Basically these guys are raised in an environment where respect for women is not even norm, they treat women like a commodity and look down upon them.. shameless fellow…
ایک طرف ہندوستانی تہذیب سے متاثرہ جہیز کا بے جا مطالبہ اور دوسری طرف قبائلی تعصب کے تحت ولور (لڑکی کا ریٹ) مقرر کرنا یا وراثت سے محروم رکھنا، یہ دونوں ہی جاہلانہ رسومات اور خواتین کے شرعی و انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہیں جن کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض قبائل ایک طرف بیٹیوں کو جائداد اور وراثت میں ان کا حق نہیں دیتے اور دوسری طرف ان کی شادی کے نقد ریٹ طے کر کے کھلم کھلا اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہیں
سوال یہ نہیں کہ کوئی مجھ سے مدد مانگ رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ظلم اور جہالت پر خاموش رہنا قبائلی غیرت ہے؟
ولور کے نام پر بیٹیوں کی بولی لگانا، انہیں نقد رقم کے عوض بیچنا، تعلیم سے محروم کرنا اور خدا کے دیے گئے شرعی حقِ وراثت سے محروم کر دینا کیا یہ قبائلی شجاعت ہے یا کھلی جہالت؟ اسلام اور انسانیت اس قبیح اور شرمناک رسم کی ہرگز اجازت نہیں دیتے!
اپنے ہی گھر کی بیٹیوں کے معاشی استحصال کو قومیت اور تعصب کا کارڈ کھیل کر چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ جب غلط کو غلط کہنا اور مظلوم عورت کے حق میں آواز اٹھانا آپ کو پنجابی تعصب نظر آنے لگے، تو سمجھ جائیں کہ آپ کے پاس اپنے ہی زوال اور مظالم کا کوئی اخلاقی و دینی دفاع باقی نہیں رہا۔ اصلاح کی بات پر اعتراض کرنے کے بجائے ذرا گریبان میں جھانکیں کہ اسلام کی بات کرنے والی قوم آخر کس سمت جا رہی ہے۔
پشاور میں ریپ کرنے والوں نے پولیس کو بتایا کہ چونکہ عورت کسی دفتر میں کام کرتیبگھی تو ہمیں لگا وہ Loose Character ہے، اور یہ خیجبر ہختونخواہ کے دارلحکومت کا حال ہے، ایسے معاشرے کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے؟
دھشت گردی کی اصل وجہ قبائلی جہالت خصوصاْ عورتوں کی قبائلی معاشرے میں انتہای ناگفتہ بہ حالت ہے، جب تک عورتوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا اس معاشرے میں بہتری آنا ناممکن ہے!!
ان قبائلی جاھلوں کی ساری غیرت عورتوں کو بکریاں بنا کر رکھنے تک ہے، آزاد اور خودمختار عورت ان کے نزدیک بے غیرتی ہے، اسی لئے پختونخواہ عمومی طور پر دھشت گردی اور قبائلی جنگوں کا شکار ہے جہاں خودساختہ مذھبی تشریحات کے ذریعے معاشرہ یرغمال ہے، پختون عورتوں کو اپنے حقوق کیلئے ان جاھلوں سے لڑنا پڑے گا تب ہی ان کی بچیاں وہ حقوق حاصل کر سکیں گی جو انسانوں کے بنیادی حقوق ہیں!
I just asked Grok to calculate round trip cost of Gulf Stream G 500, as per Grok it should cost around 250,000 USD, this means around 6 Crore Pak Rs, can you please provide receipts of travel and proof of funds for this luxurious trip of CM Sahiba?
