سیز فائر 🚨ایرانی Press Tv کے مطابق امریکی سپیشل فورسز براہ راست ایرانی افواج کے بچھائے گئے جال میں پھنس گئیں۔
واچ: وسطی اصفہان صوبے میں امریکی اسرائیلی اتحاد کے حالیہ آپریشن کے بارے میں پریس ٹی وی کو حاصل کردہ معلومات سے دشمن کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک شکست کا پتہ چلتا ہے۔
🟧👈 ایک فلم کی طرح، لیکن حقیقی! جائے وقوعہ پر وہ ایجنٹ کون، جو حملے میں محفوظ بھی رہا اور پھر تصویر کشی بھی کرتا رہا...
اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ موساد کے ایک ایجنٹ نے جائے وقوعہ پر ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی لاش کی دستاویز بنائی اور فوٹیج براہ راست وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھیجی۔ ذرائع نے زور دے کر کہا کہ یہ دستاویز سوشل میڈیا یا میڈیا کے ذریعے حاصل نہیں کی گئی بلکہ ایجنٹ نے براہ راست وزیر اعظم نتین یاہو کو بھیجیں۔
علماء سے چند سوالات:
۱۔ ووٹ ایک امانت ہے اگر اس پر کوئ ڈاکہ ڈالے یا اس میں خیانت کرے تو اس کے لئے شریعت میں کیا سزا ہے؟
۲۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے اگر کوئ اسمیں زبردستی ایک طرفہ عوام کی مفاد اور مرضی کیخلاف تبدیلی کرے تو اس پر کیا سزا ہے؟
۳۔ اگر جرم ٽابت کئے بغیر کسی شہری کو جیل میں بند کیا جائے یا مسنگ پرسن بنا دیا جائے تو اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
۴۔ حکمران کیلئے استٽناء کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
اور
۵۔ جابر حکمران کے قصیدے پڑھنا اور اس کا بیعت کرنا ایک عالم دین کیلئے جائز ہے؟
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
گینگ آف تھری، اپنے ذاتی مفاد اور ایکسٹینشن کی خاطر ملک کی جمہوریت، اخلاقیات اور تمام ادارے تباہ کررہے ہیں۔ حمودالرحمان کمیشن رپورٹ نے بھی یہی بتایا تھا کہ یحییٰ خان نے اپنی ذاتی طاقت قائم رکھنے کے لئے پچاس ہزار پاکستانی مروا دیئے تھے۔
آج یحییٰ خان پارٹ ٹو کی بادشاہی ہے۔
آج پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے، تمام پاکستانیوں کو چاہئے کہ اپنی عدلیہ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوں۔ عدلیہ پاکستانیوں کی آخری امید ہے، یہ اس امید کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
میرے پاکستانیو! اپنی حقیقی آزادی، جمہوریت، آئین اور اپنے تمام حقوق کے دفاع کے لئے عدلیہ کی سپورٹ میں ہمارا ساتھ دیں۔
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
ہمیں ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جاتا رہا لیکن یہی ڈیجیٹل دہشتگرد تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کا محاذ سنبھالا انڈیا کے خلاف اور پاکستان کا بیانیہ پرموٹ کیا۔
پاکستان زندہ آباد ۔
جنگ کے ہنگام یہ مت بھولنا کہ 7 مئی 2025ء بوقت 2 بجکر 35 منٹ پر بنی نوع انسان کے سب سے عظیم منصف قاضی امین الدین کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی، قاضی شاہد بلال، قاضی محمد علی مظہر، قاضی احسن اظہر رضوی 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق پر بم مارا تھا۔
#ReleaseImranKhanNow
Our family has consulted with Salman Akram Raja regarding the petition filed for Imran Khan’s parole. He has stated that there is ZERO chance that Imran Khan will be released on parole.
This is for the people messaging us asking if Imran Khan will be released today.
We must all focus on getting Imran Khan out of illegal imprisonment for the sake of Pakistan!
کیا ہوا ہے اور کیا ہوگا !
کوئی بھارتی پائلٹ پاکستانی حدود سے گرفتار نہیں ہوا
بھارتی کی دسیوں ائیر بیسز بالکل تباہ نہیں ہوئیں
کوئی مزید رافیل طیارہ ابھی تک نہیں گرایا گیا
ڈاگ فائٹ کی ویڈیو ایک ویڈیو گیم کا کلپ ہے
پاکستان نے محدود سی جوابی کاروائی زمین پر اور منہ توڑ جوابی کاروائی سوشل میڈیا پر کی ہے۔ بھارت لگاتار پاکستان کو اشتعال دلا رہا تھا۔ مساجد اور مدارس پر حملے کے بعد پاکستان نے کوئی ردعمل نہیں دیا تو بھارت نے ڈرونز بھیجنا شروع کردیے۔ اس پر بھی پاکستان نے کوئی ردعمل نہیں دیا تو نورخان ائیر بیس پر حملہ کیا گیا ۔ بلآخر پاکستان کو جواب دینا پڑا۔
اب بھارت پاکستان کو اشتعال کیوں دلا رہا تھا یہ ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک معاملہ ہے۔ شاید بھارت کسی بھی طرح پاکستان کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ لڑنا چاہ رہا ہے۔ ویسے بھی بھارت یہ کیوں نہیں چاہے گا۔ پاکستانی معاشی ، سیاسی اور سفارتی لحاظ سے اس وقت تاریخ کی کمزور ترین حالت میں ہے۔ فوج نے دشمن کو آئیڈیل حالات پیدا کرکے دیے ہیں۔ شاید بھارت یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے دفاع کی کمر توڑ دی جائے۔
یہاں سے جو راستے نکلتے ہیں وہ سبھی خطرناک ہیں۔ امریکہ یا کوئی اور طاقتور ملک پاکستان اور بھارت کی ثالثی کروائے گا۔ ایسے میں پاکستان کو بھارتی مطالبات تسلیم کرنا پڑیں گے۔ کیونکہ بھارت نے اپنی پوزیشن خاصی مضبوط بنا رکھی ہے۔ اگر بھارت اس جنگ کو مزید آگے لیجاتا ہے تو چاروناچار پاکستان کو پوری قوت جھونکنا پڑے گی جس سے فی الحال پاکستان گریز کررہا ہے۔ جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہی و بربادی لیکر آئے گی۔
یہاں سے حالات ایٹمی جنگ کی طرف مڑ سکتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ بھارت پاکستان پر زمینی حملہ کرتا ہے اور اللہ نہ کرے بھارتی فوجیں پیش قدمی شروع کردیتی ہیں تو پاکستان کے پاس اور کیا آپشن رہ جائے گا ؟ بربادی اور تباہی۔ اللہ ہمیں کسی بھی انتہائی صورتحال سے محفوظ رکھے۔
مزید یہ کہ فوج کو پچھلے تین سال سے عوامی حمایت درکار تھی۔ فوج کو یہ حمایت ملتی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ فوجی جرنیلوں کا اور عقل کا کوئی جوڑ نہیں تو وہ اس عوامی حمایت کو بھارت کی نفرت کی بجائے فوج کی محبت سمجھ لیں گے۔ جیسے ہی جنگ یا موجودہ محاز آرائی ختم ہوگی تو آپ کو دن میں تارے نظر آئیں گے۔ بلکہ محاذ آرائی ختم ہونا تو بہت دور ہے ایک دو دن میں ہی آپ کے سر پر کوئی نا کوئی بم پھوڑا جائے گا۔ تیار رہیں۔
اسی دن سے ڈراتے تھے۔یہی بات بار بار کرتے تھے۔ اپنی قوم سے جنگ مت لڑو۔ اپنے لوگ مت مارو۔ اپنے لوگوں کے دل کھٹے مت کرو۔ پوری دنیا تمہارے ساتھ کھڑی ہوجائے اگر پاکستانیوں کے دل تمہارے ساتھ نہ دھڑکے تو روو گے۔ چیخو گے۔ تم نہیں مانے۔ تم ضد پر اڑ گئے۔ پھر نتیجہ یہ نکلا کہ آج نہ دنیا تمہارے ساتھ کھڑی ئے نہ قوم کے دل تمہاری طرف سے ٹھنڈے ہیں۔
آج حالت یہ ہے کہ کوئی قابل ذکر برادر اسلامی ملک بھارت کی مذمت نہیں کررہا۔ تمہاری حمایت نہیں کررہا۔ کوئی ثالثی تک کروانے کو تیار نہیں۔ کوئی انڈیا کا ہاتھ روکنے کو تیار نہیں۔ تم نے اپنے لوگوں کو دباتے دباتے وہ حدیں عبور کیں جو اب تمہاری واپسی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تعیناتی اور توسیع کے لالچ نے تمہیں اس قدر اندھا کردیا تھا کہ تمہیں پچیس کروڑ عوام کیڑے مکوڑے دکھائی دے رہے تھے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تمہاری پٹی ابھی نہیں کھلی۔ تم ابھی بھی عمران خان کی ملاقاتیں روک کر ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے والدین اور بھائی اغواء کرکے اور فیک نیوز کی فیکٹریاں کھول کر کام چلانا چاہتے ہو۔ تم اب بھی اس قوم کو گھسیٹنا چاہتے ہو۔ اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہو۔ تمہاری یہی ناجائز خواہشیں تمہیں گھسیٹ رہی ہیں۔ تم عقل نہیں آتی تو نہ آئے۔ ہمیں سمجھ آگئی ہے۔ تم اپنی ذات کے خیرخواہ ہو۔ تمہیں اس ملک کی اس ملک کے عوام کی انکی خواہشات کی کوئی پرواہ نہیں۔