“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔
سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔
میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔
2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟
کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔
سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” -
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
“The circumstances in Khyber Pakhtunkhwa necessitated a change in the Chief Minister, a step fully in line with the constitutional process followed in other provinces as well. This process must be allowed to proceed without interference, ensuring its timely completion. Any attempt to interfere in this process will be met with a vigorous public protest.
Sohail Afridi was chosen because of his long-standing affiliation, dating back to his student days with ISF, and the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf. This decision also reinforces the narrative of involving grassroots workers in decision-making instead of relying solely on electables.
Attempts by certain quarters to link the change in Khyber Pakhtunkhwa’s Chief Minister to my family are completely unfounded. The decision is purely political and no member of my family in any way influenced it. No family member has any connection to my political decisions.
Ali Amin is among my old and loyal associates, but he is embroiled in disputes. These disputes from Asim Munir’s policy of confronting terrorism through empty displays of force rather than a comprehensive political strategy. The year 2025 marks the worst period in Pakistan’s history in terms of terrorist incidents, and Khyber Pakhtunkhwa can no longer withstand the crisis. I hope the new Chief Minister and his team will work with public representatives to adopt a comprehensive policy aimed at eliminating terrorism and establishing lasting peace.
For the past two decades I have consistently outlined a clear strategy to combat terrorism. Because of that strategy, terrorism was largely brought under control during Pakistan Tehreek-e-Insaf’s three-and-a-half-year government. At that time, PTI even negotiated with the then anti-Pakistan and India-aligned Ashraf Ghani government, and issues involving tribal communities and Afghan refugees were resolved through understanding.
In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure. Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. If these accusations hold any truth, the nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how.
At times, it is alleged that the Afghan government is responsible for terrorism in Pakistan because militants based in Afghanistan carry out operations here; at other times it is claimed that decades-long settlement of Afghan migrants in Pakistan is responsible. Both claims are unfounded, for even after the disgraceful expulsion of millions of Afghan refugees, terrorism has only intensified. Such contradictions leave no doubt about the ill intentions behind the Asim Munir-imposed system and its hostility toward the people.
My position on confronting terrorism has always been unequivocal. History has proven time and again that when force replaces political foresight and strategy, failure is the only outcome. Collateral damage resulting from military operations often forces the public, in revenge, to take up arms, perpetuating a cycle that grows progressively worse.
Politically motivated reprisals have produced a stream of baseless cases against me, repeatedly refiled. Cases large and small, including Tosha Khana, Al-Qadir, cipher, iddat, and again Tosha Khana, have been brought against me and my wife, Bushra Bibi, solely to coerce me into abandoning my commitment to true freedom. I want to send my nation this message once more: no matter what they do, I will not bow before them, nor will I allow my nation to bow.”
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 9th, 2025
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
معافی وہ مانگے جس نے 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا
معافی وہ مانگے جس نے 9 مئی کروایا اور CCTV فوٹیج چرائی
معافی وہ مانگے جس نے 24 نومبر کو نہتے لوگوں پر گولیاں چلائیں
معافی وہ مانگے جس نے رجیم چینج آپریشن کروایا
معافی وہ مانگے جس نے سابق وزیراعظم عمران خان کو کالر سے پکڑ کر اغوا کیا
معافی وہ مانگے جس نے چادر اور چار دواری کا تقدس پامال کیا
معافی مظلوم نہیں ظالم مانگتا ہے۔۔۔
#معافی_آپ_مانگیں
"پنجاب پولیس کا یہ ظلم انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اطلاعات کے مطابق باپ اور بیٹے کو گرفتار کر کے اس حد تک تذلیل کی گئی کہ ایک دوسرے کے ساتھ زبردستی جنسی عمل پر مجبور کیا گیا، حتیٰ کہ ایک دوسرے کے منہ میں نفس ڈلوایا گیا۔ مریم نواز صاحبہ، اقتدار کی عیش و عشرت عارضی ہے لیکن یہ ظلم جو آپ کی آنکھوں کے نیچے ہو رہا ہے، اس کا حساب آپ کو قوم اور تاریخ کے سامنے دینا ہوگا۔"
@MohsinnaqviC42
”ظلم و جبر کے بدترین دور میں 5 اگست کی کال پر پاکستانی قوم کا بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کروانا ناصرف قابل تعریف ہے بلکہ ملک پر چھائی ظلم کی اندھیری رات میں طلوع سحر کی نوید ہے۔ عوام نے جیسے تمام تر فسطائیت کے باوجود کل سڑکوں پر نکل کر اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا وہ قابل تحسین ہے۔
میں بالخصوص پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود خوف کے سب بتوں کو توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی عوام جس تعداد میں 5 اگست کو ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ لیڈر شپ پر پریشر کے باوجود بھرپور ملک گیر احتجاج عوامی شعور و بیداری کا شاندار مظہر ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ڈکٹیٹر کے مارشل لأ دور میں اس قدر ظلم نہیں ہوا جتنا “عاصم لأ” میں عاصم منیر کر رہا ہے۔ موجودہ دور کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے جب عوامی رائے کو روندنے کی غرض سے مجیب الرحمٰن کی پارٹی اور عوام پر فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے اور محض اپنے اقتدار کے لیے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر قانون کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی آزادی اور احتجاج کا حق چھین لیا گیا تھا اور ملک میں صرف جنگل کا قانون نافذ تھا۔ اس جبر کے نظام سے نجات صرف تب ممکن ہے جب یہ قوم یکجا ہو کر کھڑی ہو گی۔
ہماری تحریک کا اگلا اہم دن 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دے کر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن قوم آج تک “حقیقی آزادی” سے محروم ہے۔ اس ملک میں جب تک آئین و قانون کی بحالی نہیں ہو گی آزادی نہیں ملے گی۔ 14 اگست کو وطن عزیز میں جاری فسطائیت کے خلاف پوری قوم ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں نکلے۔
ہمیں اس مافیا سے آزادی لینا ہو گی۔ اور آزادی لینا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم قربانی دینے کو تیار ہوتی ہے۔ میں خود اپنی قوم کی خاطر جیل میں بدترین حالات کاٹ رہا ہوں۔ یہاں موجود قیدی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا سلوک تو کسی عام قیدی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مجھے توڑنے کی ناکام کوشش میں میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، مگر میں پھر بھی آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قربانی دینا ہو گی۔
میں اس “ڈاکو، ڈفر الائنس” کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا اور عاصم لاء کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے ساری زندگی بھی جیل میں رہنا پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں!!
