Another bombshell: "The system has failed."
No. The system hasn't failed. The people who hijacked it have failed the system. Have destroyed it.
A parliamentary democracy stands on one foundation: the people's mandate. That's why we hold elections. When elections are rigged and the mandate is stolen, those without public legitimacy inevitably drive the country down the abyss.
Imprisoning @ImranKhanPTI, the leader millions trust and replacing the people's choice with a corrupt, fascist, elite rule is not a failure of the system. It is the subversion of the system.
Pakistan's parliamentary system has not failed. It has been repeatedly undermined by the establishment since 1977, denying the people the right to let their chosen representatives govern.
People of Pakistan: Don't be distracted by this debate. It is political chaff, designed to divert attention from the real issues: the destruction of the economy, the erosion of constitutional rule, political repression, killings and the imprisonment of thousands whose only "crime" was demanding that their vote be respected.
Our demands are clear:
• Restore the Constitution.
• Repeal the 26th and 27th Constitutional Amendments.
• #ReleaseImranKhan
• Hold Free and fair elections now, with EVMs, we trust neither you, the ECP nor a manual ballot.
Usurpers, looters, killers, stop blaming the system. Accept that you have destroyed it.
Forget our dignified people, even the "cockroaches" are coming for you now.
Fess up and scoot.
تشدد کرکے زبردستی جھوٹے بیانات دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بنی گالا کا نام زبردستی شامل کروایا جا رہا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ صرف ایک گندے نظام کی نشانی نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور اداروں کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے۔ پہلے سے گندا نظام اب مزید ننگا ہو چکا ہے۔
آج صبح 2 بجے مجھے ایک میسیج کے ذریعے اتنا بتایا گیا کہ خان صاحب کو PIMS ہاسپٹل انجیکشن لگانے کیلیئے لائے گے تھے- مجھے پیشگی اطلاع نہیں تھی-
ہمارا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ خان صاحب کا شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل میں اپنے ڈاکٹرز اور فیملی ممبرز کی موجودگی میں مکمل چیک اپ اور علاج ہو۔
توشہ خانہ 2 جیسے جھوٹے مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی گئی 17 سال قید کی سزا دراصل ایک فرد کی مسلط کردہ عاصم لا کی پیداوار ہے۔ یہ وہ عاصم لا ہے جو آئین توڑ کر نافذ ہے، جہاں نہ آئین باقی ہے، نہ آزاد عدالتیں، نہ انسانی حقوق، اور نہ ہی آزادیٔ اظہار و صحافت.
یہ جھوٹے مقدمات اور زبردستی سنائی گئی سزائیں طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہیں ایک ایسے بزدل ذہنی مریض کی، جو عمران فوبیا میں مبتلا ہو کر خوف کے تحت فیصلے کر رہا ہے.اب یہ سب عیاں ہو چکا ہے، کہ یہ فیصلہ افراد کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان میں دم توڑتے قانون، آئین اور جمہوریت کے خلاف ایک فیصلہ ہے.
#ذہنی_مریض_نامنظور
ان خواتین کیساتھ ریاستی اداروں کے ذریعے توہین آمیز سلوک، تشدد،گرفتاریاں بدترین فاشزم ہے،اگر آپ انکی ملاقات نہیں کرانا چاہتے جو کہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے تو تشدد،توہین آمیز سلوک کیوں کررہے ہیں؟؟؟
یہ جعلی حکومت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک پاکستانی سیاست /سماج کو شدید تقسیم، انتشار، عدم استحکام کیطرف لے جارہا ہے۔،عالمی سطح پر ریاست کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
دی اکنامسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین 1843 میں مضمون ن لیگ کی حمایتی خاتون بشریٰ تسکین نے لکھا۔
یہ ایک بکواس تحریر ہے جسکا مقصد فیلڈ مارشل اور صدر کے غیر اسلامی تاحیات استثنیٰ اور 27 ویں ترمیم سے عدلیہ و آئین کی تباہی سے توجہ ہٹانا ہے۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلیں۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔
میرے والد، سابق وزیرِ اعظم عمران خان، اب جیل میں 700 دن سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں- اُنہیں اپنے وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں، ہم بچوں سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، اور ذاتی معالج تک کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو تنہا کیا جائے اور توڑا جائے جس نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، جمہوریت، اور پاکستان کے لیے آواز بلند کی.