ان لوگوں کی شکلیں اور کرتوت دیکھیں تو احساس ہو گا کہ ان کا کوئ اور علاج نہیں سوائے طاقت کے استعمال کے تہذیب سے ناآشنآیہ لوگ اس دنیا اور سماج کیلئے شدید خطرہ ہیں اور ہماری معاشرت کیلئے سنگین تباہی ہیں ان کے خلاف جہاد ہم سب کی ذمہ دادی ہے ہر حالت مین ان کو شکست دینی ہو گی
دہشت گردوں نے ایک پختون جوان ایف سی اہلکار عمر گل کو اغوا کے بعد بے دردی سے شہید کر دیا۔ عمر گل پانچ وقت کا نمازی تھا، جسے ناحق شہید کیا گیا۔یہ کون سی شریعت اور کون سا دین ہے جو ایک پانچ وقت کے نمازی، بے گناہ پختون کا خون بہانے کی اجازت دیتا ہے؟ اور یہ کس امیر کا حکمِ جہاد ہے کہ ایک اسلامی ملک کے محافظوں، روزی کمانے والے غریب نوکری پیشہ افراد اور بے گناہ شہریوں کو پرندوں کی طرح نشانہ بنایا جائے؟
اس تمام تر صورتِ حال میں سب سے بڑا المیہ اور افسوسناک پہلو خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کی ترجیحات ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے اور عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔جب اپنے گھر میں بدامنی کی آگ لگی، تب صوبے کے تمام ذمہ داران سیاسی نعرے بازی، سیاسی معرکے مارنے میں مصروف ہیں۔خیبر پختونخوا کے حکمران بدامنی کو روکنے کے بجائے سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں،
دوسری جانب، پختونوں کے حقوق اور تحفظ کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی ایم اس ظلم و بربریت پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مظلوم کے بجائے ظالم کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
صوبائی قیادت اور سہیل آفریدی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار صرف امانت اور اختیار نہیں، بلکہ شدید ترین آزمائش ہے۔ اللہ تعالی کے ہاں ایک دن اپنی رعایا اور عوام کے تحفظ کا حساب دینا ہو گا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا تھا:
اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا یا ضائع ہو کر مر جائے، تو مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں عمر سے اس کا بھی حساب لیا جائے گا۔
جب ایک جانور کے تحفظ پر خلیفہ وقت اتنی بڑی ذمہ داری محسوس کرتا ہو، تو پھر جن کی حکمرانی میں بے گناہ انسان، غریب روزی کمانے والے اور دھرتی کے محافظ دن دہاڑے قتل ہو رہے ہوں، وہ روزِ محشر اللہ کی عدالت میں کیا جواب دیں گے؟
میں پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے پر رہتا ہوں، کچھ دنوں قبل مجھے چکوال، منڈی بہاؤالدین، گجرات اور گجرانوالہ جانے کا اتفاق ہوا۔ سفر کی تھکن اور دن بھر کی مصروفیات کے بعد رات کو جب اپنے مقامی میزبانوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا وقت ہوا، تو ہر میزبان مجھے کسی نہ نہ کسی کوئٹہ ہوٹل پر لے گیا۔ وہیں گجرانوالہ کے ایک چائے خانے پر پشین سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم لیگی ورکر جمعہ خان سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے بتایا کہ صرف گجرانوالہ شہر میں ان کے اپنے تین ریسٹورنٹس چل رہے ہیں۔
چائے کا شوقین ہونے کے ناطے میں نے دورانِ سفر ذرا غور کیا تو سڑک کنارے ہر کچھ فاصلے پر یہ کوئٹہ چائے خانے چمکتے نظر آئے۔ میرا ایک سادہ سا اندازہ ہے کہ صرف پنجاب میں ایسے دو سے تین ہزار کوئٹہ ریسٹورنٹس موجود ہوں گے، جہاں ہزاروں پشتون نوجوان بغیر کسی خوف یا رکاوٹ کے سکون سے کام کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ایک ہوٹل پر 20، 20 سے زائد لڑکے ملازم ہیں جن کا تعلق کوئٹہ، ژوب، پشین اور چمن جیسے علاقوں سے ہے۔
