورٹ میں جو مقدمات سنے گئے، جو سزائیں سنائی گئی ان سب پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہ��۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر
جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس شاہد کو استعفی نہئں دینا چاہیے تھا۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے استعفے دینے کی بجائے سسٹم کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ انتہائی قابل تحسین اقدام ہے۔۔
لاہور ہائیکورٹ سے جسٹس شاہد جمیل خان نے بھی استعفی دے دیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ آزادانہ فیصلے نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔
اُن کے استعفے میں علامہ اقبال کے اشعار لکھے تھے۔۔
ایک بھی TV چینل نے ابھی تک اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کا خط نہیں دکھایا، نا ہی ان کو اجازت ملے گی۔۔
پھر کہتے ہیں آزادی صحافت، پھر کہتے میڈیا اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے
پڑھتا جا شرماتا جا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے سالے کو آئی ایس آئی نے اغوا کیا۔ بجلی کے جھٹکے لگائے۔ اقبالی بیان کے لیے دباو ڈالا۔۔اور میڈیا پر معزز جج کے خلاف مہم چلائی کہ وہ مستعفی ہو۔۔ ججوں کےخط میں خوفناک انکشاف
ایک جج کے بیڈ روم سے خفیہ کیمرہ ملا، جس میں جج کی فیملی کی نجی ویڈیوز ریکارڈ کی گئی تھیں، ویڈیوز دوسرے ججز کے سامنے بھی چلائی گئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا متن
یہ ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے وہ چھ بہادر جج جنہوں نے عدلیہ میں مداخلت پر آواز اٹھایا اور سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا
اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ❤
خفیہ ایجنسی کی جانب سے ججز پر مسلسل دباؤ کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وہ خفیہ ادارے کے ڈی جی سی کے سامنے اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے آئندہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم خفیہ ادارے کی جانب سے مداخلت جاری رہی۔
خط