جس نہرخیام کی بحالی اورتوسیع کے لئے میئرکراچی مرتضی وہاب نے 13جنوری2026 میں500ملین روپے کی لاگت کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا کیا اب بھی یہ منصوبہ برقرار ہے ؟تاہم علاقے کے عوام اور سول سوسائٹی کے افراد نہرخیام پر کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرےکررہے ہیں اور میئر خاموش ہیں
Is Pakistan’s current political system on the verge of collapse?
In an exclusive sit-down, Federal Minister & senior MQM leader Mustafa Kamal speaks out candidly on the country's administrative breakdown.
Administrative restructuring or new provinces? The failure of centralized governance & devolution of power.Why the current status quo can no longer sustain Pakistan's crises. Watch the full Podcast.
@KamalMQM @
https://t.co/ui3MlHEkGx
The Federal Health Minister Mustafa Kamal at his best on lifestyle medicine in the inaugural session of 7th Int Conference on Lifestyle Medicine yesterday, 29 September 2026 in Islamabad.
پیپلز پارٹی جتنی مرضی پریس کانفرنسیں کرلے، ایک بار یہ مناظر بھی دیکھ لے۔
عائشہ منزل سے گراؤنڈ تک سڑکوں پر لوگ، اور گراؤنڈ میں پہلے سے موجود ہزاروں نوجوان۔
کراچی کی نئی نسل اپنے لیے اختیار مانگ رہی ہے، اپنے وسائل پر حق مانگ رہی ہے، اپنے مسائل کا فیصلہ اپنے قریب چاہتی ہے۔
بات صرف کراچی کی بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کراچی سے کشمور تک عام آدمی کو اختیار اور وسائل اس کی دہلیز پر کب ملیں گے؟
نام انتظامی یونٹس رکھیں یا نئے صوبے بحث نام کی نہیں، نظام کی ہے۔
یہ مطالبہ کسی سے سندھ چھیننے کا نہیں، سندھ کے ہر بچے کا مستقبل بہتر بنانے کا ہے۔
اور جو سمجھتے ہیں یہ صرف چند لوگوں کی آواز ہے، وہ یہ ویڈیو دیکھ لیں۔یہ کراچی کے صرف ایک ٹاؤن کے نوجوان ہیں۔
𝐒𝐞𝐞𝐢𝐧𝐠 𝐢𝐬 𝐁𝐞𝐥𝐢𝐞𝐯𝐢𝐧𝐠.
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
6 ہفتے بعد کراچی میں بڑا پاور شو!
یہ پورے کراچی کا نہیں، صرف زمان ٹاؤن UC-01 کا پروگرام تھا—اور انتظامی یونٹس کے لیے جاری عوامی رابطہ مہم میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
اسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے 6 ہفتے بعد کراچی میں بڑے پاور شو کا اعلان کردیا۔
انتظامی یونٹس کی جدوجہد اب اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے—کراچی پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے انتظامی فیصلوں کو عوام کے قریب لانے کی اس جدوجہد کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
@OfficialDGISPR@HamidMirPAK@TalatHussain12@AajKamranKhan@KamalMQM
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#Karachi
کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے دو دن سوشل میڈیا پر قدرے خاموش تھا، لیکن واپس آیا تو ایک معاملے نے مزید پریشان کردیا۔دو دن قبل کراچی میں ہیلتھ ایشیا کے دوران ایک صحافی کے سوال پر مصطفیٰ کمال نے مرتضیٰ وہاب کے مسلسل ’’حساب دو‘‘ کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے کہا تمام صحافی کیمروں کے ساتھ جگہ اور وقت بتائیں، میں اکیلا آؤں گا اور حساب دوں گا لیکن حساب مجھ پر رکے گا نہیں، پھر دوسروں کا بھی ہوگا۔
میں نے اسی وقت مرتضیٰ وہاب کو ٹیگ کرکے پوچھا تھا: بتائیں، حساب کتاب کب کرنا ہے؟
جو ردِعمل سامنے آیا، اس نے مجھے مزید تشویش میں ڈال دیا۔ کراچی والو! دونوں ویڈیوز خود دیکھیں؛ ایک طرف سوال کا جواب اور کھلی پیشکش، دوسری طرف میئر کراچی کا ردِعمل۔ فیصلہ آپ خود کریں۔
