It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
Pakistan desperatley needs a functional & representative govt that is aggressively focused on reforms.
Instead we have a hurriedly put together amalgamation of notorious, incompetent, rejected & outdated figures pretending to act as a govt.
Time running out. Capital & HR fleeing.
بھٹو کی نیشنلائزیشن کے بعد اگر کسی دور نے پاکستان کی صنعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ موجودہ غیر منتخب حکومت کا دور ہے۔
گزشتہ 4 برس میں ہزاروں صنعتی ادارے سکریپ کے بھاؤ توڑ کر بیچ دیے گئے۔ ملک میں فسطائیت کا ماحول ہے، لہٰذا اس تباہی پر میڈیا میں بھی بہت کم بات ہوتی ہے۔
نون لیگ اور عوام کا مکالمہ؛
عوام کا مینڈیٹ چرایا؟ ہاں، چرایا۔
معیشت تباہ کی؟ ہاں، کی۔
کسان اور تاجر کا بیڑا غرق کیا؟ ہاں، کیا۔
صنعت ختم کی؟ ہاں، کی۔
عدالتوں کی آزادی ختم کی؟ ہاں، کی۔
شرم آئی؟ نہیں
فارم 47 کی جعل سازی اگر کرنی ہی تھی تو دو چار قابل اور ایماندار افراد کو بھی پارلیمان تک پہنچا دیتے۔ وہ پڑھ کر اپنے ساتھیوں کو بتا تو سکتے کے جو ترامیم اور بل پاس کر رہیں ان میں لکھا کیا ہے۔
پورے پاکستان کے نمونے اور ٹھگ ایک جگہ اکٹھا کر دئیے اور کہا یہ ہے آپ کی پی ڈی ایم حکومت۔
تاحیات بھی ہوگے ، ٹرمپ سے یاری بھی ہو گئی، انڈیا بھی زیر کر لیا لیکن بنی گالہ والے کا خوف نہیں جا رہا ۔۔۔
سنا ہے صاحب سو نہیں پاتے اور خوف سے جاگے رہتے ہیں۔۔۔
اڈیالہ جیل سے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
اڈیالہ جیل اس وقت ریاستی انتقام کا مرکز بن چکی ہے جہاں بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے آنے والی اطلاعات انتہائی ہولناک ہیں۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے طبی معائنے کو "معمول کی کارروائی" قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غیر سیاسی خاتون کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھ کر بدترین طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو سراسر فسطائیت ہے۔
یہ وہی مجرمانہ حکمت عملی ہے جو عمران خان کے خلاف استعمال کی گئی۔ انہیں جان بوجھ کر طبی امداد سے محروم رکھا گیا، جس کے سنگین نتائج ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی صورت میں سامنے آئے۔ اب یہی طریقہ کار بشریٰ بی بی پر دہرایا جا رہا ہے۔ ماضی میں انہیں کھانے میں ہارپک جیسی کوئی چیز ملا کر دی جا رہی تھی اور بارہا اسرار کے بعد بھی میڈیکل چیک اپ میں دانستہ ہفتوں تاخیر کی گئی اور اب بگڑتی ہوئی علامات کو دانستہ نظر انداز کرنا اس فاشسٹ حکومت کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تمام بربریت کا واحد مقصد عمران خان کے عزم کو متزلزل کرنا ہے، اور اس کے لیے یہ حکومت کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہے۔ "ڈسپیچز رجیم" کے یہ ہتھکنڈے اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یاد رہے کہ اگر ان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری جیل حکام اور موجودہ کٹھ پتلی حکومت پر ہوگی جو عاصم منیر کے تابع ہیں۔
#NoDealNoSurrender
سینیٹر اعجاز چوہدری، جو ایک طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں، ان کی صحت کے حوالے سے ان کی اہلیہ کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ دل دہلا دینے والی ہے۔
گزشتہ دنوں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ کے مطابق اعجاز چوہدری صاحب کے گردوں کی بیماری تیسرے مرحلے (Stage 3) تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اعجاز چوہدری کے گردے صرف تقریباً 20 فیصد کام کر رہے ہیں، وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے اور صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
طبی ماہرین کا واضح کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مرض کا علاج جیل کی چار دیواری میں ممکن نہیں۔ یہ محض ایک سیاسی قیدی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک انسان کی زندگی کا سوال ہے۔ جب مرض اس نہج پر پہنچ جائے تو تاخیری حربے فسطائیت کی بدترین شکل بن جاتے ہیں۔
جمہوریت میں اختلاف رائے کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ کسی بھی قیدی کو، خواہ اس پر الزامات کچھ بھی ہوں، بنیادی حقوق سے محروم کرنا بین الاقوامی قوانین اور اسلامی اقدار کے منافی ہے۔
Why Pakistan can never get Nobel Peace Prize.
It’s true that #Pakistan helped and stopped the war between USA (349 Million) & Iran (93 Million ) but at the same time killed 1.47 Billion ! Ykifyk
😜
#Ceasefire