یاد رکھیں کہ بہادر قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تمام پاکستانی جیل جانے کا خوف اپنے دل سے نکال دیں۔ میرا تحریک انصاف کے ذمہ داران کو بھی خصوصی پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے جیل کا ڈر نکال کر لوگوں کی قیادت کریں، اور جمہور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قیادت فراہم کریں۔
خیبرپختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے-ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔ صرف افغانستان سے ردعمل کی امید میں افغان مہاجرین کو جس بے دردی سے بے دخل کیا گیا، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو اپنے ہی لوگوں پر بندوق اٹھا کر حالات خراب کرنے کی افسوسناک کوشش جاری ہے۔
ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہوں کہ جن ممبران اسمبلی کو نا حق نااہل کیا گیا ہے ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ان لوگوں نے تمام مشکلات کے باوجود تحریک انصاف پر یقین کیا اور پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا لہٰذا یہ سیٹیں انہی کا حق ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب ہو گا کہ ہم ان کے ناجائز عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہمارے لوگوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا-
آئین و قانون کی بحالی کے لیے کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، قومی ڈائیلاگ کے آغاز اور اہم قومی مسائل کے حل پر متفقہ تجاویز پیش کرنے پر تمام شرکأ اور آرگنائزز خصوصاً “تحریک تحفظ آئین” کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ، وکلأ اور میڈیا سے گفتگو۔ (۶ اگست، ۲۰۲۵)
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail - August 2, 2025
“Every Pakistani must join the movement for genuine freedom against the system of oppression imposed on our country so that we may genuinely achieve freedom as a nation. If we stand united and resist, this system of darkness will inevitably collapse.
The movement that begins on August 5th will continue until democracy is restored in its true spirit. People are no longer afraid. The shackles of fear have been broken. Just as 14th August 1947, marked our freedom from colonial rule, now August 14th has become significant once again as we confront a situation worse than that earlier slavery. Today, all institutions have been crippled and fundamental rights suspended. Just as our forefathers fought the British and secured freedom, we too must rise against this corrupt regime and reject this modern-day slavery.
PPP and PML-N are playing the same puppet role for Asim Munir that PML-Q once played for Musharraf. These parties are not political movements, they are a political front for the establishment. Under this cover, their corruption and looting continue unchecked.
It took 77 years to slowly build a few functional institutions in Pakistan despite repeated martial laws that hindered their progress. But Asim Munir’s martial law has systematically dismantled these institutions just to extend his grip on power. First, the people's mandate was stolen through electoral fraud and criminals were imposed upon the nation, ending democracy. Then the media was silenced under brutal censorship. Now, through the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has been reduced to a subservient department. Judges are handed pre-written verdicts. They themselves admit they have no real authority; they simply sign what they’re given. The judiciary today stands completely paralyzed. Kangaroo courts are operating, ripping the law to shreds. Justice cannot be expected from these courts. They do not follow the Constitution, but ‘Asim Law’. All trials and sentences now follow his script. The proceedings are on record, and sooner or later, the truth will be revealed; which judges stood for justice, and which bowed down to the Yazid of our times.
Through courts in Rawalpindi, Lahore, Sargodha, and Faisalabad, false convictions are being handed out to our party leaders, assembly members, and workers in another failed attempt to derail our movement. I salute the leadership and workers of our party who are being punished simply for standing on the side of the truth.
Sikandar Sultan Raja disqualified our assembly members without even waiting for their appeals to be heard in the High Courts. When history is written, his name will be recorded in the darkest of terms. He played a central role in fraudulently turning a party with 17 seats into a two-thirds majority within a year and a half. The system of this country has been handed over to those who have stolen both the people's vote and their wealth. Those who stood for the Constitution and democracy have been thrown in jail so that no one dares to speak of democracy again.
We will not field any candidates in the by-elections for the seats of our unjustly disqualified members. These individuals stood firm with PTI despite extreme challenges. Therefore, the party will completely boycott these by-elections.
I send a clear message to Ali Amin (Gandapur): Under no circumstances should another military operation be allowed in Khyber Pakhtunkhwa, including the tribal areas. When the military and the people confront each other, the military as an institution suffers the most damage. Military operations are never the solution. Issues must be resolved through dialogue, in accordance with local traditions. Afghanistan is our Muslim neighbor. Relations with them must improve, and all matters should be resolved through discussion.”
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
خواجہ آصف نے ایران کی حمایت میں بیان دیا ہے ، شاید وہ بھی امریکہ بہادر سے پوچھ کر ۔ ہمت ہے تو آج سے ایرانی پٹرول خریدنے کا اعلان کر دیں ۔ لگ پتہ جائے گا کون کتنا مخلص ہے