صبح ایک جاننے والے کا میسیج آیا جو اسلام آباد سے کراچی اپنی گاڑی میں جا رہا تھا کہ مہران ہائی وے پر پولیس نے روکا باوجود گاڑی کے کاغذات پورے ہونے کے بیس ہزار روپے ہتھیا لیے کہ کاغذات میں گڑبڑ ہے۔ ابھی تسلی کا میسیج کیا ہے تھا کہ دوبارہ میسیج آیا کہ ایک اور ناکے اور روک کر مزید رقم لے لی گئی۔ بھائی اگر کاغذات میں گڑبڑ ہے تو جانے کیوں دیا ؟ یہ حال ہے سندھ کا اس لیے کہتے ہے کہ سندھ کا سفر بہ راستہ گاڑی جتنا ممکن ہو گریز کریں۔ کچے کے ڈاکوؤں سے بچیں گے تو پولیس کے ڈاکو لوٹ لیں گے۔ پھر کہا جاتا ہے آپ سندھ حکومت کے خلاف ہیں بھائی لا قانونیت کے خلاف ہیں، کرپشن اور بد انتظامی کے خلاف ہیں۔
جو اہلیت نہیں رکھتے، ایسے لوگوں کو قوم پر مسلط کر دیا جاتا ہے
کسی کو وزیراعلیٰ بنا دیا جاتا ہے اور کسی کو وزیراعظم
اب کھل کر بات کروں گا، کیونکہ مجھے آگے قبر نظر آ رہی ہے
ملتان شاہ رکنِ عالم کے علاقے میں ایم فل پاس 26 سالہ نوجوان ساجد نے مبینہ طور پر بے روزگاری اور معاشرتی طعنوں سے تنگ آ کر اپنی تمام تعلیمی اسناد اور ڈگریاں چوک کے بیچوں بیچ آگ کی نذر کر دیں اور خود پر پیٹرول چھڑکنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق ساجد پچھلے تین سال سے نوکری کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہا تھا، لیکن ہر جگہ سفارش یا رشوت مانگی جاتی تھی
واقعے کے وقت ساجد سڑک پر کھڑا چیخ رہا تھا کہ "ان کاغذ کے ٹکڑوں کا کیا فائدہ جب یہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے۔" وہ جیسے ہی ماچس جلانے لگا، وہاں موجود ٹریفک پولیس اہلکار اور راہگیروں نے اپنی جان پر کھیل کر اسے دبوچ لیا اور اس کے ہاتھ سے ماچس چھین لی۔ نوجوان کو شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں تھانے منتقل کیا گیا جہاں اس کے غریب والدین بھی پہنچ گے۔
لخ لعنت اس نظام پر جہاں انگوٹھا چھاپ لوگ سسٹم پر قابض ہیں اور پڑھا لکھا طبقہ بھوک افلاس سے تنگ آکر اپنی جان کے درپے ہے۔۔۔💔💔
او میرے خدایا !
کن ظالموں سے ان غریبوں کا پالا پڑگیا ہے
لیاقت پور خان بیلہ میں پیرا فورس کے اہلکار ایک غریب دوکاندار کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
ان حرام خوروں کو ہر جگہ پہنچاؤ اور انکا اصلی چہرہ قوم کو دکھاؤ
بیوقوف عوام ۔۔۔۔ جو پوری روٹی کی بجائے ایک دو لقموں پر راضی ہو رہی ہے۔ پیٹرول ریلیف کے پیچھے پمپس والے اور نہ جانے کون کون مل کر عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ پمپ پر پٹرول کے لیے گئے تو الگ مشین رکھی ہوئی ہے دوسری بات کہ پانچ سو روپے کا پٹرول نہیں دیتے۔ کہتے ہیں کہ سات آٹھ سو روپے
@JIPOfficial بالکل درست، سب مل جل کر ایسا حل نکالیں جو عوام کے مفادات کے لیے ہو۔ نہ کہ اشرافیہ کے لیے۔ صوبے بیشک دس بیس بنا لیں لیکن عوامی مفادات کو ترجیح دی جائے۔سب نیتوں کو خالص کر کے فیصلے کریں تو اللہ تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا اگر انیس بیس بھی فرق ہو گا تو رب العالمین دلوں کے بھید جانتا ہے
@ikhan_17 پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ (جو کہ اصل میں لیڈر نہیں ہیں) پر عوام کا اعتماد نہیں شاید۔ موٹر وے پر سفر کے دوران گاڑی میں اکثر لوگ یہی کہتے ہیں۔
@NadeemAfzalChan چن صاحب مفادات کی جنگ ہے، عوام کے لیے کوئی بھی مخلص نہیں۔ جنہیں عوام ووٹ دیتے ہیں وہ ووٹ لینے کے لیے دروازے تک آتے ہیں پھر جب جیت جاتے ہیں تو اپنے دروازوں پر گارڈز بٹھا دیتے ہیں۔ پھر گارڈز کہتے ہیں صاحب سو رہے ہیں یا پھر صاحب سے پوچھ کر آتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی روڈ پر
ریڈ لائن منصوبے کے زیرِ تعمیر
پل کا اسٹرکچر گرنے سے
ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوگئی،
جبکہ ایک شخص کو
زخمی حالت میں اسپتال
منتقل کردیا گیا۔
2022 میں شروع ہونے والا
یہ منصوبہ 30 ماہ میں
جون 2024 تک مکمل ہونا تھا،
مگر 2026 میں بھی مکمل
نہیں ہوا۔
منصوبے کی لاگت تقریباً
79 ارب سے بڑھ کر 2024 میں 103 ارب اور
اب 184.63 ارب روپے تک
پہنچ چکی ہے۔
ہمارا سوال ہے :
184 ارب روپے کہاں گئے ؟
تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور حفاظتی غفلت کی نیب سمیت متعلقہ اداروں سے شفاف انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