یہ جو عاصم منیر اور ان کی ٹیم عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیل رچا رہی ہے، اس سے وہ اپنے آپ کو بھی رسک پر ڈال رہے ہیں۔ عمران خان اس وقت پاکستان کی ہی نہیں ان سب ظالموں کی بھی انشورینس پالیسی ہیں۔ اگر صحت مند عمران خان جیل سے واپس نہیں آتے تو پاکستانیوں کی نسلیں ان سب سے بدلہ لیں گی ہر قانونی طریقے سے بشمول آرٹیکل ۶ کے۔ جب سٹیٹ کسٹڈی میں صحت خراب ہوجائے تو ہسپتال شفٹ میں کرنا انتہائی ضروری ہے فیملی اور نجی ڈاکٹرز کی رسائی کے ساتھ۔
عمران خان اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ عوام نے اس کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی صحت کے ساتھ جو کھیل تم کھیل رہے، اس کی ذات کے ساتھ جو ظلم تم کر رہے ہو عوام اسکا حساب لے گی۔
عمران خان کی صحت کو فوری ترجیح دی جائے!
ملک میں انقلاب لانا بھلے ہی عوام کی ذمہ داری سہی ، جیل میں قسطوں میں مرتے ہوئے عمران خان کی ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت پر ہی ہے جو اسکے نام پر عہدوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔
ہنگامی صورتحال 🚨
جیسے اسداللہ خان والی خبر فوج کی مرضی سے باہر نکلی تھی اسی طرح صدیق جان بھی فوج کی مرضی سے خبر دے رہا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر اتنا بڑھ گیا کہ ہسپتال لانا پڑا ورنہ یہ وہی صدیق جان ہے جس نے چھبیس نومبر کے بعد اپنا یوٹیوب ہی بند کردیا تھا کہ سختی بہت ہے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا خبر باہر آئی کارکنان نے ردعمل دیا اٹک و خوشحال گڑھ پل بند کردیا ۔ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے رہنما پختونخواہ ہاوس خودساختہ محصور ہوگئے۔ اب بلڈ پریشر کے سبب ہسپتال جانے کی خبر آئی ہے۔ نا تو کارکنان پل بند کریں گے نا سہیل آفریدی کے محصور ہونے کی نوبت آئے گی۔ اگلی خبر کا کنفرم نہیں اس سے اگلی کنفرم خدانخواستہ والی آئے گی۔ اب آپ پیٹرن دیکھیں۔
ردعمل ایسے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پانی ایسے ہی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے عمر ایوب کو استعمال کرکے فوج نے آٹھ فروری کو کسی بھی قسم کے احتجاج کا رستہ بند کیا۔ پھر ایک لانگ مارچ ملتوی کروا کر ٹیمپو توڑا ، پھر دوسرے کی دفعہ علی امین سے بارہ ضلعے پار کروائے۔ تیسری دفعہ تک کمزور سا لانگ مارچ تشدد اور قتل عام سے منتشر کردیا۔ پیٹرن دیکھیں۔ ایک جیسا پیٹرن۔
مزید مثال سنیں۔ عمران خان کو پہلی مرتبہ دو ہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا۔ پھر کچھ وقت کے بعد مہینے بھر کے لیے۔ پھر اسکے بعد چھ مہینے ہوگئے عمران خان کی متعلق کوئی بھی خبر باہر آئے ہوئے۔ آٹھ مہینے ہوگئے بہن سے ملاقات کیے ہوئے۔ یہی پیٹرن ہے۔ ہر جگہ ایک ہی پیٹرن۔
اب صدیق جان کی خبر درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ عمران خان کی اپنی بہنوں سے ملاقات کے بعد ہوگا۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت میں رتی برابر بھی غیرت موجود ہے تو کچھ نا کچھ ردعمل دے دیں۔ عمران خان کی قید تنہائی ختم کروا لیں اسے ہسپتال منتقل کروا لیں ورنہ اگلی خبر کا تو علم نہیں اس سے اگلی نہایت خطرناک ہوگی۔
