بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل نے پی ٹی آئی کی صفوں میں چھپے غداروں کو کھل کر بے نقاب کردیا 🔥🔥
26 نومبر کو سیکورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہونے والے کارکنوں کے خون کا سودا کرنے والوں کا نام بتادیا. لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 26 نومبر کے شہدا اور زخمیوں کے خون کو دھو کر صاف کر دیا ہے۔ 18 سماعتیں ہوئیں ہر سماعت پر لطیف کھوسہ نے بہانہ بنایا اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اب کیس کی سماعت تھی تو بتایا گیا کہ لطیف کھوسہ چھٹیاں منانے یورپ گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ پارٹی کو یہ لوگ ہائی جیک کرچکے ہیں۔ عمران خان کی بھی زندگی کا سودا یہ لوگ بہت پہلے سے کرچکے ہیں۔ یہ کبھی عمران خان کو باہر نہیں آنے دیں گے۔
ایران کی دوران جنگ آرمی چیف شہید ہوگیے۔
یوکرائن نے دوران جنگ اپنا آج آرمی چیف بدل دیا۔۔
بھارت میں ریٹائر ہوکر دوران جنگ دوسرا نیا آگیا۔
اور یہاںصرف قومی سلامتی کے نام پر 6سال مدت ملازمت توسیع، عہدے،تاحیات استنثیٰ لے لیا جاتا ہے۔
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
عمران خان نے جتنے حکم دینے تھے پارٹی کو، وہ دے چکے ہیں، جنید اکبر کے لیے تو پچھلے سال عمران خان نے ہمارے ہاتھ پیغام بھجوایا تھا کہ جنید اکبر کو کہو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چھوڑے اور سارا فوکس تنظیم سازی پر کرے۔
سہیل آفریدی کے لیے پیغام تھا سٹریٹ موومنٹ شروع کریں، سہیل آفریدی کو بھی عمران خان کی ڈائریکشن آ چکی ہے
آخر عمران خان نے کیا کر دیا ہے؟
اگر قتل بھی کیا ہوتا تو تم سزا دیتے، مگر تم نے قاتلوں کو تو حکومتوں میں بٹھا رکھا ہے-
بتاؤ مرتضیٰ بھٹو کا قاتل کون تھا؟
ماڈل ٹاؤن میں قتلِ عام کیا شہباز شریف اور ثناء اللہ نے نہیں کیا تھا؟
9 مئی 23 کو قتلِ عام کس نے کروایا؟
26 نومبر کو گولیاں کس کے حکم پر چلیں؟
مریدکے میں قتلِ عام کے مجرم کون ہیں؟ آج آزادکشمیر میں کون گولیاں چلوا رہا ہے؟
ساری قوم جانتی ہے کہ جو قاتل ہیں وہ حکومت میں ہیں اور جو زندان میں ہیں وہ ان قاتلوں کے آگے جھکنے سے انکاری ہیں-
چلو زندان میں ڈالی رکھو، مگر ان بے قصور محب وطنوں کو بنیادی انسانی حقوق تو دو؟ ان سے ملاقاتیں کیوں روک رکھی ہیں؟ عمران خان نے آخر ایسا کیا جرم کر دیا ہے؟ یا پھر تم نے کچھ ایسا کر دیا ہے کہ تمہیں وہ چھپانا پڑ رہا ہے؟
کہاں ہے عمران خان ؟
#WhereIsImranKhan
پاکستان کی معیشت اس لئے نہیں سنبھل رہی، کیونکہ جنہوں نے بجٹ پیش کرنا ہے ان کی اپنی زیادہ تر دولت ملک سے باہر ہے-
جنہیں جیل میں ہونا چاہئیے تھا وہ اقتدار سنبھالے بیٹھے ہیں اور جنہیں اقتدار ملنا چاہئیے تھا، وہ جیل میں ہیں-
پھر سب سے اہم عاصم منیر کہ جسے ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا، وہ فیلڈ مارشل بنا بیٹھا ہے-
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
اللہ نہ کرے اطلاع آئے کہ عمران خان کو جیل میں مار دیا گیا ہے تو کیا اس پر بھی تحمل ، حالات کی سنگینی ، علیمہ خانم کی ناسمجھی ، بے نامی اکاونٹس کی زیادتیوں جیسی وضاحتیں آئیں گی؟
عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی پر شدید ترین ردعمل نہ دینا تحریک انصاف کی قیادت کا جرم ہے۔ اس پر سوال کرنا جرم نہیں ہے۔
عاصم منیر نے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 458 اور ڈیزل کی قیمت 520 فی لیٹر کر دی ہے۔
اچھا کیا۔ اب اگلی بار پٹرول 1000 اور ڈیزل 1500 ہونا چاہیے۔
پاکستان کے خچر عوام اسی لائق ہیں۔ اور کرتے رہو غلامی۔
سڑکوں پر نہیں نکلنا۔ گھروں میں ہی سڑ جانا۔
تم عمران خان کے لائق نہیں۔