یہ زمینی منظر نامہ دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جن خطوں یا قوم پرست رہنماؤں کی طرف سے پنجاب کے خلاف نفرت اور تعصب کا بیانیہ گھڑا جاتا ہے، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دل چاہتا ہے کہ تفرقہ انگیز باتیں کرنے والے ان سیاست دانوں محمود خان اچکزئی ہوں، خوشحال کاکڑ ، اصغر اچکزئی یا پی ٹی ایم کے رہنماوں کو پنجاب کی ان گلیوں اور بازاروں میں لے کر آؤں ۔ کاش یہ لوگ یہاں آئیں اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ جس پنجاب پر یہ دن رات تعصب اور عصبیت کا الزام لگاتے ہیں، اس نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لاکھوں پختونوں کو نہ صرف روزگار اور کاروبار دیا ہے بلکہ انہیں اپنے بھائیوں کی طرح گلے سے لگایا ہوا ہے۔
کوئٹہ ہوٹل کلچر صرف چائے پینے کا نام نہیں، بلکہ یہ جنوبی، شمالی و مرکزی پنجاب کے دل میں پختون بھائیوں کے روزگار، تحفظ اور مقامی آبادی کے باہمی اعتماد کی زندہ مثال ہے۔ سیاست دان اور قوم پرست عناصر اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے فاصلے اور نفرتیں پیدا کرنے کی جتنی بھی کوشش کر لیں، لیکن روزمرہ کے معاشی رشتے، مشترکہ زندگی اور عوام کا باہمی احترام ہی اس ملک کی حقیقی طاقت اور پہچان ہے۔
ثناء اللہ بلوچ صاحب، رقبے اور جغرافیائی لاگت (Cost of Distance) کے اعداد و شمار پیش کر کے اصل سوال سے توجہ ہٹانا قوم پرست سیاست کا پرانا طریقہ ہے۔ NFC فارمولے میں رقبے کو 10 فیصد وزن اسی لیے دیا گیا تھا تاکہ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت کا خیال رکھا جائے، اور اسی کی بدولت بلوچستان کو آبادی کے تناسب سے 1.5 گنا زیادہ فی کس وسائل مل رہے ہیں۔ اگر ہر کلومیٹر کے حساب سے فنڈز کا موازنہ پنجاب سے کیا جائے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پنجاب میں فی مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت، صنعتی سرگرمیاں اور ٹیکس دینے والے شہریوں کی تعداد بھی بلوچستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں عمومی مالیاتی تقسیم کا بنیادی محور انسان اور شہری ہوتے ہیں، محض غیر آباد زمین نہیں۔
اگر بالفرض ہم جغرافیائی وسعت کی بھاری لاگت کے اس دلیل کو مان بھی لیں، تب بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق سے سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد منتقل ہونے کے باوجود پچھلے 15 سالوں میں یہ اربوں روپے صوبے کے اندرونی حکمرانی کے نظام، تعلیم، صحت اور مقامی انفراسٹرکچر پر درست طریقے سے کیوں نہیں خرچ ہوئے؟ 18ویں ترمیم کے بعد اسکول، ہسپتال، پینے کا پانی اور مقامی سڑکیں بنانا مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وفاق کا کام بڑی شاہراہیں، اعلیٰ تعلیم اور قومی نوعیت کے منصوبے دینا ہے۔ وفاق نے صرف گوادر اور CPEC کے تحت پورٹ، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، ڈی سیلینیشن پلانٹ، پاک چائنا اسپتال اور فری زون جیسے اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے ہی نہیں بنائے، بلکہ بلوچستان بھر میں وفاقی مالی اعانت سے یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف تربت، لورالائی یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف گوادر کے قیام اور کیمپسز کو ممکن بنایا، جبکہ بولان میڈیکل کالج، لورالائی، خضدار اور پنجگور میڈیکل کالجز، سبی و مکران کے کیڈٹ کالجز، اور نیول انکلیو اسکولز سمیت دانش اسکولز کا جال پھیلایا تاکہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم مل سکے۔