نوٹ ؛ یہ کوئی مخصوص ذہن سازی نہیں ہے یہ خطرے کی نشاندہی ہے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ، قیاس آرائیوں اور تبصروں میں ہی عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی۔ ایک بار پھر عمران خان سے متعلق تشویشناک خبریں ہیں۔ اب سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی نہیں پوچھ سکتے کہ تم کیا کرنے والے ہو کیونکہ وہ 27 ستمبر والا کارڈ نکال کر دکھا دیں گے۔
ٹاؤٹس یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو بطور ملک یا قوم کوئی بھی کامیابی ملے تو اسے ظالموں کے اقتدار کے لیے جواز بنایا جائے۔
یہ معاہدہ بہت اچھا ہے، مگر اس سے حکومت جعلی سے اصلی نہیں بن جائے گی۔
یہ معاہدہ شاندار ہے، مگر 45 اور 47 والا فرق ختم نہیں کر سکتا۔
یہ معاہدہ تاریخی ہے، مگر یہ آئین کی خلاف ورزیوں اور حلف توڑنے کو جسٹیفائی نہیں کرتا۔
یہ معاہدہ کمال ہے، مگر یہ انسانی حقوق کی پامالیوں اور بار بار ریاستی قتل عام پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔
یہ معاہدہ جتنا بھی اچھا ہو، یہ جبری گمشدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اس معاہدے کو سونے سے لکھیے، مگر یہ جیلوں میں پڑی بے گناہ خواتین کو گناہ گار یا مجرم نہیں بنا سکتا۔
یہ معاہدہ فریم کروا کر ہر پاکستانی کے گھر میں لگوانا چاہیے، مگر یہ معاہدہ 9 مئی، 26 نومبر، مریدکے اور راولہ کوٹ جیسے قتل عام کو جائز نہیں کر سکتا۔
لوگ اس معاہدے سے کتنے بھی خوش ہوں، یہ ان کی زندگیوں کو نہیں بدل سکتا۔ جو تلخ حقیقتیں ہمارے سامنے ہیں، انہیں تبدیل نہیں کرے گا۔
کیا اس شاندار معاہدے میں یہ لکھا ہے کہ آج کے بعد کوئی بنگالی، مہاجر، پٹھان، بلوچ، کشمیری، پنجابی یا سندھی غدار نہیں کہلائے گا؟ یہ آگ تو جلتی رہے گی۔
قوم خود تو خوش ہے مگر وہ خود پر زبردستی مسلط ظالم رجیم کے ساتھ ناچنا گانا نہیں چاہتی۔ بس یہی فرق ہے جو ٹاؤٹس کو سمجھ نہیں آرہا۔
صابر بھائی، کیا کہہ رہے ہیں؟ برھان وانی تو جنگجو تھا، اس نے تو بندوق اٹھائی تھی، اسامہ تو ایک مقرر PhD اسکالر تھا! دونوں چیزوں میں زمین آسمان کا فرق ہے!
آج ذاتی اختلافات یا تنقید کا نہیں، بلکہ یکجہتی اور یکسوئی کا وقت ہے۔ پارٹی مفاد اور قائد کی رہائی سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔"
پیغام برائے سوشل میڈیا اور تمام کارکنان:
ہر کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے پرخلوص اپیل ہے کہ وہ ذاتی رنجشوں، الزام تراشیوں اور عوامی سطح پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے عمل سے گریز کریں۔
آج وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم انتشار کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف ایک مقصد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھیں:
بانی چیئرمین عمران خان کی فوری رہائی اور ان کی صحت و سلامتی
ملکی سلامتی، وقار اور اجتماعی مفاد کا تحفظ
صفوں میں اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا
جب تحریک ایک کٹھن اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہو، تو باہمی اختلافات کو عوامی سطح پر ہوا دینا صرف مخالفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ہمارے مشترکہ مقصد کو کمزور کرتا ہے۔
آئیے، ذاتی تلخیوں کو ختم کریں، ذمہ داری کا ثبوت دیں، اور ایک مضبوط اور متحد صف کی طرح کھڑے ہوں۔ اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
پاکستان اور تحریکِ انصاف کی بقا اور سلامتی کے لیے متحد ہو جائیں!
