"عمران خان صاحب کو پتہ تھا کہ ان کو قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا اس لیے انہوں نے تفصیلی پیغامات دئیے وہ ہمیں اچھی طرح سمجھا کے بھیجتے تھے۔ پی ٹی آئی کے لیے تمام پیغامات تفصیل میں آچکے ہیں، جو خفیہ پیغامات تھے وہ بھی اور جو پبلک کرنے تھے وہ بھی، سارے پیغامات ہم پہنچا چکے ہیں۔ اب یہ پی ٹی آئی پرمنحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اندر جا کے ہدایات لے کر کچھ کرے گا تو اب اندر جانے کی ضرورت نہیں سارے تفصیلی پیغامات آچکے ہیں اور وہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود ہیں"۔ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی عدالت پیشی کے موقع پر گفتگو
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
"یہ فرعون ہیں۔ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے عمران خان کے سارے حقوق معطل کردئیے ان کو قید تنہائی میں ڈال کر ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے یہ عدالتیں انصاف نہیں دینگی اب لوگ صرف خیبرپختونخواہ سے نہیں پورے پاکستان سے آئیں گے ۔جب تک ہم پریشر نہیں ڈالیں گے عمران خان کے حقوق بحال نہیں ہونگے"۔ علیمہ خان
عمران خان کا ہر منصوبہ نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے، ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لیے تھا چاہے حکومت سے قبل اس کے کینسر ہسپتال یا نمل یونیورسٹی ہو یا حکومت کے دوران احساس پروگرام ، دس لاکھ روپے کا صحت کا تحفظ، پناہ گاہیں لنگر خانے ہوں، بڑے ڈیموں کی تعمیر ہو یا کورونا کے دوران ملکی معیشت کا استحکام جبکہ موجودہ حکومت کا ہر منصوبہ اشرافیہ کو نوازنے اور اپنی عیاشیوں پر مشتمل ہے۔
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
Standing Firm Through Every Trial.
Through years of legal and political challenges, Imran Khan and his sisters continue to advocate for "Haqeeqi Azadi" for Pakistan. Their story reflects resilience in the face of adversity.
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
”علیمہ خانم نہ تحریک انصاف کی چیئرمین بنی ہیں اور نہ وہ وزارت اعظمی کی امیدوار ہیں۔ وہ پارٹی میں کسی جانشینی کی دعویدار نہیں ہیں بلکہ صرف اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ علیمہ خانم کا عمران خان کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانا، ہرگز موروثی سیاست نہیں کہا جا سکتا۔“ علینہ شگری
@alinashigri
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو - ۱۸ مارچ ۲۰۲۵
دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سولینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی اور کو نہیں ہو سکتا کیونکہ تحریک انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
1/5
کپتان کی ہر پیشگوئی اور تجزیہ آج سچ ثابت ہو چکا ہے! علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم اعلان: عمران خان کے جیل سے جاری کردہ تمام پیغامات اور ٹویٹس کو تاریخ کے ساتھ دوبارہ ری ٹویٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغامات افغانستان، بلوچستان اور ملکی سلامتی کے حوالے سے ہمارے واضح موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پنجاب میں بگڑتے ہوئے امن و امان اور نظام کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ جب ملک پر نکمے اور نااہل حکمران مسلط ہوں جن کا فوکس اپنی سیاست اپنی زات اور اپنی بقا ہو تو عوام کی حفاظت پر معمور ادارے ذاتی خدمتگار بن کر رہ جاتے ہیں۔
ہانیہ احمد کو ڈاکوؤں نے نہیں بلکہ سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ نے نگل لیا۔ ایک ایسا ادارہ جسے عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، اسی کے اہلکار کی گولی نے ایک معصوم بچی کی جان لے لی۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک بچی مار دی گئی، بلکہ اس کے بعد متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے دباؤ، بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہانیہ کے والد کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے واقعے کا رخ بدلنے کی کوشش کی اور ان سے زبردستی کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی گئی۔
یہ اس نظام کی ناکامی ہے جہاں طاقت رکھنے والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں۔ پنجاب پولیس عوام کے تحفظ کے بجائے عوام پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن چکی ہے اور لاقانونیت عروج پر ہے۔
ذمہ داروں کا احتساب، شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف دینا سراسر ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے ۔ عمران خان رہائی تحریک شروع کرنے جارہے ہیں ۔ آپ سب سے تعاون درکار ہے۔ آپ کے نکلنے سے عمران رہا ہو گا۔ نعروں اور دل میں پسند کرنے سے رہائی نہیں ہوگی۔ آپ نکلیں گے ، تو عمران رہا ہوگا ۔ عوام کے لیے جتنی سانس لینا ضروری ہے اتنا ہی اس ملک کے لیے عمران خان ضروری ہے ۔ ہر جگہ کا دورہ کروں گا۔
ایم این اے اقبال آفریدی