اگر لوگ تمہارے بارے میں وہ باتیں بنائیں جو تمہارے اندر نہیں ہیں
اگر وہ تمہاری نیت پر شک کریں
اگر وہ تمہارے تعلق سے بدگمانی سے کام لیں
اگر وہ تمہارا مذاق بنائیں
تو یہ سب کچھ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، جب تک اللہ کو معلوم ہے کہ تمہارے دل میں کیا ہے !
ادھم شرقاوی
طویل جدوجہد ایک خوبصورت لفظ ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے طویل جدوجہد کی، وہ آخرکار خوشحال ہوئیں اور بہتر مستقبل کی طرف بڑھیں۔
مگر اصول واضح ہے: جدوجہد طویل ہوسکتی ہے، غلامی نہیں۔ کبھی کبھی اردگرد کے حالات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہم بامعنی طویل جدوجہد کے بجائے محض طویل غلامی کے سال گزار رہے ہیں۔ میں انکار نہیں کرتی ان افراد کی جدوجہد سے جو برسوں سے مسلسل لڑ رہے ہیں، مگر میں انکار کرتی ہوں ان لوگوں کی بے حسی سے جن کے پاس تعلیم تو ہے مگر شعور نہیں، جو جانتے ہیں کہ وہ غلام ہیں، جانتے ہیں کہ لوگ غائب کیے جا رہے ہیں، مگر پھر بھی سوچنے اور عمل کرنے سے انکاری ہیں، اور اپنی بے حسی میں مطمئن ہیں۔
ایسے لوگ طویل جدوجہد کا حصہ نہیں ہوتے، وہ طویل غلامی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ غلامی کے دور میں اگر گزرتا وقت فکر اور عمل کے لیے وقف نہ ہو تو وہ سال محض زنگ آلود ہونے کا مطلب رکھتا ہے۔ ایک طویل جدوجہد کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید پختہ ہوں، اپنے مسائل کو بہتر طور پر سمجھیں، اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ذہنی، فکری اور عملی طور پر تیار کریں
سال 2025: بلوچستان کے لیے ایک اور خونی سال
سال دو ہزار پچیس بھی بلوچستان کی تاریخ میں ایک انتہائی پُرتشدد اور خونی سال کے طور پر گزرا۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شاید گزشتہ تین دہائیوں میں بلوچستان کے لیے کوئی سال بھی حقیقی معنوں میں پُرامن نہیں رہا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
ایک جانب پاکستانی فوج اور ریاستی ادارے بلوچستان میں اپنی جارحانہ پالیسیوں پر بدستور کاربند ہیں۔ وسائل کی بے دریغ لوٹ مار، جبری گمشدگیاں، اغواء برائے تاوان، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ ریاست نے بلوچستان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب بلوچ مزاحمتی جدوجہد نہ صرف جاری ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم، پختہ اور مؤثر شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں جاری اس شورش کو پاکستانی فوج کبھی محض “چند شدت پسندوں” تک محدود قرار دے کر ختم کرنے کے دعوے کرتی رہی ہے اور کبھی پندرہ سو افراد کے ایک مبینہ لشکر کا ذکر کر کے اپنی فتح کے ڈرامائی بیانات دیتی نظر آتی ہے۔ مگر اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر جائزہ کیا جائے تو سال 2025 میں پاکستانی ریاستی فورسز اور ان کے منصوبوں پر انتہائی مہلک حملے کیے گئے۔
متعدد شاہراؤں پر ناکہ بندیاں کی گئیں، اسنیپ چیکنگ کے ذریعے گھنٹوں تک سرمچاروں کا بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر کنٹرول رہا۔ مختلف شہروں اور قصبوں میں سرمچاروں نے وقتی قبضہ قائم کر کے نہ صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ ریاستی فورسز کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا۔ یہ تمام واقعات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں مزاحمت دم توڑ چکی ہے۔
بلوچستان کی موجودہ ابتر صورتحال میں بہتری کا راستہ بلوچ قوم کی مکمل آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستانی ریاست کا بلوچستان پر مسلسل قبضہ آج حالات کو اس نہج پر لے آیا ہے جہاں بلوچ نوجوان ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قومی مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے قبل ایک لمحے کے لیے بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوتے۔
اسی امید اور عزم کے ساتھ بلوچ قوم نئے سال میں قدم رکھتی ہے کہ آنے والا برس ہماری سرزمین اور اس کے باسیوں کے لیے امن، آزادی اور خوشحالی کا پیامبر ثابت ہوگا۔
دستار بندی: چیف آف بگٹی قبائل
بلوچ قومی مسئلے کی بنیاد کو سرداروں اور قبائلی نظام سے جوڑنے والے پنجابی منافق حکمرانوں کو جب گھوڑوں کی ریس میں اپنے گدھے، سرفراز بگٹی، کو دوڑانے کا موقع ہاتھ آیا تو انہوں نے جھٹ سے اسے بگٹی قبیلے کا چیف نامزد کرانے کے لیے ان تمام لے پالک وڈیروں کو یکجا کیا جو ہمیشہ سے بلوچ قومی تحریک اور بلوچ جدوجہد کے برخلاف دشمن کی صفوں میں موجود رہے ہیں۔
