آئیں
اسلام کی سربلندی ، ملک کی ترقی ،مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے
فرقہ وارانہ نظریات سے بالا تر ، ملک میں آئین اور عوام کی بالادستی کے لئے
جمعیۃ علماء اسلام کے رکن بنیں
#TeamJUISindh#joinjui
✍🏻 *$*آزاد*
شرم الشیخ میں غرہ کی جنگ بندی کے معاھدے پر دستخط ھوگئے اور بے اختیار بقول شاعر:
دل خوش تو ھوگیا مگر آنسو نکل پڑے
اول تو ان ستر ھزار شہداء کو یاد کرکے جنہوں نے اپنی موت کو گلے لگاکر فلسطین کو زندہ رکھا
دوسرے یہ یاد کرکے کہ اس امن کاسہرا لاكهوں جانوں کے نقصان کے بعداسکے سر بندھ رہاہے جس نے قدس میں سفارت خانہ قائم کرکے اسے اسرائیل کا مرکز قرار دیا تھا اور دوس��ل تک غزہ کے قتل عام میں برابر کا شریک رھکر جنگ بندی کی ھر قرارداد کوویٹو کرتارھا
تیسرے اس لئے کہ غزہ میں فی الحال الحمدللہ امن قائم ھوگیا مگر ھم اپنے گھر میں امن قائم نه کرسکے
فلسطین کا جو مسئلہ حل ھونے لگا تھا اسکے بارے میں ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا کیا موقع تھا اور اگر کچھ لوگوں کو اس پر اصرار بھی تھا تو آخر وہ پاکستانی مسلمان تھے کیا حکومت کے لئے یہ ایسا مسئلہ تھا کہ اس پر قابو پانے کے لئے گولیاں چلاکر کئی خاندانوں کو اجاڑنا ضروری ھو
چوتھے اس لئے کہ عین اس موقع پر جب بھارت پاکستان سے کھلی دشمنی پر آمادہ ہے اور پاکستان کے باغیوں کی حمایت کررہاہے اوراس سے مار بھی کھاچکا ہے ھمارے ایک پڑوسی بھائی نے قیام امن کے لئے پاکستان سے بات کرنے کے بجائے بھارت سے پینگیں پڑھانی شروع کردیں اور پھر دو مسلمان پڑوسیوں ��یں جنگ شروع ھوگئی جو امت اسلامیہ کے کسی بھی دردمند کے لئے تشویشناک خبر ہے
کسیے گواہ کریں کس سے منصفی چاھیں
Fact Check:
The propaganda post by Afghan Taliban Regime Spokesperson claiming Pakistani forces attacked Spin Boldak and that Afghan troops captured Pakistani tanks is nothing but a pathetic lie.
The video being circulated actually shows a T-55 tank already in use of the Afghan Taliban Regime,not a Pakistani tank. This tank of Afghan Taliban was filmed in their own area while moving from Spin Boldak to Chaman Crossing, where an attack by Afghan Taliban and TTP was effectively repulsed by Pakistan.
This shameful act by the Taliban’s Regime high ranking official shows the depth of their desperation, dishonesty and credibility. When a regime’s officials resort to such blatant lies for attention, it only proves how weak, insecure and delusional they’ve become.
دعویٰ کہ افغان فورسز نے پاکستانی ٹینک قبضے میں لے لیے ہیں اور فوجی چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے، مکمل طور پر جھوٹا ہے۔ جو مناظر شیئر کیے جا رہے ہیں وہ چمن کراسنگ پر واقع "بابِ دوستی" کے ہیں، نہ کہ کسی پاکستانی فوجی چوکی کے۔ ویڈیو میں نظر آنے والا ٹینک سوویت دور کا T-55 استعمال ہے جو خود افغان رجیم کے زیرِ استعمال ہے، پاکستان کا نہیں۔
یہ ہے نام نہاد افغان حکومت کی افسوسناک حالت
اس کے سرکاری ترجمان اپنے ہی ٹینک کی ویڈیو شیئر کر کے شرمناک طور پر اسے پاکستانی اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔
اگر اس حکومت کا ترجمان اتنی سطحی اور جھوٹی پروپیگنڈا مہم چلا سکتا ہے، تو اندازہ لگائیں کہ اس بے ترتیب، دھوکے باز اور اخلاقی طور پر دیوالیہ انتظامیہ کے باقی حالات کیا ہوں گے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب26ویں آئینی ترمیم میں ربا کے خاتمے کی ڈیڈ لائن شامل ہونے پر مولانا فضل الرحمان کو مبارکباد دینے کراچی سے اسلام آباد تشریف لائے اس موقع پر ایک تقریب میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تحسین کی گئی تقریب میں مفتی تقی عثمانی نے آئندہ جمعہ کو یوم تشکر منانے کا اعلان کیا
آج حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے انہوں نے جس دانشمندی سے اس موقع پر ملک وملت کی رھنمائی کی اس سے کئی اسلامی مقاصد حاصل ھوے اور ملک شدید سیاسی انت��ار سے بچ گیا سود کے خاتمے وفاقی شرعی عدالت اور مدارس کا مسئلہ حل ہوا اللہ تعالیٰ انکی عمر علم اور جدوجہد میں برکت عطا فرمائیں اور ملک وملت کے لئے انکی خدمات قبول فرمائیں آمین مدت کے بعد ایسی خوشی کی خبر ملی ہے قوم کو مبارک
26 ویں آئینی ترمیم میں اسلامی شقوں کی منظوری کا معاملہ
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کامران مرتضی کے اعزاز میں تقریب
تقریب میں مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا حنیف جالندھری،مولانا عبدالغفور حیدری شریک
تقریب میں خواجہ خلیل احمد، مولانا عطاء الرحمان، مولانا اسعد محمود، اسلم غوری شریک
تقریب میں مولانا عبدالواسع، مولانا صلاح الدین، میر عثمان بادینی، مولانا مصباح الدین، سینیٹراحمد خان، سینیٹرعبدالشکور شریک
تقریب میں ہارون محمود، صاحبزادہ اسجد محمود، مولانا فضل الرحمان خلیل، ملک سکندر، مفت ناصر محمود، سینئیر صحافی حامد میر، سلیم صافی شریک
مولانا سعیدالرحمان سرور، مفتی ذاہد شاہ، مولانا انعام اللہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، قاری ابراہیم سمیت دیگر شریک
*مولانا فضل الرحمان کا تقریب سے خطاب*
کئی روز سے ملک میں آئینی ترمیم کی باتیں گردش کر رہی تھی۔
اس ترمیم میں کلیدی کردار سینیٹرکامران مرتضی کا ہے۔
میں آج کی تقریب کامران مرتضی کے نام کرتا ہوں۔
آج کی تقریب کی خوش قسمتی ہے کہ مفتی تقی عثمانی بھی اس میں شریک ہے۔
*مفتی تقی عثمانی کا تقریب سے خطاب*
آج میری حاضری اس لئیے ہوئی کہ جب ترمیمات منظور ہوئی صدرمملکت نے دستخط کردئیے۔
ان ترامیم میں مولانا فضل الرحمان صاحب کا کردار مسلسل نظر آرہا تھا۔
یہ ملک اور ملت کی بڑی عظیم خدمت ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ساری ساری رات جاگ کر ہر فرد سے ان ترامیم کیلئے ملے۔
یہ سچی بات ہے یہ ہم سب کیلئے بڑی نعمت ہے۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ مولانا صاحب نے آج کوئی تقریب منعقد کی ہے میں تو مبارکباد کیلئے آیا۔
اللہ تعالی مولانا فضل الرحمان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے۔
*مولانا حنیف جالندھری کا تقریب سے خطاب*
کل تمام دینی مدارس میں دعائوں کا اہتمام کیا جائے، شکرانے کے نوافل آدا کئیے جائے
ہم مولانا فضل الرحمان کے مشکور ہے۔
جمعیت علماء اسلام اورپاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئینی ترامیم پراصولی اتفاق رائے ھوگیا ھے۔
حکومتی مسودے پر وزیراعظم سمیت پاکستان مسلم لیگ کے اور پیپلز پارٹی کےوفود مختلف اوقات میں مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملنے تشریف لاتے رھے جس مسودے کو مولانا صاحب نے صراحت سے مسترد کردیا۔
پھر جمعیت علماءاسلام نے اپنا مسودہ پیش کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا مسودہ پیش کیا جس پر دونوں قانونی ٹیموں کی کئ میٹنگز ھوئیں
جمعیت علماء اسلام نے چونکہ اپنا مسودہ پیش کیا ھے تو اپنے مسودے پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے آج مولانا فضل الرحمن صاحب نے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو صاحب سے بلاول ھاؤس میں ملاقات کی ھے اور اس پر اتفاق رائے حاصل کیا ھے، کل مولانا صاحب جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف سے اسی مسودے پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیےملاقات کرینگے اور پرسوں اسلام آباد میں PTI کی قیادت کو اس مسودے پر آمادہ کرنے کے لیے اسلام آباد میں ان ��ے ملاقات کرینگے۔
اتفاق رائے جن نکات پر ھوا ھے وہ سب جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے بعد ھی پبلک کیا جائے گا
ابھی کچھ وقت گذرا ہے ،یہاں کچھ لوگ رہتے تھے
جو دل محسوس کرتا تھا،علی الاعلان کہتے تھے
گریباں چاک ،دیوانوں میں ہوتا تھا شمار ان کا
قضاء سے کھیلتے تھے ،وقت کے الزام سہتے تھے
✍🏻 *$*آزاد*
کتاب انسان کے اندر خوداعتمادی کو بڑھاتے ہوئے نئی منزلوں سے روشناس کرواتی ہے۔ اس میں کوئی دوراہے نہیں کہ کتاب سے دوستی قوموں کی معاشی، سماجی، سائنسی اور تہذیب و ثقافت کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے لہٰذا
#8فروری_وو_صرف_کتاب_کا
✍🏻 *$*آزاد*
#کتاب_ترقی_کا_ضامن