دو صفیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔
ایک طرف رنجیت سنگھ کی نسل ہے جوکہ وہ نسل ہے جو مغلوں کے گھوڑوں کی خدمت کرتی تھی۔
دوسری طرف احمد شاہ بابا اور عظیم خوشحال خان خٹک کی نسل ہے جبکہ ایمل خان، دریا خان اور عظیم خوشحال خان خٹک کی نسل ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج رنجیت سنگھ کی نسلیں عظیم احمد شاہ بابا کی سرزمین پر حکمرانی کر رہی ہیں۔
@topfans PTM NEWS.
#ManzoorPashteen
#PashtunTahafuzMovement
#PashtunRights
#JusticeForPashtuns
#PashtunHistory
#AhmadShahDurrani
#KhushalKhanKhattak
By demanding that Afghan students leave their hostels within 48 hours, King Edward Medical University is imposing unnecessary hardship on a vulnerable group. These students were forced to abandon their country due to Pakistan’s policies, yet they are now being targeted by the very state responsible for their initial displacement. This action stands in total opposition to justice and the universal right to access education.
قانون کی بالادستی یا انتقامی کارروائی؟
زبیر شاہ آغا کی گرفتاری پر بڑا سوالیہ نشان
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے مرکزی کمیٹی ممبر زبیر شاہ آغا پر ریاست کی جانب سے درجنوں سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
ان مقدمات میں ٹ-ی ٹ-ی پی، بی ای-ل اے، سی ٹی ڈی، خوار-ج اور فت-نۂ ہندوستان جیسے متضاد اور انتہائی سنگین الزامات شامل کیے گئے ہیں۔
ایک ہی وقت میں متضاد نظریات رکھنے والی کالعدم تنظیموں کے الزامات ایک سیاسی و پرامن آئینی جدوجہد کرنے والے رہنما پر لگانا بذاتِ خود ان مقدمات کی ساکھ پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اب جبکہ زبیر شاہ آغا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تو ہمارا ریاست اور مقتدر حلقوں کو ایک واضح اور سیدھا پیغام ہے کہ
عدالتوں کا سامنا کریں اگر یہ الزامات سیاسی انتقام نہیں ہیں اور ان میں رتی برابر بھی سچائی ہے، تو زبیر شاہ آغا کو فوری طور پر کھلی عدالت میں پیش کیا جائے۔
ثبوت سامنے لائیں مضحکہ خیز اور من گھڑت الزامات کے بجائے عدالت کے کٹہرے میں ٹھوس شواہد لائے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
سزا دیں یا رہا کریں اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق سزا دیں، ورنہ جھوٹے مقدمات کا یہ سلسلہ بند کرکے انہیں فوری رہا کیا جائے۔
پرامن سیاسی آوازوں کو سنگین اور متضاد الزامات کے ذریعے دبانے کی کوششیں ماضی میں بھی ناکام ہوئیں اور اب بھی ناکام ہوں گی۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ پردے کے پیچھے چھپنے کے بجائے عدالتوں میں آئینی اور قانونی طریقے سے بات کی جائے۔
@topfans PTM NEWS.
#ZubairShahAgha #PTM #RuleOfLaw #Justice #HumanRights #DueProcess
The walls may crumble with time, but the colors of a nation still flutter with pride. In this humble home lives a story of heritage, struggle, and unwavering identity.
Another day passes. Another day in detention.
Zubair Shah Agha remains detained while his family and friends continue to wait for answers.
The freedom to attend peaceful conferences and express views should never be met with unnecessary restrictions.
I continue to call for his release.
@FCDOGovUK@ukinpakistan@DanielZeichner@HFalconerMP@HumanRightsCtte@PakistaninUK@amnestysasia@BBCWorld
#ReleaseZubairShahAgha #PTM
اختلافِ رائے جرم نہیں، بلکہ ہر انسان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔
زبیر شاہ آغا کو پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ آوازوں کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر سچ اور انصاف کی جدوجہد کو نہیں۔ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ہم زبیر شاہ آغا کی فوری رہائی اور تمام سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
#ReleaseZubairshahAgha
Life sentences for Dr. Mahrang Baloch and Shah Ji Baloch raise serious concerns about the treatment of peaceful dissent and human rights defenders in Balochistan. Justice must never become a tool to silence voices demanding rights and accountability.