سرداری نظام اگرچہ اجتماعی حوالے سے ایک کمزور اور نقصان دہ تجربہ ثابت ہوا ہے، اس کے باوجود یہ طریقہ بلوچ سماج میں موجود رہا ہے۔ سندیمنی سرداری نظام سے پہلے بھی والیِ بلوچستان، خانِ قلات کے دربار میں سردار ہی اپنے قبائل کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔ البتہ اس نظام کو بہتر نہیں بنایا جا سکا اور نہ ہی اس میں کوئی جدت لائی گئی۔ پھر سندیمنی نظامِ سرداری اور بعد ازاں طاقت کی رسہ کشی نے بلوچ سماج میں سرداروں کو طاقتور طبقات کے ہاتھوں ایک آلہ بنا دیا، جو انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے۔
انگریز سرکار سے لے کر پنجابی جرنیلوں تک، سرداروں کو چھوٹے چھوٹے مراعات دے کر اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا اور انہیں اپنے ہی قبیلے اور بلوچ قومی مفادات کے برخلاف لا کھڑا کیا گیا۔ اگر کسی سردار نے کبھی آواز اٹھائی یا مزاحمت کی تو اسے غدار اور ملک دشمن قرار دے کر کبھی زندانوں میں ڈالا گیا اور کبھی وطن بدر کر دیا گیا۔
سرکار ظاہری طور پر سرداری نظام کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈا کر کے اسے بلوچستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی، جبکہ دوسری جانب انہی سرداروں کو مزید طاقتور بناتی رہی جنہوں نے اپنی قومی امنگوں کے برخلاف سرکار کے ہاتھ مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔
چلیے، ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ سرداری نظام ہی بلوچستان کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے اور اسی سبب بلوچستان میں پینے کا پانی نہیں، ہسپتال نہیں، سڑکیں نہیں، اسکول نہیں، کالج نہیں اور یونیورسٹیاں نہیں۔ حتیٰ کہ بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس بھی یہاں کے باسیوں کو میسر نہیں، اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت تک حاصل نہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ آج خود سرکار کیوں اپنے چنندہ شخص کو بگٹی قبیلے کا چیف بنا کر پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے؟
سرفراز بگٹی اور اس کے سرپرست اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ محض دستار بندی سے کوئی سردار بن جاتا ہے۔ سرداری درحقیقت احساسِ ذمہ داری کا نام ہے، احساسِ برتری کا نہیں۔ یہ قومی امنگوں اور اجتماعی درد کی پہچان اور اس کے مداوے کا نام ہے۔ سرداری اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا نام ہے۔ دشمن کے سامنے پیرانہ سالی میں بھی ڈٹ کر کھڑے رہنا، اور نواب اکبر خان بگٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شہادت کو قبول کرنا، ہی اصل سرداری کی پہچان ہے۔
سرداری نواب نوروز خان کے کردار کا نام ہے، جو دشمن کے مقابل دیوانہ وار جدوجہد کرتے ہیں تاکہ قومی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ قومی امنگوں کی خاطر نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں بلکہ اپنے لختِ جگر اور ساتھیوں کی پھانسی کے باوجود بھی سودابازی سے انکار کرتے ہیں۔
سرداری نواب خیر بخش مری کے اس اصولی موقف کا نام ہے جو آج بھی بلوچ قومی امنگوں کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ وہ سوچ جو کسی طاقت کے سامنے جھکنے اور قومی وسائل کا سودا کرنے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ یہی سوچ آج بلوچستان کے پہاڑوں، سڑکوں اور دنیا بھر میں بسنے والے بلوچوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔
سرداری دراصل سردار عطا اللہ مینگل کی قیادت کا نام ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قومی جدوجہد کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے سرکاری مراعات اور ذاتی مفادات پر قومی امنگوں کو ترجیح دی اور خود کو تاریخ کے اوراق میں امر کر دیا۔
سرفراز بگٹی جس سرداری یا سربراہی کا دعویٰ کر رہا ہے، وہ اسے صرف اسی وقت تک حاصل ہے جب تک پاکستانی فوج کی سرپرستی حاصل ہے۔ سرفراز بگٹی جیسے خود ساختہ سربراہان اور نمائندے درحقیقت کٹھ پتلیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ انہیں جب چاہا جاتا ہے بٹھا دیا جاتا ہے اور جب چاہا جاتا ہے فارغ کر دیا جاتا ہے۔
حقیقی سرداری، سربراہی یا قیادت کا معیار کسی جرنیل کی خواہش نہیں بلکہ عمل، کردار اور اصولی موقف ہی طے کرتے ہیں۔
Mahikan Baloch daughter of Hani Baloch, whose mother was forcibly disappeared by Pakistani forces. Appeals for her release.