ادھر ہم ادھر تم
فالج کا مریض ، سفید سر ، تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن مشکلات کا سامنا کرتا ہوا جاوید ہاشمی ، کیا وہ وہ جھوٹ بولتاہے کہ فوج نے ندیم انجم نے کہا ہمارے ساتھ مل جاؤ ، جتنی چاہے تنقید کرو بس کوئی بل وغیرہ آئے تو ووٹ دے دینا؟ جاوید ہاشمی جیسے کھرے آدمی کو یہ آفر کرنے والے پھتو شقو کو کیسے کیسے گھیرتے ہوں گے؟ ہم کیا آنکھیں بند کرلیں ؟ اندھے بہرے گونگے ہوجائیں؟
عمران خان ڈیل کو تیار نہیں تو کیا بے نامی اکاونٹس ، اوورسیز یا زہریلے یوتھیے اسے اس کے حال پر مرنے کے لیے چھوڑ دیں ؟ کہ باہر حالات بہت مشکل ہیں اور لوگوں کی مجبوریوں کا احساس کرنا چاہیے؟ اور تنقید وغیرہ نہیں کرنی چاہیے؟ حماد اظہر پنجاب کے صدر تھے اور روپوش تھے ، صدارت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے کہ واپس ملنا مشکل ہے۔ بے تحاشا تنقید ہوئی۔ پھر کہیں جا کر وزنی پتھر رکھا اور صدارت چھوڑی۔ اسکے بعد ان پر کوئی تنقید ہوئی؟ نہیں۔ کم بہت کم۔ انکی جگہ جو صدور بنے ہوا ان سے بھی کچھ نہیں۔ پر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حماد اظہر آج کے دن تک پنجاب کے صدر رہتے؟
شیر افضل مروت تحریک انصاف کا سنئیر نائب صدر بن گیا۔ پتہ چلا اسکے پیچھے فوج ہے۔ مخدوم شہاب الدین تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ پھر غداران وطن والے بینر پر بھی موجود تھے۔ پتہ چلا آزاد چینل کے ملازم ہیں۔ سلمان درانی ملاقات کے بہانے لوگوں کی آڈیو ریکارڈنگ ایجنسیوں تک پہنچاتا رہا۔ بنا تو وہ بھی تحریک انصاف کا ہمدرد رہا۔ کتنے ہی چہرے ہیں جو بظاہر آزاد ہیں لیکن در حقیقت وہ آزاد چینل سے پیسے لیتے ہیں۔ کتنے ہی معصوم لوگ جو بظاہر تحریک انصاف کے ہمدرد ہیں پیٹ کی خاطر، نوکری کی خاطر ڈی جی آئی ایس پی آر کے جھوٹ سننے کے لیے دو تین گھنٹے ٹک کر بیٹھے رہتے ہیں۔ کیا ہم ایسی سازشوں اور انفلٹریشنز کے امکانات رد کردیں؟
مانا کہ حالات سخت ہیں۔ شریف لوگوں پر بے جا تنقید بھی ہوجاتی ہے۔ گالم گلوچ بھی ہوتی ہے۔ غلط ہوتا ہے۔ سب غلط ہوتا ہے۔ لیکن الٹا ہمیں ڈراتے ہو؟ ادھر انگلیاں اٹھاتے ہو؟ عمران خان عملا اس وقت فوج نے بے ضرر کردیا ہے۔ جس میڈیا میں تم مخنث لوگ جا جا کر بیٹھتے ہیں وہاں نا عمران خان کا نام چلتا ہے نا تصویر۔ تم سے دس مہینوں میں عمران خان سے ایک ملاقات نہیں ہوپائی اور سوال اور اعتراض ادھر کرتے ہو؟
پھر روز کی وہی کہانی تم باہر بیٹھے ہو۔ ہاں بیٹھے ہیں۔ کسی عہدے پر تو نہیں بیٹھے۔ کسی وزارت پر تو نہیں بیٹھے۔ کسی اسمبلی میں تو نہیں بیٹھے۔ یہ تو تم نے تصور کر رکھا ہے کہ باہر بیٹھے ڈالر کما رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایک ٹکے کے روادار نہیں۔ اور کسی دن دیکھو کہاں بیٹھے ہیں۔ ٹرکوں اور ٹیکسیوں کی ڈرائیونگ سیٹوں پر بیٹھ بیٹھ کر تشریف فلیٹ ہوگئی ہے۔ سٹور پر کھڑے ہو ہو کر ٹانگوں میں خون جم گیا ہے۔ ڈالروں کی بوریوں کے اوپر نہیں بیٹھے ہوئے۔ سخت مشقت اور اذیت والی مزدوریاں کررہے ہیں۔ وہ جو ڈالروں اور پاونڈز والے ہیں وہ تمہیں کب کے چھوڑ کر بھاگ گئے۔
