اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ ��و۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو۔ بیشک اللہ نیکی کر نے والوں سے محبت کرتا ہے۔
﴿سورۃ البقرۃ، ۱۹۵﴾
مؤمنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول اُن کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہم نےحکم) سن لیا، اور مان لیا‘‘ اور ایسے ہی لو�� ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
﴿سورۃ النور،۵۱﴾
اور جب وہ کوئی بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اُسے ٹال جاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں، اور تمہارے لئے تمہارے اعمال۔ ہم تمہیں سلام کرتے ہیں۔ ہم نادان لوگوں سے اُلجھنا نہیں چاہتے۔
﴿سورۃ القصص، ۵۵﴾
اور اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم انہیں ہنک�� کر ایک ایسے شہر کی طرف لے جاتے ہیں جو (قحط سے) مردہ ہوچکا ہوتا ہے، پھر ہم اس (بارش) کے ذریعے مردہ زمین کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ بس اسی طرح انسانوں کی دوسری زندگی ہوگی۔
(سورۃ فاطر، ٩)
اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ اِن کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور اُنہوں نے اِن کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
﴿سورۃ ھود،۱۰۱﴾
مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں ،اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں،الا یہ کہ ان کے شر سے کس طرح بچاؤ مقصود ہو، اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
(آل عمران : 28)
اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو۔ بیشک اللہ نیکی کر نے والوں سے محبت کرتا ہے۔
﴿سورۃ البقرۃ، ۱۹۵﴾
کیا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلاتا ہے؟ اور اگر وہ چاہتا تو اُسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اُس کے لئے رہنما بنا دیا ہے پھر ہم اُسے تھوڑا تھوڑا کرکے اپنی طرف سمیٹ لیت�� ہیں۔
﴿سورۃ الفرقان، ۴۵-۴۶﴾
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم اُنہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
﴿سورۃ العنکبوت، ۶۹﴾
کہو کہ : میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
﴿سورۃ الفلق﴾
یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تأکید کریں، اور بُرائی سے روکیں۔اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔
﴿سورۃ الحج، ۴۱﴾
یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تأکید کریں، اور بُرائی سے روکیں۔اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔
﴿سورۃ الحج، ۴۱﴾
اے لوگو! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا، تاکہ ہم تمہارے لئے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدّت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھرپور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دُنیا سے اٹھالئے جاتے ہیں، اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اُس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اُس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اُگاتی ہے ۔
﴿سورۃ الحج،۵﴾
اور(اے پیغمبرﷺ!)کسی بھی کام کےبارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا،ہاں (یہ کہو کہ)اللہ چاہے گاتو(کرلوں گا)۔اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنےرب کویادکرلو، اورکہو: مجھےامیدہےکہ میرارب کسی ایسی بات کی طرف میری رہنمائی کردےجوہدایت میں اس سےبھی زیادہ قریب ہو۔
﴿الکہف ۲۳،۲۴﴾