اور یہی وجہ ہے کہ انتظامی یونٹس کا قیام اب کراچی کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اختیارات اور اپنے مستقبل کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد پوری قوت سے جاری رکھنی ہوگی۔ ہم ان کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتے۔
#نئے_صوبے_خوشحال_پاکستان
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
@Nadirqureshi Sindhiyou dekh lo kaise logo k hathon me tmhre zindagiyou k masil k faisaly hai khud phaltay pholtay rahengay tmhe sukha sukha kar marengay
کتے کی قبر نہیں دی، صوبہ کیسے دیں گے؟
محترمہ! یہ سندھ ہے، آپ کی آبائی جاگیر نہیں کہ آپ طے کریں گی کس کو کیا “دینا” ہے۔ایک منتخب رکنِ اسمبلی کا سیاسی و آئینی بحث کا جواب اس سطح کی زبان میں دینا صرف سیاسی پستی اور دلیل کے دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔انتظامی یونٹس کا جواب دلیل سے دیں، دھمکی اور تضحیک سے نہیں۔ سندھ کے عوام رعایا نہیں اور آپ سندھ کی مالک نہیں
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#SindhWantsAdminstrativeUnits
@HamidMirPAK@OfficialDGISPR@AajKamranKhan@TalatHussain12
پمز میں آگ لگنے سے بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے۔ لیکن اس افسوس کے ساتھ کچھ تلخ حقائق بھی سمجھنا ضروری ہیں۔
پمز بنیادی طور پر اسلام آباد کے لیے بنایا گیا، جس کی آبادی آج تقریباً 20 لاکھ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پمز صرف اسلام آباد کا بوجھ نہیں اٹھا رہا۔ روزانہ وزیرستان، پشاور، ایبٹ آباد، مری، پوٹھوہار ریجن، میانوالی، اٹک، آزاد کشمیر، حتیٰ کہ افغانستان سے بھی مریض علاج کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔
نتیجہ؟ 250 سے 300 مریضوں کی گنجائش کے لیے بنائے گئے پمز میں روزانہ تقریباً 8 ہزار مریض آ رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ لوگ علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرکے اسلام آباد آنے پر مجبور کیوں ہیں؟
لاہور میں تقریباً 20 سرکاری ہسپتال موجود ہیں۔ وہاں وسائل خرچ ہوتے ہیں تو مریضوں کو اپنے شہر میں علاج میسر آتا ہے۔ یہی نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کی بنیادی منطق ہے۔ اگر وزیرستان، پشاور، ایبٹ آباد، مری، پوٹھوہار، میانوالی اور اٹک سمیت مختلف علاقوں کو ان کی آبادی اور ضروریات کے مطابق وسائل اور مضبوط مقامی نظام ملے، تو ہسپتال بھی وہیں بنیں، سہولیات بھی وہیں پیدا ہوں اور لوگوں کو علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور نہ جانا پڑے۔
آج جو لوگ پمز کے سانحے پر سیاست کر رہے ہیں، انہی میں وہ قوتیں بھی شامل ہیں جو پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات و وسائل کی مؤثر تقسیم کی سب سے بڑی مخالف ہیں۔
مصطفیٰ کمال واقعے کے فوراً بعد پمز پہنچے، خود صورتحال کا جائزہ لیا اور کسی بہانے کے بغیر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق آگ لگنے سے مدد طلب کیے جانے تک معاملہ منٹوں میں سامنے آیا۔
اور تنقید کون کر رہا ہے؟وہ لوگ جن کی حکمرانی میں کراچی کے گل پلازہ کی آگ پر کئی دن تک مکمل قابو نہ پایا جاسکا اور جن کے وزیراعلیٰ 24 گھنٹے بعد بھی جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکے۔
اس لیے پمز کے سانحے کو سیاسی پروپیگنڈے میں دفن کرنے کے بجائے اصل سوال پوچھیں پاکستان کے شہریوں کو علاج، وسائل اور بنیادی سہولیات اپنے علاقوں میں کب ملیں گی؟
یہی وجہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ صرف سیاست نہیں، گورننس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک ریاستی سہولیات پہنچانے کا سوال ہے۔
