تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چئیرمین قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز کا دھرنا تیسرے دن میں داخل.
مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا
ہم ہر جج، پولیس افسر، فوجی افسر کا نام لکھیں گے جو لوگوں کی عزتوں سے کھیل رہا ہے۔
وقت آئے گا جب عوام کی عدالتیں لگیں گی۔
ہم کسی کو پتھر نہیں مارینگے لیکن ہمارا یہ فیصلہ ہے اس ملک پر عوام کی مرضی سے عوام کی حکمرانی قائم ہوگی۔
پاکستان کو مزید کتنا ’ہارڈ اسٹیٹ‘ بنانے کی ضرورت ہے؟ –آئین معطل ہے، سکیورٹی ایجنسیوں نے گھروں کی حرمت پامال کی، عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے، مینڈیٹ چھینا گیا اور غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ اس سے زیادہ ہارڈ اسٹیٹ کیا ہوگی؟‘‘
پاکستانی ریاست کے سیکورٹی اداروں کی فائرنگ سے تین مظاہرین شہید جبکہ 7 زخمی ہیں۔ لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آۓ ہیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جارہا ہے۔
اس بربریت کے خلاف پورے بلوچستان کے عوام سڑکوں پر نکلے۔
ریاستِ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بی وائی سی کے پُرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوئٹہ میں مظاہرین پر بلا تفریق فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد شہید جبکہ سات افراد شدید زخمی ہوگئے۔
اس دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، خواتین اور بچوں پر لاٹھی چارج، شدید شیلنگ اور مسلسل مواصلاتی بلیک آؤٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا، سریاب میں سرچ آپریشن کے دوران مزید مظاہرین کو گرفتار کرنے کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔
لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آۓ ہیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جارہا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ منیر احمد روڈ پہنچ جاہیں۔
ہم پورے بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
شدت پسند بلوچ باغیوں اور آپ میں یہ فرق ہے کہ وہ بچوں اور خواتین کو نہیں مارتے ہیں اور آپ بچوں اور خواتین تک کو نہیں بخشتے ہیں، آج آپ نے خواتین اور بچوں پر بدترین تشدد اور فائرنگ کی ہے جس سے 12 سالہ بچہ شہید اور متعدد خاتون شدید زخمی ہوئے ہیں
#StopBalochGenocide
آج پھر بلوچستان رو رہا ہے۔
کوئٹہ کی سڑک پر ایک 12 سالہ بچہ مارا گیا۔
نہ کوئی ہتھیار، نہ کوئی خطرہ—صرف ایک معصوم چہرہ، جس کی ماں نے صبح اسے جوتے پہنا کر بھیجا تھا، اور شام کو اس کی لاش واپس ملی۔
اور تم سب؟
جیسے ہمیشہ، خاموش۔
جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔
تمہیں کب پرواہ تھی؟
تم نے کب بلوچستان کو اپنا سمجھا؟
ہم تو ہمیشہ تمہارے لیے ایک غیر، ایک سوتیلا سوال رہے ہیں—جس کا جواب تم نے ہمیشہ گولیوں سے دیا ہے۔
جب ہمارے بچے مارے جاتے ہیں، تم صرف خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہو۔
نہ دکھ، نہ شرم، نہ افسوس۔
تمہیں صرف تب درد محسوس ہوتا ہے جب درد تمہارے گھر کی دہلیز پر آتا ہے۔
فلسطین کے لیے تمہاری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور یہاں؟
تمہاری اپنی زمین پر، تمہاری اپنی مٹی میں، تمہارا اپنا بچہ مارا گیا—اور تم چپ ہو۔
کیونکہ تم نے کبھی ہمیں “اپنا” مانا ہی نہیں۔
ہم بس اتنا پوچھنا چاہتے ہیں:
کیا ہمارا خون سستا ہے؟
کیا ہمارے بچوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
کیا ہم صرف اس لیے مارے جائیں گے کہ ہم آواز اٹھاتے ہیں؟
اب بہت ہو چکا ہے۔
میں اور میری پارٹی ان ماؤں کے ساتھ ہیں جن کے بچے واپس نہیں آئے۔
ہم ان سڑکوں پر بیٹھے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جنگ اب خاموشی کی نہیں—یہ جنگ آواز کی ہے۔
ہم انصاف مانگتے ہیں، نہیں ملے گا تو چھینیں گے۔
اور یہ لاشیں تم سب کی بے حسی کی گواہی بن کر تاریخ میں لکھی جائیں گی
آپ خدانحواستہ دو صوبوں میں قتل عام کرنے جارہے ہیں اور آپ تمام پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہے
کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ بلوچستان سے صرف محمود خان کو بلایا ہے اور کسی کو نہیں بلایا ؟
کیا یہ 6 لوگ قتل عام کی اجازت دیکر اپنا ماضی برباد کر دیں؟ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔
آج کا اجلاس تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو پھنسانے کیلئے تھا کہ بس یہ لوگ آئے تھے، بریفنگ ہوئی اور یہ فیصلہ ہوا ۔۔۔
پھر آپ ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ ہم نے وہاں مخالفت کی تھی
حالات یہ تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی کانفرنس بلائی جائیں جس میں عمران خان، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، سیاسی جماعتیں شامل ہو۔ عمران خان کو اس کانفرنس میں شرکت کی سہولت دی جائیں، یہ وقت کا تقاضا ہے اور ان تمام لیڈران کو اس میں مدعو کیا جائیں جن کی عوام میں حیثیت ہے۔
بيرسٹر صاحب نے کہا ٹرين واقعے سے ملک کو ﺯخم پہنچا۔
بيرسٹر صاحب! ملک کو ﺯخم اس دن پہنچا جس دن آپ کا مینڈیٹ چوری ہوا، یہ زخم وردى پوش افراد و ايجنسيوں نے اس ملک کو دیا۔
ہمیں اس طرف انگشت نمائی کرنی چاہئے اگر ملک بچانا ہے اور اگر اسی تنخواہ پر کام کرنا ہے تو یہ کام نہیں چلنے والا
پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور پشتونخوامیپ اسلام آباد کے زیر اہتمام دعوت افطار میں پارٹی کے مرکزی و صوبائی قیادت نے شرکت کی۔ اجتماع سے پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کیا۔
خوش قسمت ہیں پنجاب اور لاہور والے جو 15 کلومیٹر کے نہایت کم فاصلے پربھی انڈیا کی دہشت گردی سے محفوظ ہیں *
ہم بلوچ ، پٹھان ہزاروں کلومیٹر دور بھی " را "کے ہاتھوں محفوظ نہیں