"Pakistani forces Dragged my mother & took her with them, She is pregnant, we kept crying and asking for mercy to them, but they didn't hear to our cries"
For decades, Baloch youth have been abducted and forcibly disappeared. This systematic repression has now crossed a dangerous line by extending to Baloch women.
#Savebalochwomans#EndEnforcedDisappearances
https://t.co/Wg9uChhw7S
اس وقت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز شامل ہیں۔ ان افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین نے کرکی تیجابان کے مقام پر سی پیک روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر رہے ہیں۔
جبری گمشدگیاں اس وقت ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں اب اس جبر کا نشانہ خواتین اور لڑکیاں بھی بن رہی ہیں۔ حانی دلواش اور خیرنساء کو تین روز قبل حب چوکی کے علاقے سے جبری طور پر اٹھایا گیا، اور اس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کی عدم بازیابی نے نہ صرف خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بلوچستان میں خواتین بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔
آئین اور قانون کو بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، بلوچستان کے لوگ کریں تو کیا کریں، ان متاثرہ خاندان کے لئے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے گزارش ہیکہ اس خاندان کے ساتھ کھڑے ہوکر انکے لئے آواز اٹھائیں۔
#SaveBalochWomen
سال دو ہزار پچیس میں بلوچستان سے چھ بلوچ خواتین کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا۔ ان خواتین کی جبری گمشدگیاں پاکستانی ریاست کی بلوچستان میں اجتماعی سزا اور نسل کشی کی پالیسی کو عیاں کرتی ہیں۔ خواتین کو اغواء کرنے کا مقصد بلوچ خواتین میں خوف پیدا کرنا ہے۔ انہیں اپنے حقوق اور پیاروں کی بازیابی کی خاطر آواز اٹھانے سے دلبرداشتہ کرنے کی ایک ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
ریاست، جو بلوچ خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر یہ جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ان خواتین کا تعلق بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں سے تھا، آج تک کسی بھی کیس میں کوئی ثبوت کیوں پیش نہیں کر سکی۔
بلوچ مسلح تنظیموں کے پے در پے مہلک اور شدید حملوں نے پاکستانی فوج، سیکیورٹی ایجنسیز اور کٹھ پتلی بلوچستان حکومت کو اس قدر حواس باختہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں چھپانے کی خاطر بلوچ خواتین کو اغواء کر کے یہ پیغام دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ انہوں نے بلوچستان میں امن قائم کر دیا ہے اور بلوچستان میں جاری شورش کو روک دیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ریاستی جبر اور بربریت سے لوگوں میں مزید نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، اور نوجوانوں کی کثیر تعداد اس ظلم و بربریت کا مقابلہ کرنے کی خاطر ریاست کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
#SaveBalochWomen
#EnforcedDisappearances
Baloch women have chosen the path of resistance. Enforced disappearances cannot silence their voices, nor can their courage be locked behind bars. No one can suppress the cry for justice that rises from the hearts of Baloch women. They continue to fight, speak, and demand their rightful place with unwavering strength and resilience.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
You can bind my hands.
You can blind my eyes.
You can silence my voice.
You can even seal my lips,
but you cannot change my beliefs.
The prisons and walls you have built
may confine a body,
but they can never imprison a voice.
And the image you try to erase
still lives on
as a symbol of resistance.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances