غُربت میں پلا یہ آستین کا سانپ، کتنی چھوٹی سوچ ہے اس بندے کی۔ بیغیرت ہر بات پر دانت دکھاتا ہے جب کہ اسے جس کام کے لیے منصب پر فائز کیا خان صاحب نے، اُس کی جئی تئی پھیر دی ہے اِس عسکری نوکر، بہروُپئیے نے!
صاحب کہتے ہیں کہ فوج اپنے شہداء کی توہین برداشت نہیں کر سکتی !
صاحب یہ نہیں بتاتے کہ اسی فوج کے شہداء کی لاشیں کارگل کی چوٹیوں پر لاوارث دفن ہیں، جنہیں وصولنے سے فوج انکاری ہے۔
کیا یہ شہداء کی توہین نہیں ؟
کیا فوج خود اپنے شہداء کی توہین نہیں کرتی اور نہیں کیے جا رہی؟
🤔
راجا ایک کمزور اور بیکار آدمی ٹھرکولا
کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا
ریزائن دو گھر جاو آرام کرو
ورنہ عوام کی طرف سے جوتے انڈے ٹماٹر
اور بھرپور ردعمل آئیگا جو آپ سے برداشت نہ ہوپائے گا۔
@salmanAraja
🚨 خیبر پختونخوا میں بدعنوانی کا طوفان برپا
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں
ورلڈ بینک اور اے ڈی بی فنڈڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات
---
کے پی سی آئی پی اسکینڈل: تصدیق شدہ اہم حقائق
خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ (KPCIP) — ایک 97 ارب روپے کا اقدام جو ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی فنڈنگ سے چل رہا ہے — بدعنوانی کے الزامات کے مرکز میں ہے۔
اعداد و شمار
- KPCIP
آڈٹ میں 8.48 ارب روپے کے مالیاتی تضادات سامنے آئے
- 32 ارب روپے مبینہ طور پر ایک غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو جعلی پیشرفت رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیے گئے
- 1.05 ارب روپے inflated rates پر کنٹریکٹس دینے میں ادا کیے گئے
- 3.73 ارب روپے غیر مجاز remunerations اور overpayments کے ذریعے ضائع ہوئے
اسکیم کیسے چل رہی ہے
بدعنوانی کا نیٹ ورک مبینہ طور پر درج ذیل طریقے سے کام کر رہا ہے:
1. KPCIP
پروجیکٹس LG Development کے تحت بینکوں سے مشاورت کے بعد مقرر کردہ DG اور کنسلٹنٹس کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
2. فرنٹ مین شاہ جہاں (Afridi Medical Complex کے مالک، امریکہ گرین کارڈ ہولڈر) — جو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور دونوں کے لیے انٹرمیڈیری/فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
3. براہ راست خاندانی شمولیت — وزیراعلیٰ کے بھائی عامر آفریدی اور دو کزنز ڈیلز سنبھال رہے ہیں؛ بھائی نوید آفریدی "ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ" کی حیثیت سے محکموں کو براہ راست ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
4. کنسلٹنسی فراڈ — شاہ جہاں کی این جی او اور ghost firms نے زراعت محکمے میں اکیلے ADB/WB کنسلٹنسی کنٹریکٹس سے 5 ارب روپے بنائے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بدعنوانی
سرکاری سینئر بیوروکریسی تصدیق کرتی ہے کہ وزیر مینا خان نے اپنی پسند کے تین وائس چانسلرز کی تقرری کی کوشش کی:
- مردان یونیورسٹی
- چارسدہ یونیورسٹی
- وومن یونیورسٹی صوابی
ان افراد نے تقرری کے لیے مجموعی طور پر 13 کروڑ روپے بطور رشوت پیش کیے۔ رشوت مسترد کر دی گئی اور اس کی رپورٹ سکروٹنی کمیٹی کو کی گئی، جس کے نتیجے میں امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا گیا۔
پروجیکٹ امپلیمنٹیشن فراڈ
UET
پشاور سکل ڈویلپمنٹ پروجیکٹ — 80 کروڑ روپے امپلیمنٹنگ پارٹنر کو جاری کیے گئے، دو ہفتوں میں واپس لیے گئے بغیر کوئی ٹریننگ، جو شاہ جہاں کے ذریعے وزیراعلیٰ اور ACS اکرام اللہ کے درمیان 500:300 ملین کے تناسب سے تقسیم ہوئے۔
سرکاری احتساب
- NAB KP
نے KPCIP میں باقاعدہ انکوائریاں شروع کر دی ہیں۔
- کرنل عثمان (موجودہ OC مری، سابق OC پشاور آئی ایس آئی) مبینہ طور پر سہیل آفریدی اور ان کے وزراء کے خلاف بدعنوانی کی فائلوں سے آگاہ ہے اور انہی فائلوں کی بنیاد پر سہیل آفریدی اور اس کی کابینہ کو عمران خان کو بھلا کر معاملات چلانے پر راضی کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی،مینا گل اور اساھد خٹک اس اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیں۔
- پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نوٹس لے لیا ہے اور حکام کو بریفنگ کے لیے طلب کیا ہے۔
---
"اربوں روپے کے کنٹریکٹس بنیادی قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دیے گئے... اربوں روپے manipulated پیشرفت رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔" — NAB ذرائع
---
اپ ڈیٹس کے لیے فالو کریں | #KPCIPScandal | #KPCorruption | #SohailAfridi
یہ ہے ریاست کی سنجیدگی۔۔۔
ایک طرف ہمارے بھائی بیٹے بلوچستان میں۔ قتل ہوئے پڑے ہیں انکی لاشیں واپس لانے کے وسائل نہیں ہیں دوسری طرف مسخروں کو اکٹھا کرکے بیرون ملک سے بھی گھٹیا غلیظ لوگوں کو لاہور بلا کر پنجابی گانوں پر "نچاں میں اودے نال" پر بھنگڑے کروا رہے ہیں اور عوام کا پیسہ برباد کر رہے ہیں۔
تف ہے ان لوگوں پر جو اپنے ریاست کے بیٹوں کے قتل کا لحاظ نہیں کر رہے اور باچ گانوں کہ محفل کروا رہے ہیں
پنجاب پولیس کی بے حسی کا اندازہ لگائیں!!
ملتان میں نوجوان کو قتل کیا گیا ہے💔
جب مقتول کی بہنیں پولیس اسٹیشن گئی تو پولیس والے, مقتول کی بہنوں کا مذاق اڑاتے ہیں, اور انکی ویڈیوز بناتے ہیں!!
امریکہ نے ہمیشہ پاکستان میں آمریت کو کیوں پسند کیا، اور مضبوط بھی کیا؟
اور ایک انتہائی اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جب بھی ڈکٹیٹر مسلط ہوئے تو ساتھ ہی ہی geopolitical تبدیلیاں بھی خطے میں آئیں، جو کہ محض ایک اتفاق ہونا ناممکن ہے!
یہ ڈکٹیٹر دراصل امریکہ کی proxies ہوتے ہیں، انہیں امریکہ مفادات کے لئے لایا جاتا ہے اور قبولیت بخشی جاتی ہے.
مہہ لقا صمدانی اور ڈاکٹر زوبیہ نے آسان الفاظ میں یہ سب سمجھایا ہے.
تمام اوور سیز پاکستانیوں کو یہ intellectual discussion دیکھنا چاہیے. خاص طور پہ امریکہ، یورپ اور برطانیہ والوں کو.
پاکستان پہ قابض عسکری مافیا نے جتنے گہرے پنجے گاڑ رکھے ہیں، اس سے پاکستان کو چھڑوانے کی جدوجہد بہت طویل ہوگی اور مناسب حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں. جتنا جلدی ہم سمجھ لیں گے اتنا ہی ملک کے لئے بہتر ہوگا.
لنک: https://t.co/VdsFSDPUlW
@MoeedNj@MehlaqaCAPJ@zoobiachaudhry