بہت خطرناک ہارٹ اٹیک ہے
دل کی سرجریاں ہونی ہیں
گردہ سٹیج تھری پر ہے اور فیل ہوسکتے ہیں
ایک نہیں کئی سرجریاں ہونی ہیں
ایک ریکور ہوگی تو دوسری پھر تیسری پھر چوتھی سرجری
اور علاج کیلیے کئی مہینے کئی سال لگ سکتے ہیں
یہ حالت بتائی گئی تھی
شہباز شریف نے نیا لطیفہ جاری کر دیا۔
"قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو قرضےلیتی ہیں"
ماشاءﷲ۔ پوری بات بتائیں کہ عظیم حکومتیں عوام کے نام پر بھاری قرضے لے کر 11 ارب روپے کے جہاز اور اربوں روپے کے اشتہار چلاتی ہیں۔ 👏👏👏
یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ رہا ہے کہ کیسے پنجاب میں غریب کو مارا جا رہا ہے
یہ لودھراں کا نوجوان لاہور میں ریڑھی لگاتا تھا کہ پھر مریم نواز کی ٹیم آگئی اور انھوں نے ریڑھی پر پڑا سامان توڑ کر ریڑھی کو ضبط کر لیا
اب یہ نوجوان آنسو بہا رہا ہے لیکن کوئی اس کی فریاد سننے والا نہیں ہے 💔
🛑 توبہ توبہ توبہ
📌پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میں 7 کھرب 2 سو 75 ارب روپے آئی پی پیز کو دئیے
جبکہ ان سے بجلی ایک دھیلے کی بھی نہیں ملی مطلب ایک یونٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی ۔
صرف پچھلے سال 1کھرب 1 سو 49 ارب آئی پی پیز کو دئیے گئے
ان پیسوں سے 5 دیامر بھاشا ڈیم بن سکتے تھے
🔥ظلم در ظلم یہ بھی کہ 7275 ارب پہ ٹیکس بھی نہیں لیا گیا
رواں سال کے یعنی 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ایک ہزار 4 سو 30 ارب آئی پی پیز مالکان کو دیا جا چکا ہے
🔥اگلا ظلم سنیں
نیپرا کے ایک ملازم نے لگے ہوئے 108 پلانٹس کی انسپیکشن کرنا ہوتی ہے مطلب اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ اس نے ان پلانٹس کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کونسا پلانٹ چل رہا ہے یا کونسا نہیں چل رہا
اس نے پچھلے 6 سالوں میں صرف 30 پلانٹس کا وزٹ کیا
🔥اگلا ظلم سنیں
چئیرمین نیپرا کی تنخواہ 11 لاکھ تھی
جسے بڑھا کر 32 لاکھ کیا جا چکا ہے
ان درندوں کا نا پیٹ بھر رہا ہے نا نیت ، دولت کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ھو رہی ۔
بریکنگ نیوز 🚨خُوف کا بت ٹوٹ گیا، ڈی جی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو شاہزیب خانزادہ نے منہ توڑ جواب دے دیا۔ جیو نیوز پر بیٹھ کر اپنے پروگرام میں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی اسٹبلیشمنٹ کے متعلق تاریخی گفتگو پڑھ کر سنا دی اور قائد نے ایک جونیئر فوجی آفسر کو کیسے شٹ اپ کال دی؟ سارا احوال بتا دیا 🔥🔥
قائد اعظم نے ایک پیغام اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بھی دیا، 14 جون 1948 میں کوئٹہ کمانڈ کالج کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو آئین کا مطالعہ کریں، جس میں لکھا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی پاکستانی حکومت کے سربراہ سے شروع ہوتی ہے جو اس وقت گورنر جنرل ہے۔ اس لیے آپ کے پاس جو بھی احکامات آتے ہیں، وہ بنا ایگزیکٹو اتھارٹی کی منظوری کے نہیں آ سکتے ہیں اور یہی قانونی طریقہ کار ہے۔ اس سے پہلے اگست 1947 میں قائد اعظم محمد علی جناح سے جب فوج کے ایک جونیئر افسر نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر غیر ملکی تعینات ہیں، ان غیر ملکی افسران کے بجائے ہمیں موقع دیا جائے اور مقامی افسران کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے، تو اس پر قائد اعظم نے غصے میں جواب دیا کہ مت بھولیں، فوج عوام کی ملازم ہے۔ ملکی پالیسی آپ نہیں، ہم سویلینز بناتے ہیں، ہم چیزیں طے کرتے ہیں اور آپ کا کام ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ پاکستانی فوج عوام کی فوج ہے، فوج اتنا ایگزیکٹو کا حصہ نہیں جتنام عوام کا حصہ ہے۔ پاکستانی فوج بیرونی خطروں کا واحد دفاع ہے، اسے سیاسی کیوں بنائیں؟ پالیسی سویلینز بنائیں گے، فوج عمل کرے گی۔ آج سے 76 سال پہلے قائد اعظم نے واضح کر دیا تھا، مگر پھر کیا ہوا؟ قائد اعظم کی ان باتوں پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ ملک میں چار مارشل لا آئے، جمہوری حکومتوں کے تختے الٹے گئے اور مارشل لا کے ذریعے اس ملک میں جمہوری حکمرانوں سے زیادہ آمروں نے حکمرانی کی اور 78 سال سے ملک میں سویلین اور عسکری قیادت میں تعلقات ابھی تک معمول پر نہیں آ سکے ہیں اور آج بھی جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کی بے بسی کی بات ہوتی ہے۔
”سسٹم نے کولیپس تو کرنا ہی تھا کیونکہ یہاں کوئی اپنا کام نہیں کررہا، جن کا کام ہے امن بحال رکھنا وہ سیاسی انجینرنگ میں لگے ہوئے ہیں، یہاں ایک ٹکا خان بندر بانٹ کررہا ہے حکومتیں تقسیم کررہا ہے، جن کا کام ہے انصاف کرنا وہ پرچیوں کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں، جن کا کام ہے صاف شفاف الیکشن کرانا وہ کسی اور کے فیصلے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے!“
وزیراعلی @SohailAfridiISF
کمشیر میں PhD سکالر کو شہید کیا گیا 💔
پاکستان میں اور پھر کشمیر سے, تعلیم حاصل کرنا کتنا مشکل کام ہے, پاکستان جہاں پر تعلیم کی پہلے سے ہی کمی ہے, وہاں پر PhD سکالرز کو ٹارگٹ کیا جائے,تو ایسا ریجیم ملک دشمن ریجیم کہلاتاہے!!
عمر ایوب نے "استحکامِ پاکستان کانفرنس" میںDG-PMLN کو آئینِ پاکستان کا اصل سبق پڑھاتے ہوئے آئین کا آرٹیکل 7 پیش کر دیا:
ریاست عوام اور ان کے منتخب کردہ ادارے ہیں—فوج، ایجنسیاں یا دیگر ادارے ریاست نہیں بلکہ اس کے اوزار
ہیں۔
"ریاست سے مراد مجلسِ شوریٰ (سینیٹ اور قومی اسمبلی)، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، صوبائی اسمبلیاں، اور وہ تمام مقامی ادارے ہیں جو ٹیکس عائد کر سکتے ہیں۔
"اگر ایک گھر میں چوکیدار اٹھ کے کہے کہ میرے پاس ڈنڈا ہے، اس لیے بجلی، گیس کا بل اور کچن بھی میری مرضی سے چلے گا اور مالک بھی میں ہوں—تو وہاں آئین اور قانون ختم ہو جاتا ہے۔ فوج، پولیس، اور ایجنسیاں ریاست کی خدمت گار ہیں، مالک نہیں!"
@OmarAyubKhan
اگر آپ نے آئین کی پامالی کرنی ہے، عوام کے مینڈیٹ سے انحراف کرنا ہے تو بہتر ہے کہ:
”اب وقت آگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ادارے اپنی خود کی ایک سیاسی جماعت بنا لیں جس کا نام ہو عسکری جمہوری پارٹی“
بلوچستان میں بھی لوگوں کا مینڈیٹ چوری کر کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو دیا گیا، کیا ایسے بلوچستان قومی دھارے میں شامل ہو گا؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بینر اور پوسٹر پہ عمران خان کی تصویر لگا کر عوام سے ووٹ لے اور الیکشن جتنے کے ایک دن بعد ن لیگ میں شامل ہو جائے ؟!
ایسی بیغرت اور بددیانت جمہوریت کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایک وقت تھا پاکستانی انڈین ایمبیسی کے سامنے جا کر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔لیکن آج اورسیز پاکستان کے خلاف پاکستانی ایمبیسی کے سامنے آزاد کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ہم نے تو مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانا تھا۔ لگتا ہے ہم آزاد کشمیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ عالمی سطح پر ہمارا مقدمہ بنا ہوا تھا اسکو بھی اپنے ہی ہاتھوں سے کمزور کر دیا ہے ۔
انڈین میڈیا کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف خوب کوریج کر رہا ہے اور دنیا کو بتا رہا ہے کہ پاکستان خود کشمیریوں کے اوپر ظلم کر رہا ہے۔