کہتے ہیں کہ دو خاندانوں سے جان چھڑانے کے لیے نئے صوبے بنا رہے ہیں تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ تو بتلا دو کہ تو پھر دو خاندانوں کو کرسی پر کون بٹھاتا ہے اور کون اتارتا ہے؟عوام نے تو ووٹ نہیں دیا، پھر یہ دو خاندان کرسی پر کیسے آتے جاتے ہیں؟
علامہ راشد محمود سومرو کا اپیٹ آباد میں خطاب
ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔
اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔
کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔
کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔
مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔
آج جو حکمران ہیں کل یہی لوگ ہمارے ساتھ کنٹینروں پر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباؤ ہے،آج وہ دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
کوئی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
مسائل وہی ، مطالبات وہی پیٹرول کی قیمتیں وہی۔کچھ بھی نہ بدلا اگر بدلا تو ٹرین کا رخ کا بدلا۔
اعتراض تو بنتا ہے بھائی۔
حل صرف جماعت اسلامی یہ نعرہ اب شاید باقی نہ رہے
قادیانی مذہب سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جہاد ختم کر دیا،اب شریعت میں جہاد کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔
یہ کس کے لیے کیا تھا؟ یہ اس لئے تھا کہ انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ برصغیر کا مسلمان نہ لڑے،مسلمانوں کو اپنی آزادی اور شریعت کی جنگ لڑنے سے روکا جاتا ہے۔
لیکن انگریز خود قادیانی مذہب جس کا خودکاشتہ پودا ہے،جنگ عظیم اول اور دوم میں مغرب کی گولیوں سے کروڑوں لوگ قتل کردئے گئے پورے ملک اور وطن تباہ ہوگئے،قادیان کی جہاد ختم کرنے کا خہی مطلب تھا کہ مسلمانوں کو جہاد سے روکا جائے اور انگریز کو مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی راہیں ہموار کی جائیں
افغانستان میں بیس سال تک پورے نیٹو نے جنگ لڑی،عراق لیبیا میں لیبیا اور پھر غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ مسلمان، بچوں، بچیوں، خواتین، بوڑھوں کو شہید کیا۔
یہ کیسی انسانیت ہے؟ کیا مسلمان کا خون اتنا سستا ہے؟
اگر فلسطینیوں کا قتلِ عام ہوتا ہے تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے،اسرائیل کو اسلحہ دے کر ایک ناجائز حکومت کو طاقتور بناتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا،پاکستان نے کوشش کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت ہو،آج پھر یمن سے کچھ قوتیں اٹھ رہی ہیں اور حرمین پر حملہ کرنے کی جرأت کر رہی ہیں۔
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو پیغام دیتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کو تیار ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا کراچی میں خطاب
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو یہاں سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کے لیے تیار ہے۔
حرمین پر جان بھی قربان ہے،
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا کراچی میں خطاب
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو یہاں سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کے لیے تیار ہے۔
حرمین پر جان بھی قربان ہے،
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا کراچی میں خطاب
قادیانی مذہب سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جہاد ختم کر دیا،اب شریعت میں جہاد کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔
یہ کس کے لیے کیا تھا؟ یہ اس لئے تھا کہ انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ برصغیر کا مسلمان نہ لڑے،مسلمانوں کو اپنی آزادی اور شریعت کی جنگ لڑنے سے روکا جاتا ہے۔
لیکن انگریز خود قادیانی مذہب جس کا خودکاشتہ پودا ہے،جنگ عظیم اول اور دوم میں مغرب کی گولیوں سے کروڑوں لوگ قتل کردئے گئے پورے ملک اور وطن تباہ ہوگئے،قادیان کی جہاد ختم کرنے کا خہی مطلب تھا کہ مسلمانوں کو جہاد سے روکا جائے اور انگریز کو مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی راہیں ہموار کی جائیں
افغانستان میں بیس سال تک پورے نیٹو نے جنگ لڑی،عراق لیبیا میں لیبیا اور پھر غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ مسلمان، بچوں، بچیوں، خواتین، بوڑھوں کو شہید کیا۔
یہ کیسی انسانیت ہے؟ کیا مسلمان کا خون اتنا سستا ہے؟
اگر فلسطینیوں کا قتلِ عام ہوتا ہے تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے،اسرائیل کو اسلحہ دے کر ایک ناجائز حکومت کو طاقتور بناتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا،پاکستان نے کوشش کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت ہو،آج پھر یمن سے کچھ قوتیں اٹھ رہی ہیں اور حرمین پر حملہ کرنے کی جرأت کر رہی ہیں۔
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو پیغام دیتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کو تیار ہے۔