میری آنکھوں کے سامنے کئی چہرے گھوم رہے ہیں۔ میرے دوست ، رشتہ دار ، انتہائی قریبی عزیز ، جاننے والے ، جو آج ٹوٹی ہوئی کمروں کیساتھ گھروں سے نکلیں گے۔ کئی کئی دفعہ حسرت سے منہ آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھیں گے۔ سارا دن دماغ میں ضرب تقسیم کرتے رہیں گے۔ کچھ نا کچھ قربان کریں گے ، بیٹے کی خواہش ، بیٹی کا لاڈ ، ماں کی دوائی ، بیوی کی الفت کچھ نا کچھ رہ جائے گا انتہائی بنیادی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے۔ محرومیاں بڑھیں گی ، تلخیاں بڑھیں گی ، خواہشیں حسرتوں میں بدلتی جائیں گی۔ میں ان سب سے غائبانہ شرمندہ ہوں۔ مجھے آپ میں سے بہت سوں کی پوسٹس کے نیچے موجود دبی ہوئی سسکیاں دکھائی دے رہی ہیں۔
میں وہ سب محسوس کرسکتا ہوں جو آپ میں سے بہت سارے لوگ بولنا چاہتے ہیں بول نہیں سکتے۔ مجھے پتہ ہے اس مہینے کئی لوگ اپنا ساری زندگی کا بھرم کھو دیں گے۔ کسی سے ادھار مانگ کر ، گھر کی کوئی چیز فروخت کرکے، کسی کے سامنے نظریں نیچی کرکے ، کسی کے تقاضوں اور تیکھی نظروں پر خاموشی اختیار کرکے۔ میں ان سب سے غائبانہ شرمندہ ہوں۔ بھرم کھونا بھی جہنم میں جائے ، نظریں نیچی کرنا بھی خاک ہوجائے ، یہ تو مڈل کلاس کے مسئلے ہوئے۔ انتہائی غریب طبقات؟ جو مانگیں تو کس سے مانگیں گے؟ چھینا جھپٹی کریں گے؟ لڑائی جھگڑا کریں گے؟ بھوکے سوئیں گے؟ کب تک ؟ کتنے دن ؟ میں ان سب سے غائبانہ شرمندہ ہوں۔
میں جس جگہ ہوں یہاں بھی تیل مہنگا ہوا ہے۔ لوگ دہائیاں دے رہے ہیں۔ ہر جگہ موضوع تیل کی قیمت ہے۔ لیکن یہاں انصاف ہے ، برابری ہے ، سماجی تحفظ ہے ، تعلیم اور صحت کی سہولیات ہیں ، سڑکیں صاف ہیں ، میرٹ ہے ، پاکستان جیسی کرپشن نہیں ہے ، ویسی ہٹ دھرمی اور نااہلی نہیں ہے۔ حاکم کو اپنی حکومت کے لالے نہیں پڑے ہوئے۔ عوام کو اسکی حدود کا بھی علم ہے اور اپنی طاقت کا بھی۔ آپ سے تو سب کچھ چھن گیا ہے۔ یہاں دو سو ارب ڈالرز کی بزنس ایمپائر کھڑی کرنے والا مافیا ہے۔ چند دن کی جھڑپوں کو جواز بنا کر سو فیصد تنخواہ بڑھانے والا مافیا ہے۔ کروڑوں اربوں روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج لینے والا مافیا ہے۔ جو لوٹ ہمارے ساتھ مچائی گئی ہے وہ تو کہیں اور نہیں ہے۔
تیل بھلے سے مہنگا ہوجائے ، پوری دنیا میں مہنگا ہورہا ہے ، لیکن ملک میں انصاف تو ہو ، امن تو ہو ، برابری تو ہو ، جمہوریت تو ہو ، نااہلی اور کرپشن تو نا ہو ، عیاشیاں اور پروٹوکول تو نا ہوں ، کئی کئی ارب کا ریٹائرمنٹ پیکج تو نا ہو ، پاگل کتوں جیسی ذہنیت تو اس ملک پر مسلط نا ہو۔
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/fjxBaqJ87B
@SabeeKazmi786 ایران نے پر امن مزاحمت نہیں کی ہے ورنہ اس کا حال بھی عراق جیسا ہوتا۔ ایران نے بھرپور طاقت اور دانشمندی سے جواب دیا ہے۔ اور یہی واحد حل ہے۔
@JimmyVirkk جس نے بھی خان کی حکومت گرانے میں سہولت کاری کری تھی انکی تباہی یقینی ہے۔ دبئی اس میں ایک پارٹنر تھا۔ اس کی تباہی دیکھ کے دل سے دعا نکلتی ہے کہ جو کچھ انہوں نے ہمارے ملک اور خان کیساتھ کیا انکو پورا پورا بدلہ ملے۔
برائے یاددہانی
پاک فوج نے تحریک لبیک کے فلسطین مارچ پر فائرنگ کی
پاکستان میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر فوج تشدد کرتی ہے
پاک فوج کا کٹھ پتلی وزیراعظم غزہ پیس بورڈ کا حصہ ہے
پاک فوج کے اثاثے اسرائیل سے تعلقات کی لابئنگ کرتے ہیں
افغان جہاد نے افغان قوم کی نسلیں تباہ کر دی اور پاکستان میں اس جہاد نے لوگوں کی نسلیں ارب پتی بنا دی۔
2022 میں خواجہ آصف یہ سب کس کو بول رہے تھے؟ جہاد سے کون ارب پتی بنا؟
@KhawajaMAsif
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