ریاست کی بقا ہی شہریوں کی بقا کی ضامن ہوتی ہے، کیونکہ اگر ریاست کمزور ہو جائے تو حقوق کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بطور شہری قانون کی پاسداری کرنا اور قومی ذمہ داریاں پوری کرنا لازم ہے، اور یہ اصول مسلمہ ہے کہ ریاست قائم رہے گی تو ہی سیاست اور عوام کا وجود ممکن ہے۔
لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ریاست محض اداروں یا طاقت کا نام نہیں، یہ اپنے شہریوں سے بنتی ہے۔ جب ریاست کے مقتدر ادارے اپنے متعین کردہ آئینی دائرہ کار سے تجاوز کر کے سیاسی جوڑ توڑ، سویلین معاملات اور نظامِ عدل پر اثر انداز ہونے لگیں، تو وہ خود ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔ غیر آئینی مداخلت اور طاقت کا بے جا استعمال عوام میں شدید مایوسی اور عدمِ تحفظ پیدا کرتا ہے۔
حقوق اور فرائض کا یہ رشتہ کبھی یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ ایک مضبوط ملک تبھی بنتا ہے جب ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں محدود رہے، سویلین بالادستی قائم ہو، اور ریاست شہریوں کو ان کا بنیادی حق دے۔ یہ رشتہ محض طاقت کا نہیں بلکہ باہمی توازن اور قانون کی حکمرانی کا نام ہے۔
@RShahzaddk دو تین دن سے ایک بار پھر "بوٹ پالش" کا سخت مقابلہ جاری ہے۔ شیئر کیے گئے اسکرین شاٹ میں اگرچہ کسی ادارے کا نام نہیں، لیکن اعزاز سید کی وہ بات سچ ثابت ہو گئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'غلاموں کو دفاع کے لیے آگے دھکیل دیاگیا ہے،۔
طالبان اور آپ کی دلیل میں کوئی فرق نہیں۔ آپ غیرت کی بات کرتے ہیں، وہ اسلام کی — مگر آئین و قانون کو وہ بھی نہیں مانتے اور آپ بھی اسے ایک طرف رکھ رہے ہیں۔
چلو اس محترمہ جن کی آپ تعریفیں کرتے تھکتے نہیں، ان کی ویڈیو خود دیکھ لو اور فیصلہ کرو۔ بحیثیت ایک خاتون وہ ہمارے لیے بھی محترم ہیں اور وہ افسر بھی، مگر آئین و قانون کی خلاف ورزی اور اسے ہاتھ میں لینے کی قطعاً حمایت نہیں کی جا سکتی۔
بھائی صاحب! ایک فوجی افسر وردی پہن کر یونیورسٹی کیمپس میں گھس جائے، طلبہ کو چھڑی سے مارے، ہاتھا پائی کرے اور پھر سروس پسٹل نکال کر فائرنگ کرے اسے غیرت مند شوہر نہیں بلکہ قانون توڑنے والا اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والا کہا جاتا ہے۔
یہ غیرت نہیں، بلکہ طاقت کا نہایت گھٹیا استعمال ہے۔ غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی وردی اور اختیار کو ذاتی جھگڑے میں استعمال کریں۔ پولیس وہاں موجود تھی، مگر فوجی افسر نے اسے نظر انداز کر کے خود وردی میں گھس کر جھگڑا شروع کر دیا۔
بیوی کی ویڈیو دیکھ لو وہ خود ڈنڈے سے طلبہ پر حملہ آور ہو رہی تھی اور جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔ پھر شوہر کو بلایا تاکہ وردی اور بندوق کا دبدبہ استعمال کیا جا سکے۔
شرم ان لوگوں کو آنی چاہیے جو وردی کی آڑ میں قانون کو پاؤں تلے روندتے ہیں اور پھر “بیوی کی حفاظت” کا بہانہ بنا کر اپنے جرم چھپاتے ہیں۔ جو لوگ ایسے افسر کے دفاع میں کھڑے ہو کر طلبہ کو غنڈہ اور خاتون کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ دراصل طاقت کے سامنے سر جھکانے والے لوگ ہیں۔
ویڈیو بالکل صاف ہے؛ جب پولیس موقع پر موجود تھی تو آتے ہی ڈنڈے برسا نا، پستول تاننا اور ہوائی فائرنگ کرنا کون سا 'برداشت' ہے؟ اگر بیوی کے شور مچانے پر وہ رکے نہ ہوتے تو وہاں کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔ یہ دفاع نہیں بلکہ پولیس کی موجودگی میں کھلم کھلا قانون ہاتھ میں لینے اور طاقت کا رعب جھاڑنے کی واضح مثال ہے۔
کسی بھی غیرت مند شوہر کے جذبات قابلِ احترام ہیں، لیکن اس کا حل 'قانون کو ہاتھ میں لینا' یا اختیارات کا بے جا استعمال ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر اپنے ادارے کی طاقت یا عہدے کو ذاتی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنے لگے تو معاشرے سے قانون اور انصاف کا وجود ختم ہو جائے گا۔ غیرت اور جذبات اپنی جگہ مگر مسلے کے حل کے لیے قانونی اور باضابطہ راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔
The Army says the officer is in custody and an inquiry is underway, yet today some of you are already calling him a hero?
Yesterday it was “action is being taken.” Today he is being praised for “duty” and “uniform.” This is exactly how people get distracted from the actual issue.