#PIMS
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال میں گنجائش صرف 30 بچوں کی، مگر داخل تقریباً 184 بچے ہیں۔ چاہے کراچی کے ولیکا ہسپتال میں 100 سے زائد بچوں کے HIV سے متاثر ہونے کا معاملہ ہو-
پاکستانیوں کو یہی سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کسی ایک ہسپتال کا نہیں، فرسودہ اور حد سے زیادہ مرکزیت کا شکار نظام ہے۔ 26 کروڑ کے ملک میں ہسپتال، تعلیم، پانی اور سیوریج جیسے مقامی مسائل کے لیے بھی صوبائی دارالحکومت اور وزیراعلیٰ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے، جبکہ ایک ایک سرکاری ہسپتال پورے خطے کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
آج مصطفیٰ کمال پر تنقید کرنے والوں میں وہی آوازیں سب سے آگے ہیں جو پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی مخالفت کرتی ہیں، جبکہ مصطفیٰ کمال خود موقع پر موجود رہے، صورتحال کا جائزہ لیا اور سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔
اختیارات اور وسائل عوام کے قریب لانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس اب ناگزیر ہیں۔
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#PIMS
پمز کے افسوسناک واقعے میں بچوں کی ہلاکت انتہائی دلخراش ہے۔ اس سانحے کی سنگینی کا اندازہ وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کے طرزِ عمل سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بروقت پمز پہنچے اور کسی دوسرے پر الزام عائد کرنے سے پہلے خود ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ تحقیقات ہوں گی، احتساب مجھ سے شروع ہوگا اور ذمہ دار ثابت ہونے والے کسی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔
اس کے باوجود پورے پاکستان سے مصطفیٰ کمال کے خلاف اچانک شروع ہونے والی منظم مہم نے باشعور عوام کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ جب مصطفیٰ کمال خود احتساب، تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی بات کرچکے ہیں تو پھر اسی مطالبے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف سیاسی مہم کیوں؟
اس شور کو پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہی وہ قوتیں ہیں جو اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔
سندھ کو وفاق سے ملنے والے ہزاروں ارب روپے کے باوجود رتوڈیرو/لاڑکانہ میں HIV کا ایسا بحران سامنے آیا جس میں بڑی تعداد میں بچے متاثر ہوئے۔ کراچی کے ولیکا ہسپتال میں بچوں کے HIV سے متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔ گل پلازہ جیسے سانحات ہوں، سرکاری ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات ہوں، عمارتیں گرنے کے حادثات ہوں یا فیکٹریوں اور تجارتی مراکز میں آگ—ہر سانحے کے بعد بنیادی سوال وہی رہتا ہے: رپورٹ کہاں ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ احتساب کس کا ہوا؟
گل بہار، ناظم آباد اور لیاری میں عمارتیں گریں، آر جے مال، ملینیم مال، لانڈھی، نیو کراچی اور دیگر علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات ہوئے؛ مگر عوام بار بار اسی سوال کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں کہ ادارہ کون سا ذمہ دار تھا اور جواب کس سے لیا گیا؟
یہی وہ نظام ہے جس کے خلاف مصطفیٰ کمال سب سے مضبوط آواز اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان اب حد سے زیادہ مرکزیت کے حامل طرزِ حکمرانی کے تحت نہیں چل سکتا۔ تقریباً چھ کروڑ آبادی والے سندھ کے انتظام، وسائل اور بنیادی فیصلوں کا مرکز ایک وزیراعلیٰ اور صوبائی دارالحکومت نہیں ہوسکتا۔