دوسری طرف معاشی پیداوار اور ریاستی نظام میں شراکت کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کل ٹیکس وصولی (FBR Collection) میں بلوچستان کا براہِ راست حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے، قومی برآمدات میں رجسٹرڈ حصہ 1 فیصد سے کم ہے، اور بیرونی ترسیلاتِ زر میں بھی صوبے کا حصہ 1 فیصد سے کم ہے۔ اس کے باوجود وفاق ہر سال بغیر کسی رکاوٹ کے 1,000 ارب روپے سے زائد کا مالیاتی حجم صوبے کے حوالے کرتا ہے۔ مزید برآں، جہاں ایک طرف ریاست اور قوم نے اپنے وسائل نچھاور کیے، وہاں بدلے میں آئے روز سیکیورٹی اہلکاروں، محنت کشوں اور بے گناہ شہریوں کی لاشیں اٹھانی پڑتی ہیں اور ریاستی سالمیت کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
آپ فی مربع کلومیٹر کا حساب تو وفاق سے مانگتے ہیں لیکن صوبائی خزانوں میں آنے والی ایک ہزار ارب کی بھاری رقم اور ان تمام تعلیمی و ترقیاتی اداروں کے ہوتے ہوئے مقامی سطح پر کارکردگی اور امن و امان کا حساب اپنے عوام کو نہیں دیتے،
چیرمین سی ڈی اے صاحب۔ یہ طے ہے آپ اس ماضی کے خوبصورت شہر کو بہتر نہیں کرسکتے تو کم از کم اسے مزید برباد تو نہ کریں۔ جو آپ کے دوست بابو محمد علی رندھاوا کے کلہاڑے سے سبزہ /درخت پارکس بچ گئے ہیں آپ انہیں تو رہنے دیں۔ حیران ہوتا ہوں آپ بابوز اور بیوروکریٹس کو درخت، سبزے، ماحول، جنگل، پارکس سے اتنی چڑ کیوں ہے؟ آپ بابوز پوری دنیا گھومتے پھرتے ہیں وہاں سے یہ سب کچھ سیکھ کر آتے ہیں کہ اپنے وطن ملک شہر گلی محلے یا پارکس میں جو سبزہ جنگل درخت نظر آئے اس پر بلڈوزر اور کلہاڑا پھیر دو؟
ظل الہی رحم فرمائیں اس شہر پر جو پہلے ہی بابوز کی مہربانیوں سے دھیرے دھیرے دم توڑ رہا ہے۔ آپ سرکاری افسران جن میں aesthetic کی شدید کمی ہے صرف چند سالوں میں پورے شہر کی حالت ہی بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ آپ لوگ ایک دو سال کے لیے چیرمین لگتے ہیں اور حلیہ بگاڑ کر دوسرے کے حوالے کر کے نکل جاتے ہیں کہ اب تم مزید بگاڑو۔ یہی کچھ رندھاوا صاحب نے کیا اور یہی آپ کررہے ہیں اور یہی آپ کے ایک ادھ سال جانے کے بعد انے والا نیا بابو کرے گا۔
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@betterpakistan@SohailAshrafGor@CDAthecapital@DrTariqFazal@RajakhurramNA48@dcislamabad@MIshaqDar50@BilalAKayani@HinaRKhar@PalwashaKhan18@sharmilafaruqi@sherryrehman
پنجاب کے لوگ کھلے دل کے مالک اور مہذب قوم ہیں۔ یہاں ڈیڑھ کروڑ سے زائد پشتون اور قریب دو کروڑ بلوچ رہتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔
کچھ پشتون قوم پرست اور بلوچ قوم پرست عناصر بلوچستان میں پنجابیوں کے قتلِ عام کی مذمت کرنے کے بجائے اس پر خوش ہوتے ہیں، پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، مگر BLA اور TTP کی دہشت گردی پر خاموش رہتے ہیں۔
پاکستان تمام برادریوں کا مشترکہ گھر ہے۔ مشکلات کے باوجود یہاں مثالی بقائے باہمی موجود ہے۔
یہ قوم پرست اور نسل پرست عناصر نہ عام پشتونوں کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ عام بلوچوں کی۔ یہ کبھی بھی عام پشتونوں اور بلوچوں کے پاکستان کی دیگر برادریوں، خاص طور پر پنجابی برادری، کے ساتھ تعلقات، رشتہ داریوں اور سماجی روابط خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
Sir, we should send you back to Afghanistan with a truckload of strategic rents, and you can return with some tashkeels. The deal is worth only $200 million (investment over many years) and still far less than what Afghanistan was earning every year by selling coal to Pakistan.
