پُوچھ اُس شخص سے جس کو تُو مُیسر ہی نہیں
آنکھ بھر کے تُجھے تکنے کی سہُولت کیا ہے
یاد کرنا تُجھے خُود ہی کئی پہروں, لیکن
خُود ہی پھر سوچتے رہنا کہ یہ عادت کیا ہیں
یُوں تو ہر چیز مُیسر ہے ضرُوری, لیکن
اِک سِوا تیرے, کسی شَے کی ضرُورت کیا ہے
اَب کے تصویر بناتے ہوئے یہ دھیان رہے
کسی ُصورت کے نکل آنے کا امکان رہے
تجھ سے درکار مُحبت ہے محبت کے عوض
میں نہیں چاہتا تجھ پر کوئی احسان رہے
اظہر فراغ
تیرے وعدے کی حقیقت تو عیاں ہے لیکن
آہ وہ لوگ جو مجبورِ یقیں ہوتے ہیں
کیوں نہ اک جھوٹی تسلی پہ قناعت کرلیں
لوگ کہتے ہیں عَدم خواب حسِیں ہوتے ہیں
عبدالحمید عدم
زندگی، پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
میرے ذمّے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
تیرے بِیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
توڑ سکتا ہے مِرا دِل یہ زمانہ، کیسے
میرے سِینے میں دھڑکتا ہے تِرا نام ابھی
(عدیم ہاشمی)