This should not be reduced to one officer’s mistake. The bigger question is the mindset: wearing a uniform, carrying a weapon and using force on a university campus. No uniform puts anyone above the law or the Constitution.
At the same time, anyone involved in violence, regardless of who they are or which side they belong to, should also be identified and brought to justice. Accountability cannot be selective.
If an inquiry is genuinely underway, let it take its course. But turning anyone involved into a hero or a villain before the facts are established does nothing except undermine justice and accountability.
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق یکم مارچ تا 13 جولائی 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے 21,951 پاکستانیوں کو مختلف وجوہات پر ڈیپورٹ کیا گیا۔
سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب (تقریباً 15,500) اور یو اے ای (3,803) سے ہے۔
وجوہات میں ویزا/اقامہ کی خلاف ورزی، غیر قانونی قیام، منشیات اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
اس میں بھیک مانگنے والے 472 افراد بھی شامل ہیں۔
عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور کچھ بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی ماحول کو پرکھ رہی ہے اور مختلف فریقوں کو پیغام دے رہی ہے۔
جبکہ دوسری طرف اسے صرف قانونی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے سیاسی موڑ ہمیشہ سست رفتار سے شروع ہوتے ہیں۔ کسی بھی جرنیل کو پانچ سال تک مسلسل خوش رکھنا ناممکن رہا ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو ابتدائی اشارہ قرار دینا ممکن ہے، مگر فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق یکم مارچ تا 13 جولائی 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے 21,951 پاکستانیوں کو مختلف وجوہات پر ڈیپورٹ کیا گیا۔
سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب (تقریباً 15,500) اور یو اے ای (3,803) سے ہے۔
وجوہات میں ویزا/اقامہ کی خلاف ورزی، غیر قانونی قیام، منشیات اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
اس میں بھیک مانگنے والے 472 افراد بھی شامل ہیں۔
جب ن لیگ کو عدالت سے ریلیف ملتا ہے تو اسے قانون کی فتح، آئین کی بالادستی اور انصاف کہا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی ریلیف کسی مخالف کو ملے تو فوراً اسے ڈیل، کمزوری، منت سماجت یا پاؤں پڑنا بنا دیا جاتا ہے۔
عدالت اگر ایک کے لیے معتبر ہے تو دوسرے کے لیے بھی معتبر ہونی چاہیے۔ قانون اگر اپنے لیے حق ہے تو مخالف کے لیے بھی حق ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ فیصلہ حق میں آئے تو عدلیہ آزاد، اور مخالف کے حق میں آئے تو عدلیہ مشکوک۔
عام آدمی کو اس سیاسی تماشے سے زیادہ فکر مہنگائی، بجلی، پٹرول، روزگار اور انصاف کی ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی جمہوریت اور قانون کی بات کرتی ہیں تو پھر اصول بھی سب کے لیے ایک جیسے رکھنے ہوں گے۔
یہ کونسا مقابلہ تھا؟
دن دہاڑے سڑک پر نہتے لوگوں کو گولیاں مارنا مقابلہ نہیں، ماورائے عدالت قتل ہے!
آپ قانون شکنی پر پولیس کو شاباشی دے رہی ہیں؟ پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، خود جج اور جلاد بننا نہیں۔ یہ کسی مہذب معاشرے میں نہیں بلکہ جنگل کے قانون میں ہوتا ہے۔
آپ کو شرم آنی چاہیے!
آپ یہ فرمائیے گا کہ اس نے اس مخصوص ٹویٹ میں کس کی "مادرِ" کے خلاف کیا بات کی ہے؟جب کوئی لاپتہ افراد کے بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، تو اس میں ملک دشمنی یا کسی کو گالی دینے والی کیا بات ہے؟ کیا لاپتہ افراد کے حقوق کی بات کرنا کسی کے مادر کے خلاف بکواس ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو عام آدمی کے دکھ درد سے زیادہ، طاقتور حلقوں کی چاکری عزیز ہے، اسی لیے حق بات سن کر بھی آپ کو غداری نظر آنے لگتی ہے اور آگ لگ جاتی ہے باقی معید جائے بھاڑ میں، مجھے ان سے ہمدردی نہیں۔
اسلام آباد کے اقتدار کے گلیاروں میں جب بیک وقت عدلیہ کے انتظامی ڈھانچے پر کھینچا تانی بڑھے، ن لیگ اور پی پی جیسے روایتی حریفوں کو "نئے صوبوں" جیسے ناپسندیدہ سیاسی شوشوں سے دفاعی پوزیشن پر لایا جائے، اور محسن نقوی جیسے باخبر مہرے سویلین سسٹم کی ناکامی کا کھلم کھلا باتیں کرنے لگیں اور اس بیچ عمران خان کی اچانک ہسپتال منتقلی کے احکامات آئے تو یہ پردے کے پیچھے تاش کے پتے دوبارہ تقسیم ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بند کمروں کے مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی موجودہ نظام کو بوجھ بنا کر پیش کیا جائے، تو بساط پر مہرے بدلنے کے بجائے پورے بورڈ کو ہی ایک "بڑے آئینی ری سیٹ" کی طرف لے جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ بساط بچھ چکی ہے، چالیں چل دی گئی ہیں، مگر اصل سرپرائز آنا ابھی باقی ہے۔