اصل لڑائی کسی ایک واقعے یا کسی ایک شخص کی نہیں، اس نظام کی ہے جو اختیار تو مرکز میں رکھتا ہے مگر ناکامی کی ذمہ داری کا تعین نہیں ہونے دیتا۔
پاکستان کے باشعور عوام اب سمجھتے ہیں کہ مصطفیٰ کمال کس تبدیلی کی بات کررہے ہیں اور اس آواز کی مخالفت کیوں ہورہی ہے۔
اب اختیارات بھی نیچے جائیں گے، وسائل بھی عوام تک پہنچیں گے اور نئے انتظامی یونٹس بھی بن کر رہیں گے۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#JusticeWillBeServed
#Mkleadingfromthefront
صبح سے جمہوریت کے نام پر اقربا پرستی کے علمبردار ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ’’وفاق سے اسلام آباد نہیں چل رہا تو نئے انتظامی یونٹس کی کیا بات کرتے ہو؟‘‘
کمال ہے! ہم بات ہی اسی فرسودہ اور حد سے زیادہ مرکزیت کے شکار نظام کو بدلنے کی کر رہے ہیں۔
جب شاہزیب خانزادہ نے یہی سوال مصطفیٰ کمال سے کیا تو ان کا جواب خود سنیے۔
اور ایک بات اعلانیہ سن لیں اب نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#JusticeWillBeServed
#MKLeadingFromtheFront
18 سال میں وفاق سے 22 ہزار ارب روپے لینے کے باوجود سندھ کے عوام بنیادی سہولیات اور بدانتظامی کا حساب مانگیں تو انہیں جواب دینے کے بجائے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اور جب مصطفیٰ کمال اسی فرسودہ نظام کو بدلنے، اختیارات و وسائل عوام تک پہنچانے اور پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کریں تو انہی سے استعفیٰ مانگا جاتا ہے۔
ایک بات سن لیں: اب نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔
@sherryrehman@SyedaShehlaRaza
#انتظامی_یونٹس_بنکر_رہیگا
وفاق سے 22 ہزار ارب روپے لے کر سندھ کے عوام کا یہ حال کرنے والے مصطفیٰ کمال سے استعفیٰ مانگتے ہیں؟
بالکل! احتساب ہونا چاہیے، مگر شروعات وزیراعلیٰ سندھ اور پوری صوبائی کابینہ سے کریں۔
اور بات واضح رہے: نئے انتظامی یونٹس اب بن کر رہیں گے۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
ایک مشکوک بات نوٹس کی؟، اہلِ عقل سے سوال ہے۔
مصطفیٰ کمال وفاقی وزیرِ قومی صحت ہیں، پمز کی ہائیرارکی کا پورا نظام موجود ہے، پھر بھی اِدھر اُدھر کی بات کیے بغیر انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا اور وہاں آنے سے پہلے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ بھی پیش کر دیا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ کسی کو نہیں بخشا جائے گا، جو بھی ملوث ہوگا۔لیکن پھر پورے پاکستان میں مخصوص ذہنیت کی جماعتیں، بالخصوص وفاق سے 22 ہزار ارب روپے لے کر ہڑپ کر جانے والی پیپلز پارٹی ہو، لندن میں موجود الطاف حسین اور را کے ایجنٹس کے سوشل میڈیا ہینڈلز ہوں، پی ٹی آئی کے حواری ہوں، جماعت المنافقین کے منافق ہوں یا سندھ کے نسل پرست، سب ایک ساتھ مصطفیٰ کمال کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔تو یہ واضح دلیل ہے کہ مصطفیٰ کمال نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی جو تحریک چلا رہے ہیں، وہ 100 فیصد عوامی مفاد میں ہے۔اور ایک بات، سندھ اور پاکستان کے باشعور عوام، بالخصوص کراچی کے نوجوان، مصطفیٰ کمال کے ساتھ اس تحریک میں شانہ بشانہ موجود ہیں۔ جس طرح کراچی کے نوجوانوں نے ان سب کی حرام کی دکان پر چلنے والی مہم کا سوشل میڈیا پر پردہ چاک کیا ہے، یہ واضح کر دیتا ہے کہ:👇👇
انتظامی یونٹس تو بن کر رہیں گے۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا #Pims
18 سال میں 22 ہزار ارب روپے کہاں لگائے؟ ویڈیو میں خود دیکھ لیں۔
استعفیٰ مانگنا ہے تو آصف علی زرداری استعفیٰ دیں، وزیراعلیٰ سندھ بھی استعفیٰ دیں اور 18 سالہ حکمرانی کا حساب دیں۔
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا#PIMS