🇵🇰🇸🇦 As the war spills toward Saudi Arabia, the most dangerous treaty in the region is the one few are watching: Pakistan's mutual defense pact with Riyadh...
The Strategic Mutual Defence Agreement, signed in September 2025, commits Pakistan and Saudi Arabia to treat an attack on one as an attack on both, backed by "all military means," language widely read as extending Islamabad's nuclear shadow over the kingdom.
Pakistan has already rotated troops and air defenses into Saudi Arabia during earlier Iran-related tensions this year.
That pact is why the Houthi and Iran-linked strikes toward Saudi targets carry a weight the Gulf's other exchanges don't.
This week, Islamabad officially reaffirmed its 'unwavering support' for Saudi security.
Behind the scenes, Pakistani officials have told Reuters that further attacks on the kingdom are considered a 'red line' that could trigger their defense agreement."
Here is the escalation nobody is pricing.
Every Gulf state Iran has hit is American-protected, but Saudi Arabia has an entirely different backup plan.
If Iranian or proxy fire lands on the kingdom and Pakistan invokes the pact, this stops being a U.S.-Iran siege and triggers the entry of one of the world's largest standing armies into the conflict.
Source: Reuters, AP / Writer: Daniel
Founding Chairman Imran Khan writes to the Chief Justice of Pakistan, highlighting the grave state of affairs in the country, and reminds him of his responsibility to stay true to his oath and declared belief in the principles and values espoused by Pakistan's founding fathers & his proclamation of Supremacy of the constitution.
سلمان خان نے عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
🛑 تنگ کوٹھڑی اور قیدِ تنہائی: عمران خان کو 360 سے زائد دنوں سے ایک ایسی چھوٹی کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) میں رکھا گیا ہے جہاں کیڑے مکوڑے ہیں اور ان پر چوبیس گھنٹے سخت ترین نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
🛑 سزا کی اصل وجہ: انہیں ان حالات میں صرف اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ملکی سیاست پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کو چیلنج کرنے کی جرات کی تھی۔
🛑 رابطے پر مکمل پابندی: سلمان خان اور ان کے بھائی نے نومبر 2022 کے بعد سے اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ ان سے آخری بار صرف ایک مختصر فون کال پر بات ہو سکی تھی، جسے بھی وقت سے پہلے ہی کاٹ دیا گیا تھا۔
🛑 ویزہ دینے سے انکار: جب بیٹوں نے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا، تو حکومت نے جان بوجھ کر ان کے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دنیا کے سامنے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور سیاسی انتقام کا ایک واضح ثبوت ہے!
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
Gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, ISB, in the presence of his family and personal physician.
"ایک مسنگ پرسن کے نام "
یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے -
مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے تین ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی -
مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے -
مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی -
مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا -
مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا -
مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت -
مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے -
مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ -
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir@MarioNawfal@soulful7867@salmanAraja@SohailAfridiISF
علیمہ خان کی آواز بنیں 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
انھیں یہ ضد ہے کہ انھوں نے اصل جمہوری طاقت کا راستہ ہر صورت میں روکنا ہے اور ہماری یہ ضد ہے کہ ہم نے بھی شکست تسلیم نہیں کرنی اور لڑتے رہنا ہے-
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف
نشان کوئی بھی ہو،ووٹ صرف عمران خان کے نظریے کا۔
گلگت بلتستان میں پی ٹی ائی،مجلس وحدت مسلمین کے مشترکہ امیدواران اور انکے انتخابی نشان۔
اس ویڈیو کو فیس بک اور ٹک ٹاک پر لازمی شئیر کریں۔