سیدھا اور کڑوا سچ یہی ہے کہ بم پھاڑنے والا اور خودکش جیکٹ باندھنے والا بھی ایک پختون تھا اور ہے، اور اس کے نتیجے میں باڈی بیگز میں پیک ہونے والا اور جنازہ اٹھانے والا بھی پشتون ہی تھا۔
فخر کاکا خیل کا صحافتی قد کاٹھ، ان کی گہری بصیرت اور ان کا قلم کسی کے سہارے یا تاویلات کا محتاج نہیں۔ انہوں نے کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ گراؤنڈ زیرو پر کھڑے ہو کر اپنے ضمیر اور شہداء کے خون کی ترجمانی کی ہے۔
انہوں نے آخر کون سا جرم کر دیا؟ انہوں نے صرف اس المیے کا وہ رخ سامنے رکھا ہے جس سے نظریاتی باتیں کرنے والے ہمیشہ آنکھیں چراتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس کو قبائلی یا نسلی جنگ نہیں کہا، بلکہ اس بنیادی سوال پر انگلیاں اٹھائیں کہ آخر ہمارے اندر وہ سیاسی اور فکری شعور کیوں نہیں تھا جو ہمیں اس گریٹ گیم کا ایندھن بننے سے روکتا؟ ہم کیوں کسی اور کی جنگ میں خود اپنے ہی بھائیوں کے قاتل بن گئے؟
ریاست کی غلط پالیسیوں پر سوال اٹھانا بالکل بجا ہے، لیکن ریاست کو طعنہ دینے کی آڑ میں ان مقامی قاتلوں، کرائے پر گھر دینے والوں اور پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو بے گناہ مان لینا شہداء کے خون سے فراڈ ہے۔ جب اپنے گھر میں آگ لگی ہو تو یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ دشمن کون ہے، اور یہ اعتراف کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ماچس کی تلی کس نے تھمائی تھی۔
جب تک اپنی صفوں کے اندر خود احتسابی کا حوصلہ پیدا نہیں ہوگا اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں یا پنجاب پر ڈال کر مظلومیت کا بیانیہ بیچا جاتا رہے گا، تب تک حل کا راستہ کبھی نہیں نکل سکتا۔ فخر کاکا خیل نے قوم کو صرف وہ آئینہ دکھایا ہے جس کا سچ برداشت نہیں ہو رہا۔ اب اس آئینے کو توڑنے اور سچ بولنے والے قلمکار پر الزام تراشی کرنے سے تاریخ اور حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
نوابزادہ لیاقت علی خان کو شہید کرنے والا قاتل سید اکبر ایک افغان باشندہ تھا اور اس وقت افغانستان کے سردار داؤد خان کی پشتپناہی اور حاجی میرزالی خان (فقیر ایپی) کی پختونستان تحریک کے سیاسی حالات و سازشیں اس واقعے کے عقب میں موجود تھیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت میں ملوث خودکش حملہ آور کا تعلق وزیرستان کے محسود علاقے کے عسکریت پسند نیٹ ورک سے تھا، جس کا سب سے بڑا ثبوت بیت اللہ محسود کی وہ آڈیو ریکارڈنگ ہے جو آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے اور جس کی توثیق سرکاری تحقیقات، اعترافی بیانات اور بین الاقوامی رپورٹس نے کی۔ اسی طرح صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ مفتی نظام الدین شامزئی، ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مولانا سمیع الحق، مولانا حامد الحق، مولانا حسن جان اور مولانا ادریس جیسے بیسیوں جید علمائے کرام کے قاتل اور سہولت کار انہی عسکریت پسند و طالبان گروہوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے علانیہ اور بالذات ان حملوں کی ذمہ داریاں قبول کیں۔ راولپنڈی یا پنجاب کا کوئی شہر صرف ان حادثات اور سانحات کے وقوع پذیر ہونے کا جغرافیائی مرکز تھا، جبکہ اس خون ریزی کی اصل منصوبہ بندی، ہتھیار، خودکش بمبار اور محرکات انہی عسکریت پسند نیٹ ورکس کے اپنے پیدا کردہ تھے۔ لہٰذا تاریخ کا حلیہ بگاڑ کر الزام پنجاب یا کسی شہر پر تھوپنے کا پروپیگنڈہ کرنے کے بجائے اپنے اندر موجود ان تلخ حقائق اور سچائی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ انگریزوں نے پنجابیوں کے خلاف شدید متعصب رویہ رکھا ہمارے ہیروز، ہماری زبان کو کمتر بنانے کی سرکاری مہم چلی تا کہ پنجاب جس نے انگریزوں کو شدید مزاحمت دی تھی اس کا بدلہ لے سکیں، اس کے بعد Survival instinct کے مدنظر پنجابیوں نے خود کوہی نیچے کر لیا، تقسیم کے بعد بڑی آبادی کے باوجود پاکستان اردو بولنے والے کے حوالے ہوا اور ملٹری پختونوں نے سنبھال لی پنجابی محض تماشائ رہے، اس تمام عرصے میں پنجاب کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، پاکستان کو پنجابی چلاتے تو بنگالی کبھی علیحدہ نہ ہوتے لیکن بھٹو، ایوب خان اور یحیْ خان نے Self Serving پالیسیوں سے ملک تڑوا دیا، پنجابی اکثریت کے باوجود اقلیتی فیصلوں کے محتاج رہے، اب جب BLA نے پنجابی شناختی کارڈُ دیکھ کر لوگوں کوُشھہید کرنا شروع کیا تو پنجابیوں کو ہوش آیا ہے کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ اب پنجابی شناخت کی مہم شروع ہوئ ہے اس کے اہمُ آثرات مرتب ہوں گے!