تم لیڈ کرو۔ تم عہدہ سنبھالو ۔ تم یہ کرو ۔ تم وہ کرو۔ تم چھوڑو تو یہ بھی ہوجائے گا۔ بناؤ شہباز گل کو سیکرٹری جنرل وہ باہر بیٹھ کر پارٹی کو متحرک کرے۔ آن لائن پارٹی الیکشنز کروائے ، فنڈ ریزنگ کرے ، دنیا بھر میں پارٹی کی نمائندگی کرے۔ بناؤ شہزاد اکبر کو سیکرٹری اطلاعات ، وقاص اکرم کی یئیں یئیں کی جگہ وہ نام لے لے کر بتائے کہ اس ملک میں کون کیا کررہا ہے۔
اور پھر آخری حد تم ان لوگوں کو سامنے لاتے ہو جو تم ہو ہی نہیں۔ غریب گھروں کے کارکنان ، ملٹری کورٹس میں پڑے ہوئے ، مڈل کلاس ، ماریں کھاتے ، لڑتے جھگڑتے لڑکے بالے ، تم ان کے پیچھے چھپتے ہو ؟ نہیں تم وہ نہیں ہو۔ نہیں وہ تو ہم ہیں۔ تم تو وہ ہو اسمبلیوں اور عہدوں والے۔ ملاقاتوں اور خفیہ پیغامات والے۔ اربوں کی جائیدادوں اور کروڑوں کی آمدن والے۔ عہدوں سے چپکنے والے۔ قائمہ کمیٹیوں کی مراعات پر بھوکوں کی طرح گرنے والے۔
یہاں سے ہزاروں اکاونٹس غائب ہوگئے۔ پتہ ہے کیوں چلے گئے؟ کہاں چلے گئے؟ کیا تمہیں پتہ ہے کس اوورسیز اکاونٹ ہولڈر کو کیا دکھا کر اکاونٹ بند کروایا گیا؟ کب آخری دفعہ سہیل آفریدی کا ، گنڈاپور کا ، شفیع جان کا ، سلمان اکرم راجہ کا بھائی بیٹا باپ اغواء ہوا؟ اور ادھر ہم ہیں ، بتا بھی نہیں سکتے کس پر کیا گزری۔
ہم دل بڑا رکھتے ہیں۔ تنقید پر ہنستے ہیں۔ فوکس بڑے مقصد پر رکھتے ہیں۔ ہم آپ سے الجھنا نہیں چاہتے۔ آپ ہم سے مت الجھیے۔ آپ اپنا کام کیجیے۔ ہمیں ہمارا کام کرنے دیجیے۔ آپ کا کرنے کا کام نہیں ہورہا۔ ہمارا کام رک نہیں رہا۔ خاموش ہوجائیے۔ روپوش ہوجائیے۔ آپ مجبور ہیں تو باہر آجائیے نا۔ یہاں آکر آپ بھی ڈالر کمائیے نا۔ نا کیا کیجیے حضور نا کیا کیجیے۔ آج کے لیے بھی اور آئندہ کے لیے بھی اتنا ہی کافی ہے۔ معاف کیجیے بابا معاف کیجیے۔
"اقوامِ متحدہ نے بھی ان کی حمایت میں آواز اٹھائی اور کہا کہ یہ من مانی گرفتاری ہے اور یہ حراست تشدد کے مترادف ہو سکتی ہے۔ " قاسم خان کی کرسٹیان امان پور سے گفتگو
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
ہمارا بھائی قید میں ہے ہمیں ان لڑائی جھگڑوں سے کوئی کام نہیں، وہ ناحق ناجائز قید میں ہے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہمارا فوکس صرف عمران خان پر ہے۔ علیمہ خان
یہ دفاعی معاہدے پاکستانیوں کی نمائندہ حکومت کی بجائے ایک جعلی حکومت نے کیے ہیں۔ یہ جعلی کابینہ اور جعلی پارلیمنٹ تک میں نہیں لائے گئے۔ یہ دفاعی معاہدے ممالک کی بجائے افراد کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں