"ان کہے لفظوں کا مرثیہ"
لفظ نا مکمل ہیں،
کس قدر ادھورے ہیں
نا تمام خوابوں کا،
بے کنار جزبوں کا
ادھ شکستہ وعدوں کا،
بے دریغ سوچوں کا
بے حساب لمحوں کا،
غم بیان کرنے سے
لفظ کتنے قاصر ہیں۔۔💔
حُدودِ ذات سے، باہر نِکل کے دیکھ ذرا
نہ کوئی غیر، نہ کوئی رَقیب لگتا ہے…
یہ دوستی، یہ مَراسِم، یہ چاہتیں یہ خُلوص
کبھی کبھی مُجھے سب کچھ عَجیب لگتا ہے...
اُنہیں کہنا۔۔!
کہ ہم نے
چھوڑ دی ضد
اُن سے ملنے کی۔۔
تقاضے تشنگی کے
ساحلوں پہ چھوڑ آئے ہیں
ہمیں معلوم ہے
بے درد موسم کی رضا کیا ہے،
ہم اپنے خواب سارے
پانیوں پہ چھوڑ آئے ہیں....!!
یہ بد قماشں جو، اہلِ عطا بنے ہُوئے ہیں۔۔۔
بَشر تو بن نہیں سَکتے، خُدا بنے ہوئے ہیں....
تُو خلوتوں میں اُنہیں دَیکھ لے، تو ڈر جائے....
یہ جِتنے لوگ یہاں پَارسا بنے ہُوئے ہیں...!
یہ جو وحشت خُمار لمحے ہیں
اور جو آنکھوں پہ گہرے حلقے ہیں
اور جو ٹوٹے ہیں تار باتوں کے
یا جو رشتے ہیں صرف یادوں کے
یہ ستم ہے یا مہربانی ہے....
یہ تیرے بعد کی کہانی ہے...!