شمس مہمند صاحب، بات آسان یا مشکل کی نہیں، بلکہ معاشی اور آئینی حقائق کی ہے۔ آپ نے گندم، تمباکو، بجلی اور گیس کے متعلق کچھ بنیادی نکات اٹھائے ہیں، لہٰذا ان کا جواب پیشِ خدمت ہے۔
گندم کے حوالے سے ہر صوبائی حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیزن کے وقت اپنے سرکاری گوداموں کے لیے وقت پر باقاعدہ گندم خریدے۔ یہ سرکاری گندم سال بھر غریب عوام کو سستا آٹا دینے اور ہنگامی ذخائر کے لیے رکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی صوبائی حکومت سیزن میں اپنا سرکاری ہدف پورا نہ کرے اور بعد میں ملبہ پنجاب پر ڈالے، تو یہ آئینی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت مکمل طور پر ایک صوبائی موضوع ہے۔ کسان کا کھیت میں تمباکو اگانا سو فیصد زرعی عمل ہی ہے، اور اسی بنیاد پر خیبر پختونخوا حکومت اس پر باقاعدہ ٹوبیکو ڈیولپمنٹ سیس وصول کرتی ہے۔ لیکن جب یہی تمباکو سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں میں صنعتی پروسیسنگ کے مرحلے میں جاتا ہے، تو وفاق اس کی مینوفیکچرنگ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) نافذ کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار بالکل ویسا ہی ہے جیسے پنجاب میں بننے والی ٹیکسٹائل، سرجیکل یا لائٹ انجینئرنگ مصنوعات کی صنعتی پروسیسنگ پر وفاقی سیلز ٹیکس اور ڈیوٹیاں لاگو ہوتی ہیں۔ اور یاد رہے کہ وفاق جو ایف ای ڈی وصول کرتا ہے، وہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے 57.5 فیصد کی شرح سے واپس تمام صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا کو منتقل کی جاتی ہے۔
آئین کا آرٹیکل 158 گیس پر اور آرٹیکل 161 (2) پن بجلی کے نیٹ ہائیڈل پرافٹ پر اس صوبے کا پہلا حق تسلیم کرتا ہے جہاں یہ پیدا ہوتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کا یہ آئینی حق اور رائلٹی بلا تاخیر ملتی ہے، اور اس سے انکار آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آپ نے ایک اور پوسٹ میں لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا 5,800 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بالکل صحیح ہے یہ کیپسیٹی ہے، لیکن توانائی کے نظام کو فنی اور جغرافیائی بنیادوں پر سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پن بجلی دریاؤں کے بہاؤ کے تابع ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پختونخوا کے ڈیم نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی دیتے ہیں، لیکن سردیوں کے 4 سے 5 مہینوں میں جب ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ شدید کم ہو جاتا ہے، تو پن بجلی کی پیداوار نا ہونے کے برابر، یعنی بعض اوقات تقریباً زیرو تک گر جاتی ہے۔ ان کڑے مہینوں میں خیبر پختونخوا کو تقریباً 3,000 میگاواٹ بجلی اسی نیشنل گرڈ سے دی جاتی ہے جو پنجاب اور سندھ کے تھرمل، گیس اور شمسی پاور پلانٹس سے چلتا ہے۔ اگر سینٹرل گرڈ کا یہ سپورٹ سسٹم نہ ہو تو سردیوں میں پختونخوا کا نظامِ برق مفلوج ہو کر رہ جائے۔
اسی طرح جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ ورسک ڈیم کو پانی فراہم کرنے والے دریائے کابل کا منبع افغانستان کی پہاڑیاں ہیں، خیبر پختونخوا نہیں؛ اور دریائے سندھ کا منبع تبت میں ہے۔ بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت دریا جہاں جہاں سے گزرتے ہیں، اس پورے بیسن پر آباد تمام انسانوں کا اس کے پانی پر مساوی حق ہوتا ہے۔ مزید برآں، صوبے میں بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پیسکو کے سالانہ 190 ارب روپے سے زائد کے لائن لاسز اور بجلی چوری کا خسارہ بھی ہے، جسے پورا وفاقی نظام مل کر برداشت کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کا اپنے بجلی، گیس اور آئینی حقوق کا تقاضا کرنا بالکل برحق ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن حقوق کا مقدمہ لڑتے ہوئے ایک پورے صوبے کے کروڑوں محنت کشوں، کسانوں اور صنعت کاروں پر وسائل ہڑپ کرنے کا تازیانہ چلانا دلیل نہیں ہے
شمس مہمند صاحب، اتنی لاعلمی؟ پنجاب کو دوسروں کے وسائل پر پلنے والا صوبہ قرار دینے سے پہلے ذرا پاکستان کی معیشت کے اعدادوشمار بھی پڑھ لیا کریں۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کو اس سال تقریباً 41 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی ہیں، جن میں پنجاب کا حصہ تقریباً 35 ارب ڈالر ہے؟ پاکستان کی تقریباً 31 ارب ڈالر کی برآمدات میں پنجاب کا حصہ تقریباً 25 ارب ڈالر ہے، اور ٹیکسٹائل کی تقریباً 19 ارب ڈالر کی برآمدات میں بھی پنجاب کا حصہ تقریباً 17 ارب ڈالر بنتا ہے، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، سیالکوٹ کے عالمی شہرت یافتہ اسپورٹس و سرجیکل آلات، اور گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور شیخوپورہ کی لائٹ انجینئرنگ ملکی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔
اب ذرا پنجاب کی زراعت اور لائیوسٹاک کا شعبہ بھی دیکھ لیجیے۔ پنجاب صرف گندم اور گنے کی پیداوار ہی نہیں کرتا بلکہ کپاس، چاول، مکئی، آلو، پھل، سبزیوں اور مویشیوں کی پیداوار میں بھی ملک کی غذائی معیشت کا ضامن ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے زرعی اعداد و شمار دیکھ لیں، ملک میں موجود کروڑوں گائے اور بھینسوں کا بڑا حصہ پنجاب میں ہے جو دودھ اور گوشت کی صورت میں پورے ملک کو خوراک فراہم کرتا ہے۔ یہ محض دیہاتی معیشت نہیں بلکہ اربوں روپے کی ایک کامل تجارتی اور صنعتی ویلیو چین ہے۔
آپ نے لکھا کہ پنجاب کی انڈسٹری پڑوسی صوبوں کے وسائل پر چلتی ہے۔ جناب پاکستان میں بجلی کا نظام قومی گرڈ کے ذریعے چلتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پن بجلی پیدا ہوتی ہے تو وہ قومی گرڈ میں آتی ہے، پنجاب میں پیدا ہونے والی بجلی بھی اسی قومی نظام کا حصہ بنتی ہے۔ پنجاب کا عام شہری اور صنعت کار اس بجلی اور گیس کا باقاعدہ بل اور ٹیکس ادا کر کے اسے خریدتا ہے۔ بجلی یا گیس کسی صوبے کی ذاتی ملکیت یا جاگیر نہیں ہوتی کہ جہاں پیدا ہوئی وہی اس کا اکیلا مالک بن جائے۔
جہاں تک پانی، گیس، بجلی، رائلٹی اور این ایف سی ایوارڈ کا تعلق ہے، آئین کے تحت خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے حقوق مسلمہ ہیں اور کسی کو ان کے آئینی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن اپنے حقوق کی بات کرنے کی آڑ میں پنجاب کے کروڑوں محنت کشوں، کسانوں اور تاجروں کو وسائل ہڑپ کرنے والا قرار دے دینا سراسر یک طرفہ اور تعصب پر مبنی بیانیہ ہے۔
پاکستان کسی ایک صوبے کے وسائل سے نہیں چلتا۔ خیبرپختونخوا کی بجلی، بلوچستان کے قدرتی وسائل و معدنیات، سندھ کی بندرگاہیں، تیل و گیس، اور پنجاب کی زراعت و انڈسٹری مل کر اس وفاق کو چلاتے ہیں۔ اس لیے صوبائیت کی عینک اتار کر بات کریں۔
شمس مہمند صاحب! پنجاب کے خلاف نعرہ لگانا آسان ہے، لیکن معاشی حقائق اور اعدادوشمار کا جواب دینا اتنا آسان نہیں۔ شمس مہمند صاحب! آپ تو کئی کتابوں کے مصنف ہیں، آپ تو صاحبِ علم ہیں۔