#ReleaseBYCLeaders
بند کمروں کی عدالتیں کبھی انصاف نہیں دیتے وہ صرف جرنیلوں کے خواہیشات پرفیصلہ سناتے ہیں ۔عمر قید کی سزا دو یا پانسی پر لٹکاؤ ،مگر سچ یہ ہے کہ تیری جھوٹی کہانی میں تیری ہی شکست عیاں ہے ۔
#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور رہنما صبغت اللہ شاہ کے خلاف جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا پر مشتمل نام نہاد عدالتی فیصلہ ریاست اور عدلیہ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ پی ٹی ایم اس جھوٹے مقدمے اور خلافِ قانون سزا کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
پی ٹی ایم ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی 24 جون بروز بدھ کے شٹرڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہیں
یہ حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کا وہ اہم ترین پہلو ہے جسے تاریخی طور پر محکوم اقوام کی سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
بلوچستان میں جاری قومی مزاحمت اور ریاستی دہشت گردی کے پورے پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے جھوٹے، حقائق کے برعکس مقدمات بنا کر سیاسی کارکنوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جانا طاقت اور قانون کے اس باہمی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جس میں قانون کو بالادست اقوام اور ریاستی اداروں کے مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ اسے محکوم اقوام کو کنٹرول کرنے اور استعماری استحصالی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنے کا آلہ بنا لیا جاتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف نام نہاد جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور پھر انہیں جس ماحول میں چلایا گیا، وہاں منصفانہ ٹرائل، آزادانہ قانونی دفاع، غیر جانبدار عدالتی عمل، فیس لیس ٹرائل اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس نامناسب عدالتی کارروائی پاکستان کے عدالتی نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔
ایک طرف راج مچی ریلی کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ اسی ریلی میں ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید کیے گئے تین بلوچ نوجوانوں کے خلاف مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف ان ہزاروں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتلوں اور فوجی آپریشنوں کا حساب کون دے گا جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون اور بلوچ سرزمین کو جنگ اور عسکریت کے میدان میں تبدیل کر رکھا ہے؟ وہ کون سی عدالت ہے جہاں ریاستی تشدد اور ظلم کے مقدمات زیرِ سماعت آتے ہیں؟
پاکستانی ریاست کی نوآبادیاتی ساخت میں عدلیہ، انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے عموماً ایک ہی سیاسی منطق کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس منطق کا بنیادی مقصد محکوم علاقوں میں قومی مزاحمت کو ایک "سکیورٹی مسئلہ" بنا کر پیش کرنا ہے۔ بلوچ اور پشتون علاقوں میں جاری جبر، عسکریت اور سیاسی کارکنوں کی مجرمانہ تصویر کشی اسی وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔
لہٰذا راج مچی کے خلاف درج جھوٹے کیس کا یہ فیصلہ محض چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ محکوم اقوام کی سیاسی آوازوں، قومی حقوق کے جائز مطالبات اور ریاستی جبر کے خلاف ابھرنے والی مزاحمت کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔
تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جیلیں، سزائیں اور ریاستی جبر قومی مزاحمت اور آزادی کی خواہش کو کبھی ختم نہیں کر سکے۔ پستون تحفظ موومنٹ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عدالتی ناانصافیوں کے خلاف 24 جون بروز بدھ کی شٹرڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہیں
ہم اس ناانصافانہ فیصلے کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں اور بلوچ عوام کے ساتھ ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات
پشتون تحفظ موومنٹ
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ، اور دیگر کے خلاف عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سُنانا ایک شرمناک فیصلہ ہیں، اس فیصلے سے پیغام دیا گیا ہیں کہ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا وس کو سزا دی جائے گی
Life imprisonment for Dr. @MahrangBaloch_ is an outrageous attack on human rights and democratic freedoms. Criminalizing peaceful dissent will neither bring justice nor silence legitimate demands for rights and accountability.
#ReleaseBYCLeaders#MahrangBaloch#HumanRights
آج وزیرستان کے تمام فٹبالرز نے سبیل نور کی رہائی کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ایک کھلاڑی کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سبیل نور کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔
#ReleaseSabeelNoor